اردو اور سرائیکی کا لسانی اشتراک

اردو اور سرائیکی کی بیشتر اقدار مشترک ہیں کیونکہ یہ قریب قریب ایک ہی ماحول میں بڑھی پھلی‘ پھولی ہیں او رایک طرح کے عوامل سے متاثر ہوئی ہیں ان میں لسانی و لغوی مماثلت کی کئی تہیں ہیں جو آریاؤں سے قبل کے ادوار کی ہیں۔ اس اشتراک کی ایک بڑی وجہ دریائے سندھ کو بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالحق نے ’’ملتانی زبان اور اس کا اردو سے تعلق‘‘ میں اس حوالے سے تفصیلی بحث کی ہے جس سے درجہ ذیل نتائج اخذ کئے گئے ہیں

تبصرے

  • اردو اور سرائیکی زبان لسانی پیمانے کے مطابق باہم مشترک ہیں جس کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں
    ۔ملتانی (سرائیکی) زبان کا اردو کے ساتھ جو بنیادی تعلق ہے وہ یہ ہے کہ جن حالات کے ماتحت اردو معرض وجود میں آئی انہی حالات کے زیر اثر ملتانی (سرائیکی )زبان نے بھی جنم لیا۔
    ۔ملتان زبان (سرائیکی) کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہی کہ جوں ہی عرب مسلمانوں نے اور ان کے فارسی‘ نزکی اور بلوچی زبانیں بولنے والے عساکر نے وادئ سندھ میں قدم رکھا‘ ایک نئی زبان کی بنیاد پڑنا شروع ہو گئی۔
    ۔ملتانی(سرائیکی) اور اردو کے تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہمیں خارجی شواہد کے ساتھ ساتھ داخلی شواہد کا جائزہ لینا ہوگا اس سلسلے میں ڈاکٹر مہر عبدالحق نے حافظ محمود شیرانی کی رائے بھی درج کی ہے کہ:
    ’’ اردو اپنی حرف و نحو میں ملتانی زبان کے بہت قریب ہے۔ دونون میں اسماء و افعال کے آخر میں الف آتا ہے دونوں زبانوں میں جمع کا طریقہ مشترک ہے یہاں تک کہ دونوں میں جمع کے جملوں میں نہ صرف جملوں کے اہم اجزاء بلکہ ان کے والبات و ملحقات پر بھی ایک ہی قاعدہ جاری ہے دونوں زبانیں تذکیر و تانیث کے قواعد افعال مرکبہ و توابع میں متحدہ ہیں‘‘۔
    اردو اور سرائیکی زبان لسانی پیمانے کے مطابق باہم مشترک ہیں جس کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:
    ۔صوتی مماثلت زبان میں موجود آوازوں کا مطالعہ
    ۔فونیمیات آوازوں کی امتیازی اکائیوں کا مطالعہ
    ۔مارفیمی مماثلت زبان کی بامعنی چھوٹی چھوٹی اکائیوں کا مطالعہ
    ۔نحوی مماثلت زبان کے جملوں کی ساخت اور ترتیب کا مطالعہ
    (Borrowing)۔عاریت، الفاظ ادھار لینے کا عمل

  • عہد حاضر میں پاکستانی زبانیں باالخصوص سرائیکی اور اردو اپنی علیحدہ علیحدہ شناخت کے باوجود‘ لفظی‘ نحوی‘ تلفظ‘ ساخت اور صدیوں کی تہذیبی ثقافتی ہم آہنگی کے سبب بہت زیادہ مماثلت رکھتی ہیں۔ اگر چہ صوتیات کے پہلو سے زیادہ تر حروف سرائیکی اردو زبانوں میں مشترک ہیں لیکن چند حروف صوت مختلف ہیں جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیسر شوکت مُغل لکھتے ہیں
    ’’سندھی اور سرائیکی دونوں زبانوں میں‘ گ‘ ڈ۔ب۔ ج کے حروف کی صوتیات ایک ہیں جو انتہائی منفرد خوبی ہے ان حروف کی ادائیگی اہل زبان کے علاوہ دیگر بولنے والوں کے لیے مشکل ہی نہیں قریب قریب ناممکن ہے‘‘۔

  • سب سے پہلے عرض ہے کہ یہ بہت بڑا مغالطہ ہے کہ مسلمانوں کے ہندوستان میں ورودِ مسعود کے ساتھ ہی ہر طرف زبانیں جنگلی کھمیبوں کی طرح نکل آئیں۔
    بات یہ ہے کہ اردو، ملتانی، پنجابی، وغیرہ پہلے سے یہاں موجود تھیں، فارسی بولنے والوں سے ان کا تعامل ہوا تو ان مقامی زبانوں نے اوپر اوپر سے چند الفاظ ادھار لے لیے، اللہ اللہ خیر سلا۔

    یہاں کوئی نئی زبان وجود میں نہیں آئی اور نہ آ سکتی تھی۔

    یہی عمل عربوں کے ایران میں قدم رنجہ فرمانے سے بھی ہوا۔ فارسی نے عربی سے الفاظ (زیاد تر اسما)مستعار لیے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ کوئی نہیں کہتا کہ عربی کے زیرِ اثر ایران میں ایک نئی زبان وجود میں آئی۔

    یہی تاریخ انیسویں اور بیسویں صدی میں بھی دہرائی گئی۔ ہندوستانی زبانوں پر انگریزی کا اثر ہوا اور مقامی زبانوں نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں الفاظ مقتدر زبان سے قبول کیے۔ لیکن میں نے آج تک کسی کے منھ سے نہیں سنا کہ ہندوستان میں انگریزوں کے آنے کے بعد جگہ جگہ نئی زبانیں بنی ہیں۔

    اصل میں ہوا کچھ یوں کہ سرائیکی، پنجابی، قدیم اردو وغیرہ مسلموں کی آمد سے پہلے ڈاکیومینٹڈ نہیں تھیں، نہ ہی ان کا کوئی مخصوص رسم الخط تھا۔ زوال آمادہ شمالی ہندوستان چند درباروں کو چھوڑ کر بڑی حد تا ناخواندہ تھا اور یہاں گنی چنی زبانیں ہی لکھی جاتی تھیں جن میں سنسکرت اور پالی شامل ہیں، بقیہ عوامی زبانوں کو کسی نے ضابطۂ تحریر میں لانے کی زحمت ہی نہیں کی۔

    مسلمانوں کی آمد کے بعد جب یہ زبانیں لکھی جانے لگیں تو اچانک ایسا محسوس ہوا کہ جگہ جگہ پھوڑے پھنسیوں کی طرح نئی زبانیں نکل آئی ہیں، حالانکہ جو چیز وجود میں آئی تھی وہ صرف ان زبانوں کی تحریر تھی۔

    ورنہ یہ سب زبانیں ہزاروں برس پرانی ہیں۔

    جیسے انسان آخرت میں اپنی ماؤں کے ناموں سے پہچانا جائے گا، ویسے ہی زبانوں کی شناخت ان کی گرامر سے ہوتی ہے۔ ایک ہزار سال کی بالادستی کے باوجود فارسی اردو گرامر کے کسی اصول کا بال تک بیکا نہیں کر سکی۔ صرف لون ورڈز لے لیے، اس سے کیا ہوتا ہے، دنیا کی ہر زندہ زبان ایسا ہی کرتی ہے۔

    دوسری بات یہ ہے کہ صرف سرائیکی - اردو تک محدود رہنے سے مسئلہ سمجھ میں نہیں آئے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ اٹک سے چلنا شروع کر دیجیے اور بنگال تک چلے جائیے، آپ کو ایک تسلسل نظر آئے گا، زبانیں ہر پانچ دس میل پر تھوڑی تھوڑی بدلتی لہجوں، بولیوں اور نامحسوس طریقے سے الگ زبانوں میں ڈھلتی سنائی دیں گی۔ ہندکو سے لے کر لہندا، راجھستانی سے لے کر مارواڑی، بھاکا سے لے کر بھوج پوری، اور بہاری سے لے کر بنگالی ایک ہی خانوادے کی زائیدہ زبانیں ہیں جن کی صوتیات اور لفظیات میں وقت اور فاصلے کی حدبندی کی وجہ سے تھوڑا تھوڑا فرق آتا چلا گیا لیکن ان کی گرامر آج بھی ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے۔

  • آپ نے درست فرمایا جناب ہم بات لسانی رشتے کی کر رہے ہیں جو اردو کا کسی بھی زبان کے ساتھ ہو سکتا ہے چاہے وہ سرائیکی ہو یا پنجابی یا ہندکو وغیرہ

  • October 2017 کو ترمیم کیا

    حضور، آپ نے شیرانی صاحب کی ’پنجاب میں اردو‘ تو ضرور پڑھ رکھی ہو گی۔ اصل میں یہ سارا خلط مبحث اسی کتاب نے پیدا کیا ہے۔ کوئی کہتا ہے اردو کس سے نکلی ہے کوئی کس سے نکالتا ہے۔

  • جی میں نے پنجاب میں اردو پڑھی ہے اور شیرانی صاحب کے استدلال سے کئی جگہ متفق بھی ہوں

  • کیا آپ اس سے بھی سہمت ہیں کہ اردو لاہور میں بنی اور مسلمان لشکری اسے کندھوں پر اٹھا کر دہلی لے گئے؟

  • اردو زبان ہے کوئی مٹکا نہیں جسے کسی ایک مقام کے چاک پر گھڑا گیا ہو۔لیکن اس زبان کے خد و خال ضرور پنجاب میں واضح ہوئے ۔

  • یہی تو مسئلہ ہے حضور جس کی طرف میں پہلے اشارہ کر رہا تھا۔ جب اٹک سے برہم پتر تک ایک ہی تسلسل سنائی دیتا ہے تو پھر صرف پنجاب پر توجہ مرکوز کرنا کچھ جی کو بھاتا نہیں۔

  • مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس زبان کو اٹک سے برہم پتر تک اردو نہیں کہا جاتا۔ اردو خالص جس زبان کو کہتے ہیں وہ دلی کے ٹکسال میں بنی اور دلی ابھی انگریز کے وقت تک پنجاب میں شامل رہی ہے۔ آپ کا اٹک اور پشاور بھی پنجاب کا حصہ رہے ہیں۔ پنجاب کہنے سے موجودہ مغربی پنجاب مراد نہیں ہوتا جناب۔

  • November 2017 کو ترمیم کیا

    عالی جناب، میں نے یہ نہیں کہا کہ اٹک سے برہم پتر تک بولے جانے والی ہر زبان اردو ہے۔ یہ ایک نہیں بلکہ درجنوں زبانیں ہیں۔ اوپر میں ان میں سے کئی کے نام بھی دے چکا ہوں، دہرانا سعیِ لاحاصل ہو گا۔ پنجابی اس رنگارنگ لسانی دھنک کا ایک رنگ ہے۔ ان تمام زبانوں میں لسانی اشتراک ڈھونڈا جا سکتا ہے، جس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک زبان دوسری سے نکلی ہے۔

    یہ بات بھی محلِ نظر ہے کہ دہلی پنجاب کا حصہ رہی ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے، اصلیت اس کے کچھ کچھ الٹ ہے۔

  • حضور آپ نے بجا فرمایا۔ ہر بولی کا رنگ ڈھنگ الگ ہے نام پہچھان بھی الگ ہے، لیکن ایک مشترک ماضی ضرور ہے جو قوائد کی شکل میں ان تمام زبانوں میں یکسانی کا عنصر پیدا کرتا ہے

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔