اردو اور ترکی زبان کا تعلق

ویسے تو اردو کا نام ہی ترکی کا لفظ ہے، اور اس کے علاوہ بھی اردو میں درجنوں ترکی الفاظ مستعمل ہیں، جیسے بیگم، آغا، یورش، منجنیق، خاتون، تمغا، اتالیق، وغیرہ۔ لیکن ایک دلچسپ لفظ پیشِ خدمت ہے

قراقرم

(اصل لفظ قاراقرم)

قارا کا مطلب ترکی میں ہے کالا ہے اور قرم بجری کو کہتے ہیں

عثمانی دور میں ایک وزیرِ اعظم قارا مصطفیٰ کے نام سے گزرا ہے، یعنی کالا مصطفیٰ۔ اسی طرح ترکی میں بحرِ اسود کو قارا دنیز کہتے ہیں۔

آپ نے دلچسپ مماثلت پر غور کیا؟

قارا اور کالا

اردو زبانوں کے ہندیورپی خاندان سے تعلق رکھتی ہے جب کہ ترکی زبان کا تعلق التائی خاندان سے ہے، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ ایک زبان نے دوسری سے لفظ لے لیا ہو گا۔

اور اگر یہ مماثلت اتفاقی ہے تو بےحد حیرت انگیز ہے۔

تبصرے

  • مزید یہ کہ اردو/ہندی میں کالا کے ساتھ کارا بھی مستعمل ہے، مثلاً لتا کا نغمہ

    گھر گھر آئی کاری بدریا

    یا پھر طلعت محمود کا

    گھر گھر آئے بدروا کارے

  • قبلہ ظفر صاحب کا کہنا درست ہے۔ لیکن میں ناچیز مماثلت کی ایک اور وجہ بیان کرتا چلوں۔ در اصل ہر دو زبانوں نے فارسی اور عربی سے بیشمار استفادہ حاصل کیا ہے ۔۔۔ مزید لطف یہ کہ ہماری پیاری
    اردو لسان ۔۔۔ نہایت ہی بے حیائی کیساتھ ، خواہ کوئی بھی زبان ہو، اسکے خزانے پر ڈاکہ ڈالنے میں درجہ اول کی ماہر ہے۔ اور دراصل، اسی صفت میں اسکی مقبولیت اور بقأ کا راز مضمر ہے

    چچا غالب نے سرِ دیوان جس شعر سے آغاز کیا ہے، اسکو ذرا سی ترمیم کے بعد عرض کرتا ہوں
    نقش فریادی ہے کسکی شوخئے تحریر کا
    مسروق ہیں سب پیرہن، ہر پیکرِ الفاظ کا
    دیگر یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ میں ۔۔۔ اردو، ترکی ۔۔۔ لغت مرتب کر رہا ہوں۔ اگر کسی دوست کو اس عنوان سے شغف ہے، تو ارتباط چشمِ ما روشن، دلِ ما شاد
    والسلام
    :|

  • لیکن حضور، بات کالا/کارا کی ہو رہی تھی، اس سے عربی و فارسی کا کیا لینا دینا؟

    دوسری بات یہ کہ میرے خیال سے اردو بےچاری بلاوجہ بدنام ہے کہ ہر زبان سے لفظ اٹھا لیتی ہے۔ یہ کام صرف اردو نہیں، دنیا کی ہر زندہ زبان کرتی ہے۔ انگریزی جیسی دبنگ زبان کی لغت دیکھیں تو 99 فیصد الفاظ دوسری زبانوں کے ملیں گے۔ کوئی ایسی زبان چراغ لے کر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی جو دوسری زبانوں سے الفاظ قبول نہیں کرتی۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔