آماج گاہ

آماج گاہ کو ایسے معانی میں برتنے کا چلن عام ہے

اسلام کی آماج گاہ میں رہنے والوں کے نام

یا پھر

لیاری مسائل کی آماج گاہ بن گیا

وغیرہ

اصل میں آماج مٹی کے اس ٹیلے کو کہتے ہیں جس کے اوپر ہدف نصب کیا جاتا ہے، جسے تیر سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مولانا ظفر علی خاں کے اس شعر سے مطلب واضح ہو جائے گا

ہر برق جو کوندی ہے گری ہے وہ تمہیں پر
ہر فتنہ جب اٹھتا ہے تمہیں بنتے ہو آماج

یہاں آماج نشانہ کے معنی میں آیا ہے۔

مجازاً آماج گاہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں نشانہ بازی یا چاند ماری کی مشق کی جاتی ہے۔ انگریزی میں اسے فائرنگ رینج کہیں گے۔ ظاہر ہے کہ
اس جگہ جانا خطرناک ہوتا ہے کیوں کہ آپ بھی تیر کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

نوح ناروی کا شعر دیکھیے

آماج گاہ تیر ستم کون ہم کہ آپ
پھر پوچھتے ہیں آپ سے ہم کون ہم کہ آپ

لیکن اتفاق سے اصل معنی کہیں پیچھے چلے گئے اور لوگوں نے آماج گاہ کو
کسی بھی چیز کی کثرت والی جگہ کے مطلب میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچی کہ اصل معنی پسِ پشت چلے گئے ہیں۔

تبصرے

  • ظفر بھائی جب ہم آماج گاہ کو کثرت والی جگہ کے معانی میں برت رہے ہوتے ہیں تب بھی در پردہ مفہوم تو وہی بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔نشانہ والی جگہ۔۔۔۔۔۔۔جیسے پاکستان مسائل کی آماج گاہ بن چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی مسائل کا نشانہ بن چکا ہے۔۔۔۔۔۔مسائل آ آ ٹکراتے ہیں

  • January 2018 کو ترمیم کیا

    اس کے علاوہ آماج گاہ کا مطلب ایسا میدان بھی تو ہے جس میں اجتماع ہو۔۔۔۔۔۔اکٹھ ہو۔۔۔۔۔۔۔اس لحاظ سے یہ کثرت والی جگہ کے معانی دے سکتا ہے

  • احمد سجاد صاحب، میرا مقصد یہی تھا کہ آماج گاہ کا اصل مطلب نشانے والی جگہ ہے، اجماع اور اکٹھ والا مطلب بعد میں زبان میں در آیا ہے۔

    اس کی ’عمدہ ترین‘ مثال پاکستان کو اسلام کی آماج گاہ قرار دینا ہے :) ۔۔۔

  • درست کہا آپ نے

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔