The way you access our dictionary content is changing.

As part of the evolution of the Oxford Global Languages (OGL) programme, we are now focussing on making our data available for digital applications, which enables a greater reach in delivering and embedding our language data in the daily lives of people and providing more immediate access and better representation for them and their language.

Because of this, we have made the decision to close our dictionary websites.
Our Oxford Urdu living dictionary site closed on 31st March 2020, and this forum closed with it.

We would like to warmly thank everyone for your participation and support throughout these years – we hope that this forum, and the dictionary site, have been useful
You were instrumental in making the Oxford Global Languages initiative a success!

Find out more about what the future holds for OGL:
https://languages.oup.com/oxford-global-languages/

آماج گاہ

آماج گاہ کو ایسے معانی میں برتنے کا چلن عام ہے

اسلام کی آماج گاہ میں رہنے والوں کے نام

یا پھر

لیاری مسائل کی آماج گاہ بن گیا

وغیرہ

اصل میں آماج مٹی کے اس ٹیلے کو کہتے ہیں جس کے اوپر ہدف نصب کیا جاتا ہے، جسے تیر سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مولانا ظفر علی خاں کے اس شعر سے مطلب واضح ہو جائے گا

ہر برق جو کوندی ہے گری ہے وہ تمہیں پر
ہر فتنہ جب اٹھتا ہے تمہیں بنتے ہو آماج

یہاں آماج نشانہ کے معنی میں آیا ہے۔

مجازاً آماج گاہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں نشانہ بازی یا چاند ماری کی مشق کی جاتی ہے۔ انگریزی میں اسے فائرنگ رینج کہیں گے۔ ظاہر ہے کہ
اس جگہ جانا خطرناک ہوتا ہے کیوں کہ آپ بھی تیر کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

نوح ناروی کا شعر دیکھیے

آماج گاہ تیر ستم کون ہم کہ آپ
پھر پوچھتے ہیں آپ سے ہم کون ہم کہ آپ

لیکن اتفاق سے اصل معنی کہیں پیچھے چلے گئے اور لوگوں نے آماج گاہ کو
کسی بھی چیز کی کثرت والی جگہ کے مطلب میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچی کہ اصل معنی پسِ پشت چلے گئے ہیں۔

تبصرے

  • ظفر بھائی جب ہم آماج گاہ کو کثرت والی جگہ کے معانی میں برت رہے ہوتے ہیں تب بھی در پردہ مفہوم تو وہی بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔نشانہ والی جگہ۔۔۔۔۔۔۔جیسے پاکستان مسائل کی آماج گاہ بن چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی مسائل کا نشانہ بن چکا ہے۔۔۔۔۔۔مسائل آ آ ٹکراتے ہیں

  • January 2018 کو ترمیم کیا

    اس کے علاوہ آماج گاہ کا مطلب ایسا میدان بھی تو ہے جس میں اجتماع ہو۔۔۔۔۔۔اکٹھ ہو۔۔۔۔۔۔۔اس لحاظ سے یہ کثرت والی جگہ کے معانی دے سکتا ہے

  • احمد سجاد صاحب، میرا مقصد یہی تھا کہ آماج گاہ کا اصل مطلب نشانے والی جگہ ہے، اجماع اور اکٹھ والا مطلب بعد میں زبان میں در آیا ہے۔

    اس کی ’عمدہ ترین‘ مثال پاکستان کو اسلام کی آماج گاہ قرار دینا ہے :) ۔۔۔

  • درست کہا آپ نے

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔