چَوری

ایک صاحب نے ای میل کے ذریعے لفظ چَوری کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ یہ لفظ اوکسفرڈ اردو لغت میں شامل نہیں تھا، البتہ تھوڑی چھان بین سے پتہ چلا کہ یہ دراصل لفظ چنور یا چنوری کی ایک شکل ہے۔

چنور یا چنوری سے مراد گھوڑے یا پھر مور کی دم سے بنا ہوا دستی پنکھا ہے جسے پرانے زمانے میں جھل کر گرمیوں کی شدت کم کی جاتی تھی۔ یہ غالباً مورچھل کی قسم کی کوئی چیز رہی ہو گی۔

اردو لغت تاریخی اصول پر میں چوری، چنور اور چنوری درج ہیں، اور چنور بردار بھی شامل ہے۔ یہ وہ ملازم ہوا کرتا تھا جس کا کام چوری ہلا کر بادشاہ سلامت یا نواب صاحب کو گرمی کی شدت سے نجات دلانا ہوتا تھا۔

لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہ لفظ آیا کہاں سے؟

سنسکرت میں ایک لفظ ملتا ہے، چمر، جس کا مطلب ہے یاک۔ شمالی پہاڑی علاقوں میں پائے جانے والے اس جانور کی دم بہت گھنے بالوں سے ڈھکی ہوتی ہے۔ قیاس کہتا ہے کہ ابتدا میں اسی جانور کی دم کو بطور پنکھا استعمال کیا جاتا ہو گا، جس کی ایک دلیل یہ ہے کہ پلیٹس میں چوری کے تحت لکھا ہے

A chowrie, the bushy tail of the Bos grunniens used as a fly-flap or fan

Bos grunniens
یاک ہی کا سائنسی نام ہے۔

گمان اغلب ہے کہ یہی چمر بعد میں چنور، اور پھر چور اور پھر چوری بن گیا۔

تبصرے

  • آپ کا خیال قرین از قیاس محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔پلیٹس میں بھی لفظ چنور کے معانی مکئی کا پھول(اس کی شکل بھی پنکھا نما ہی ہوتی ہے،جھالر دار ہوتا ہے)....مکھیاں اڑانا وغیرہ درج ہے۔۔۔۔۔اسی طرح چمر بمعانی مکھیاں اڑانے والی دم کے طور پر درج ہے۔۔۔۔۔۔

  • میں نے بھی پلیٹس میں چنور کے تحت بیان پڑھا ہے، اس پر مجھے تھوڑی حیرت ہوئی۔ وہ اس واسطے کہ مکئی تو ہندوستان میں کہیں جا کر 16ویں صدی میں پرتگالیوں کی وساطت سے متعارف ہوئی۔ پھر اس کے پھول کے لیے سنسکرت کا لفظ کیسے آ گیا کیوں کہ اس وقت تک سنسکرت تو یقیناً زندہ زبان نہیں رہی تھی۔

    دوسری طرف اسی لفظ کا ابتدائی مطلب وہی درج ہے جو میں نے اوپر لکھا تھا، یعنی یاک۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔