ہراس، ہراساں، ہراسانی

آج کل خبروں میں مختلف حوالوں سے جنسی ہراسانی کا تذکرہ عام ہے۔ یہ لفظ انگریزی کے
harass
سے صوتی اور معنوی اعتبار سےبہت قریب ہے۔ لیکن اس کے اشتقاق کا معاملہ واضح نہیں ہے البتہ یہ واضح ہے کہ یہ لفظ ہندیورپی ہے۔

اب مائیک آپ کے حوالے۔

تبصرے

  • انگریزی میں اس لفظ کا ماخذ واضح نہیں ہے۔ اوکسفرڈ انگلش ڈکشنری (کبیر) کہتی ہے کہ شاید یہ قدیم فرانسیسی کے لفظ
    harer
    سے نکلا ہو جس کا مطلب کتے کو شہ دینا ہوتا ہے۔

    دوسری طرف اردو میں اس کا قارورہ سنسکرت کے
    हृष्
    یعنی ہرش سے ملایا گیا ہے، لیکن ہرش کے معنی خوش ہونے کے ہیں۔ ہاں ایک مطلب اس کا خوف کے مارے بالوں کا کھڑا ہو جانا بھی ہے۔

    ان شواہد کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاید یہ دونوں الفاظ الگ الگ ہیں اور محض اتفاقی طور پر ان کا مطلب ایک سا ہو گیا ہے۔

    یہ بات لسانیات کی دنیا میں کچھ ایسی انوٹھی بھی نہیں۔

  • اب ہراسگی بھی لکھا اور بولا جارہا ہے۔

  • ہراسگی تو بالکل غلط ہے، ہراسانی کی موجودگی میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔

    یہ ایسے ہی ہے جیسے حیرانی کی بجائے حیرانگی، یا پھر (اللہ معاف کرے) پریشانی کی بجائے پریشانگی

  • ایک تبصرہ جس پر مختلف سائٹس کے لنک تھے پوسٹ کرنے کی کئی بار کوشش کی تاحال کامیاب نہیں ہوسکی۔ کوئی تکنیکی مسئلہ ہے تو آگاہ فرمائیں۔

  • ایسا کوئی مسئلہ ہونا تو نہیں چاہیے۔ احتیاطاً ورڈ میں لکھ کر وہاں سے کاپی پیسٹ کرنے کی کوشش کیجیے، اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو مجھے بذریعہ ای میل بھیج دیجیے

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔