تبصرے

  • ( ١٦٤٩ء، خاور نامہ، ٣٦٧ ) ویسے اردو لغٹ تاریخی اصول پر میں خر بمعنی بڑا بھی درج ہے اور حوالہ بھی ساتھ ہے
    میں خربوزہ AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ October 5
  • اچھا موضوع چھیڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلو کرتے ہیں مل جل کے غور
    میں قندہار AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ February 9
  • یہ بھی تو ممکن ہے کہ جب یہ شعبہ بیٹیوں کے پاس چلا گیا یعنی ان کو سونپ دیا گیا تو اس کے بعد ہر بچی دختر ہی کہلائے جانے لگی
    میں دوشیزہ AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ March 2018
  • پلیٹس نے بھی دوشیدن ہی مادہ لکھا ہے
    میں دوشیزہ AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ March 2018
  • مولانا محمد حسین آزاد کی رائے میں بھی دوشیزہ کا مطلب دودھ دوہنے والی ہے۔۔۔۔۔۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ دوشیدن قدیم فارسی میں دو ختن تھا جس کا مطلب دودھ دوہنا ہے۔۔۔۔۔۔سنسکرت میں بیٹی کے لئے"دوھ دھری"استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب"دودھ دوہنے و…
    میں دوشیزہ AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ March 2018
  • ظفر بھائی۔۔۔۔۔۔دختر کا تو آپ نے بالکل درست لکھا۔۔۔۔۔احمد دین کا نظریہ بھی یہی ہے۔۔۔۔۔۔پہلے جب دختر پر بحث ہو رہی تھی تب بھائی شاہین نے دختر اور دوشیزہ کا ایک ہی مادہ بتایا تھا یعنی دوشیدن ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال کوش کرتے ہیں اس لفظ کے لئے
    میں دوشیزہ AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ March 2018
  • بھائی بات تو سیدھی سی تھی جسے بہت مشکل بنا دیا یار لوگوں نے۔۔۔۔۔۔۔۔فارسی میں اسم ظرف بنانے کے لئے کچھ لاحقے لگائے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔جیسے کہ خانہ، دان، دانی، زار، شن، بان، ستان، سار، کدہ، سرا، آباد، بار، لاخ، گاہ وغیرہ جیسے قید خانہ، قلم دان، سرمہ دانی،…
    میں لفط مچھر دانی AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ January 2018
  • درست کہا آپ نے
    میں آماج گاہ AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ January 2018
  • اس کے علاوہ آماج گاہ کا مطلب ایسا میدان بھی تو ہے جس میں اجتماع ہو۔۔۔۔۔۔اکٹھ ہو۔۔۔۔۔۔۔اس لحاظ سے یہ کثرت والی جگہ کے معانی دے سکتا ہے
    میں آماج گاہ AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ January 2018
  • ظفر بھائی جب ہم آماج گاہ کو کثرت والی جگہ کے معانی میں برت رہے ہوتے ہیں تب بھی در پردہ مفہوم تو وہی بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔نشانہ والی جگہ۔۔۔۔۔۔۔جیسے پاکستان مسائل کی آماج گاہ بن چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی مسائل کا نشانہ بن چکا ہے۔۔۔۔۔۔مسائل آ آ ٹکراتے ہیں
    میں آماج گاہ AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ January 2018
  • یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چپڑ کا لفظ اصل میں۔۔۔۔چُپڑ۔۔۔۔۔۔۔(چ پر پیش)۔۔۔۔۔۔۔ سے ماخذ ہو جس کا مطلب کسی چیز پر گھی ،تیل وغیرہ لگانا ہے۔۔۔۔خوشامد کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ چپڑ قناتیہ میں خوشامد کا عنصر بھی ہوتا ہے،اس وجہ سے یہ لفظ بنا۔۔۔۔۔اس کے ساتھ قنات کیسے لگا،یہ تح…
    میں چپڑقناتیہ AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ January 2018
  • ہوسکتا ہے قنات کا لفظ کسی واقعہ کے بعد ساتھ جڑا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے لیموں نچوڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں چپڑقناتیہ AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ January 2018
  • آپ کا خیال قرین از قیاس محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔پلیٹس میں بھی لفظ چنور کے معانی مکئی کا پھول(اس کی شکل بھی پنکھا نما ہی ہوتی ہے،جھالر دار ہوتا ہے)....مکھیاں اڑانا وغیرہ درج ہے۔۔۔۔۔اسی طرح چمر بمعانی مکھیاں اڑانے والی دم کے طور پر درج ہے۔۔۔۔۔۔
    میں چَوری AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ January 2018
  • شاہین صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہفتے میں سات دنوں کا تصور بہت پرانا ہے۔بابلیوں میں چھے کے عدد کی بہت زیادہ اہمیت تھی،اس وجہ سے انہوں نے چھے دن کام اور ساتویں دن آرام کرنے کا تصور دیا۔پھر یہودیوں میں نظریہ تھا کہ کائنات کی تشکیل چھے دن میں کی گئی اور ساتویں دن …
  • پٹھانوں کی تاریخ پر کوئی مستند کتاب پچھلی چند صدیوں میں نھیں لکھی گئی۔ دور حاضر میں یا پچھلے پچاس سال میں اگر کچھ کتابیں لکھی گئی ھیں تو ان قلم کاروں نے اپنی ذاتی راے یا ڈھکوسلے اور سنی سنائی بات پر اکتفا کیا ھے ۔کسی تاریخی کتب کا حوالہ نھیں دیا.نعم…
    میں لفظ ’پٹھان‘ کا ماخذ AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ March 2017
  • آپ سوال پوچھیں۔۔۔۔۔۔آپ کو کوئی نہ کوئی رہنمائی ضرور ملے گی
    میں افہام و تفہیم AhmadSajjad کی طرف سے تبصرہ February 2017
  • حالانکہ خواتین کویہ نہیں معلوم کہ جنابہ کا مطلب ناپاک ہوتا ہے۔۔۔۔۔☺☺
  • شاہین بھائی نے عمدہ معلومات دی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اسی سے ۔۔۔۔۔۔۔ تقریب کے موقع پر۔۔۔۔۔۔یاد آ گیا۔تقریب کے لفظ میں موقع کا مفہوم شامل ہے،ہم تقریب میں یا تقریب پر کہہ سکتے ہیں۔لفظ جدت کے ساتھ نئی کا لفظ لگانا غلط ہے کیونکہ جدت میں نئی کا مفہوم شامل ہ…
  • مصروف کو ہی دیکھ لیں،عربی میں تو یہ اسم مفعول ہے اور اس کے معنی ہیں"جس چیز کو خرچ کیا جائے۔۔۔۔۔اس کا مادہ ص ر ف ہے،اسی سے صارف،صرف،صرفہ،مصرف،مصارف،تصریف وغیرہ بنے مگر جب یہ اردو میں آیا تو مشغول،کام میں لگا ہوا،منہمک ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
  • اس کے علاوہ امیر اللغات 1891میں بھی یہ لفظ موجود نہیں۔۔۔۔۔۔لغاتِ کشوری1923میں بھی ندارد۔۔۔۔۔۔۔جامع اللغات 1908میں بھی غائب ہے۔۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیرِ اہتمام فرانسس جانسن کی فارسی،عربی اور انگلش کی لغت کے 1852کے ایڈیشن میں بھی یہ …
  • میرا خیال ہے کہ ہم اس پوانٹ تک نہیں پہنچ سکتے کہ استحصال کے معانی کب تبدیل ہوئے اور اس بات پر زیادہ فوکس کرنا بھی نہیں چاہیے
  • شاہین صاحب درست فرمایا۔۔۔۔۔۔مجھے مغالطہ فیروز اللغاتکی وجہ سے ہوا،ان کی اردو فارسی لغت میں یہ لفظ شامل ہے۔البتہ جب میں نے دوسرے حوالہ جات دیکھے تو یہ لفظ عربی ہی ہے۔۔۔۔معذرت خواہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔آپ نے مادہ بھی درست لکھا ہے
  • جی ہاں معاملہ کچھ ایسے ہی ہے جیسا آپ نے بیان کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ عربی میں حصل سے مشتق ہے،جس کے معنی حاصل کرنا کے ہیں،اسی قبیل کے دوسرے الفاظ حاصل،حصول،محصول،تحصیل،محاصل وغیرہ ہیں۔۔۔۔۔۔اردو میں استحصال کا مطلب زبردستی حاصل کرنا کے معنوں میں رائج ہو…
  • اگر اردو زبان میں تعصب کی بات کریں تو عربوں کے احساسِ تفاخر کے باعث لفظ عجمی وجود میں آیا کہ انہوں نے عربی کی فصاحت اور بلاغت کے زعم میں باقی اقوام کو گونگا ہی کہہ ڈالا۔۔۔۔اسی طرح آریہ خود کو تۃذیب کا ضامن سمجھتے تھے،انہوں نے غیر آریہ اقوام کو "…
  • ظفر صاحب۔۔۔بربریت والے معاملے میں شاہین بھائ والی رائے میں نے بھی پڑھی ہے۔۔۔۔۔۔اسی طرح جیسے وہ فرما رہے ہیں
  • اور بربریت کا لفظ خود اردو والوں کا ظلم ہے۔۔۔۔۔۔مغرب نے تواصل میں بربرازم بنایا تھاجو اردو میں بربریت بن کر رائج ہو چلا
  • اسی طرح عربی میں شیخ کے اصل معنی بوڑھا آدمی کے ہیں۔۔۔۔۔اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ شیخی بگھارنا یا اس کے مشتق اصل میں تعصب کی وجہ سے بنائے گئے
  • شاہین صاحب۔۔۔۔۔۔دلال تو لفظ کے غلط استعمال کے زمرے میں آئے گا۔۔۔۔اس کے معانی تبدیل ہونے میں کوئی تعصب کا دخل نہیں۔۔۔۔۔
  • دوسری غلطی نظر نہیں آ رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید اجازت کے ساتھ لینا میں کچھ مسئلہ ہے؟
  • بہت خوب شاہین صاحب