شہید کا شہد سے کیا تعلق ہے؟

لفظ شاہد کا ماخذ کیا ہے اور اس کے ڈانڈے کہاں کہاں جا کر ملتے ہیں۔ اور اسی عربی مادے ش ہ د سے نکلنے والے دوسرے الفاظ شہید اور شہد کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

ہمارے فورم کے گراں قدر ساتھی اور عربی دان دوست اقبال شاہین صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اس موضوع پر روشنی ڈالیں۔

پیشگی شکریہ۔

تبصرے

  • October 2017 کو ترمیم کیا

    عربی مادہ ش ہ د کے بنیادی معنی ہین، موجود ہونا، حاضر رہنا، نظروں کے سامنے رہنا یا رکھنا۔
    مادہ ش ہ د سے بننے والے الفاظ؛ شاہد،شہادت،شہد، شہید، مشاہدہ، مشہود،تشہد،مشہد،مشہدہ، وغیرہ۔
    ان الفاظ کے استعمال کی صورتیں کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہوں ان مین بنیادی معانی کا مفہوم ضرور ہو گا۔
    شاہد کے معنی گواہ اسی لیے ہیں کہ گواہی وہی دیتا ہے جو حاضر یا موجود ہو۔
    شہادت ، شہید، اللہ کی راہ مین جان دینے والون کو جو شہید کہا جاتاہے ،یہ اصطلاح قرآن کریم نے اس شخص کے لیے مختص تو نہیں کی،البتہ معنوی اعتبار سے اس کا مفیوم یہ بنتا ہے، جو اپنی جان دے کر اللہ کے موجود ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کو شہید کہا گیا ہے،اس لیے کہ ہر چیز اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔
    مشاہدہ، معائنہ آنکھوں سے دیکھنا اور آنکھوں سے وہی دیکھ سکتا جو موجود ہو گا۔
    شاہدومشہود یا یومِ مشہود؛ یہ الفاظ بھی قرآن مجید میں آئے ہیں۔مشہود قیامت کے دن کو بھی اسی لیے کہا گیا کہ اس دن اس جگہ سب حاضر یا موجود ہوں گے۔ اور شاہد ہر حاضر اور گواہی دینے والا۔
    جمعہ کو بھی مشہود کہا گیا اس لیے کہ روایت ہے اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
    مشہد۔ جمع یا حاضر ہونے کی جگہ
    مشہدہ ،اُس عورت کو کہتے ہیں جس کاخاوند گھر میں موجود ہو۔
    شہد، انگبین یا عسل کو عربی میں شہد اُس وقت کہتے جب وہ ابھی چھتے میں موجود ہو باہر نہ نکالا ہو۔

  • بہت شکریہ اقبال صاحب۔ ایک اور بصیرت افروز پوسٹ

  • شکریہ اقبال شاہین صاحب

  • صوتی اعتبار سے اسی قبیل کا لفظ شہدا ہے جو اردو میں بدمعاش اور پنجابی میں دکھلاوا کرنے والے کے معنی میں برتا جاتا ہے۔ شان الحق حقی صاحب کی تحقیق کے مطابق یہ سنسکرت کے لفظ ’شدھا‘ کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کا مطلب ہے ایک ایسا بدمعاش ہاتھی جس میں اٹھارہ قسم کے عیب پائے جاتے ہوں۔

    یہ الگ بات کہ سنسکرت ہی میں شدھ خالص کو کہتے ہیں۔

  • ظفر صاحب، شان الحق حقی صاحب نے شدھا کے علاوہ کھشدرک بھی اس کا ماخذ لکھا ہے اور وارث سرہندی نے اس کا ماخذ کشدر لکھا ہےجس کے معنی ہیں، کنجوس کمینہ،حقیر شریر۔
    لیکن نوراللغات اور فرہنگِ آصفیہ نے اس لفظ شہدا (شہدہ) کےڈانڈے عربی لفظ شہدا سے ہی ملانے کی کوشش کی ہے۔
    ان کا خیال اس فرقہ کی طرف جاتا جو ننگے سر ننگے پاوں رہتا ہے اور شادیوں میں د لہن کا پلنگ اٹھاتا ہے اور مردے کو دور لے جانے کے لیے بھی انہی کے سپرد کرتے ہیں۔ یہ فرقہ گالی گلوچ میں مشہور ہے۔اول درجے کے شہدے وہ ہیں جو دہلی کی جامع مسجد مین بیٹھے رہتے ہین اور ان کی عورتیں کماتی ہیں۔
    اور ان لوگوں کا نام شہدہ دو وجہ سے مشہور ہوا، اول تو یہ لوگ بات بات پر قسم کھاتے ہیں اور دوسری بات یہ کہ جھوٹی گواہی سے بھی انکار نہین کرتے۔اور چونکہ شہدا شہید کی جمع ہے جس کے معنی گواہ کے ہین، اور اردو والے عربی لفظ شُہدا سے فرق کر کے ان لوگوں کو شہدہ کہنے لگے،یعنی قسمیں اٹھانے اور جھوٹی گواہی دینے والے

  • پلیٹس میں بھی اس لفظ کا ممکنہ ماخذ کھشدرک لکھا ہے۔

    میرے پاس حقی صاحب کی جو کتاب ہے اس میں وہ لکھتے ہیں کہ اس کا ماخذ شہدا سے نہیں ہو سکتا کیوں کہ مسلمان لفظ شہید کی بےحرمتی کر کے اسے کسی غلط معنی میں استعمال نہیں کر سکتے۔

    حقی صحب بڑے ماہرِ لسانیات ہیں، تاہم وہ یہ بھول گئے کہ اردو والوں سے کچھ بعید نہیں کہ اچھے خاصے الفاظ کو الٹ کر کچھ کا کچھ بنا دیں۔ صلوٰاۃ کے مثال سامنے کی ہے کہ اس کو بگاڑ کر گالیاں بنا دیا۔

  • معاف کیجئے گا ظفر صاحب! پنجابی زبان کا وہ لفظ جس کی جانب آپ جناب نے اشارہ فرمایا ہے وہ تلفظ کے لحاظ سے "شودا" ہے نہ کہ عربی زبان کا لفظ "شہداء" .
  • حسن صاحب، بحث میں حصہ لینے کا بہت شکریہ۔

    آپ نے درست فرمایا۔ پنجابی میں اسے شودا ہی بولتے ہیں، لیکن اردو میں یہ لفظ شہدا لکھا جاتا ہے اور اس کا تلفظ (شُہ دا) شہید کی جمع والے شہدا سے مختلف ہے۔

  • اچھا صاحب اب شہد کی طرف بھی آئیں۔ یہ کیسے عربی کے شاہد سے نکل آیا۔ عربی میں تو شہد کو عسل کہتے ہیں۔ ہندی میں مدھو کہتے ہیں۔

  • شاہد صاحب عربی زبان میں ایک ایک تصور کے لیے سیکڑوں الفاظ ہین ہم صرف ایک عسل پر اٹک گئے ہیں۔ شہد کے لیے عربی زبان میں اسی (80) الفاظ ہیں۔
    شہد عربی زبان کا ہی لفظ ہے کسی بھی اردو لغت مین لفظ شہد کے سامنے عربی ہی لکھا ملے گا۔
    یا پھر المنجد عربی اردو لغت کا صفحہ نمبر چار سو پچاس پر مادہ ش ہ د کے تحت دیکھیے،شہد معنی وہ شہد جو ابھی موم یا چھتے سے جدا نہ کیا ہو۔
    اگر ممکن ہو تو گوگل پر سرچ کیجیے گا،؛عربی زبان کی وسعت و اہمیت؛ شیح الادب حضرت اطیر حسین

  • جناب لکھا ملے گا اور عسل کے لئے شہد عربی لفظ ہے ، میں فرق ہے۔ دلیل دیجیئے کہ شہد عربی میں بھی شہد کے معنیٰ میں استعمال کیا گیا ہے۔

  • شاہد صاحب، المنجد عربی ہی کی لغت ہے

  • ظفر بھائی المنجد عربی لغت میں شہد بمعنی عسل کہاں لکھا ہے بھائی حوالہ دیں

  • حضور، عربی سےعربی کی لغت تک تو میری رسائی نہیں، البتہ ہانز ویہر کی مشہور عربی انگریزی لغت شھد کے تحت کہتی ہے:

    Pl شھاد
    honey; honecomb

    اس کے علاوہ شھد کے درجن بھر مزید معانی بھی درج ہیں۔

    جب کہ اوکسفرڈ انگلش عربی لغت میں
    honey
    کے تحت لکھا ہے
    عسل النحل، شھد، عسل ابیض (مصر)۔

  • Honeyکیا اس میں شھاد بمعنی شہد لکھا ہے یعنی

  • ظفر بھائی مل گیا شھد عربی میں شہد کی مکھی کے چھتے کو کہتے ہیں اور شمع موم بتی کو نہیں صرف موم کو کہتے ہیں۔
    تعريف و معنى شَهْدَةٌ في معجم المعاني الجامع - معجم عربي
    شُهدة: (اسم)
    شُهدة : القِطْعَةُ مِنَ الشَّهْدِ ، عسل النَّحل ما دام لم يعصر من شمعه
    شَهد: (اسم)
    الجمع : شِهَادٌ
    شَهْد / شُهْد
    الشُّهْدُ ،: عسل النَّحل ما دام لم يعصر من شمعه القِطعة منه شَهْدَةٌ
    شَهد : نوع من الشمّام مستدير مفرد شَهْدة وشُهْدَة :

  • شاہد بھائی، آپ نے شاید اوپر میری پوسٹ نہیں پڑھی۔ دو مستند لغات میں ہنی کو شہد اور شہد کو ہنی لکھا گیا ہے۔

  • شاہد صاحب یہ تو بڑا اچھا ہوا جو آپ کو مل گیا ورنہ یہ جو لغت کی دنیا میں بڑے بڑے معتبر نام ہیں مجھے تو ان پہ شک ہونے لگا تھا۔شاہد صاحب مجھے جب سے پتہ چلا کہ سفید چینی صحت کے لیے اچھی چیز نہیں ہے تب سے گھر مین شہد ہی استعمال کرتے ہیں تو آج اس سلسلے میں کوہاٹ جا رہا ہوں کیونکہ آج کل بیر کے شہد کا موسم ہے جو دنیا کا سب سے اعلا شہد ہے، تو سوچا آپ کے لیے شہد اور عسل دونوں صورتوں میں ہنی لے کر جاوں گا لیکن سرچ کرنے پر پتہ چلا کہ آپ اسلام آباد نپہں بلکہ کراچی ہین۔
    شاہد بھائی میرا شہد سے تعلق صرف لفظوں کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور بھی ہے۔ ہر پھول کا شہد منگواتا ہوں ہمارے گھر میں سال بھر میں چالیس سے پچاس کلو تک شید استعمال ہوتا ہے۔ اللہ کی یہ بہت بڑی تعمت ہے۔

  • اقبال صاحب، باقی باتیں تو درست لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر چیز میں اعتدال برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    مطلب یہ کہ چالیس پچاس کلو شہد؟؟

  • ظفر صاحب ،آپ نے بالکل درست فرمایا کہ ہر کام میں میانہ روی کا حکم ہے۔ہماری فیملی دس افراد پر مشتمل ہے تو بمشکل یومیہ فی فرد چودہ گرام آتے ہیں۔اور میں نے بتایا تھا کہ ہم شہد بطورِ دوا نہیں بلکہ بطورِ غذا استعمال کرتے ہیں۔تو اس لحاظ سے یومیہ ایک فرد کے لیے چودہ گرام ضرورت سے کم ہیں۔

  • ظفر صاحب آپ نے میری پوسٹ پوری نہیں پڑھی شائد،۔ عربی میں شھد ہمارے شہد کو نہیں شید کے چھتے میں موم سے بنے خانوں کو کہتے ہین۔
    انگریزوں نے شھد کو ہنی کیوں لکھا مجھے نہیں معلوم۔

  • جناب اقبال شاہین صاحب، ماشا اللہ آپ کی جانب سے سفید چینی کا بائیکاٹ شاندار عمل ہے، کاش ہم بھی یہاں کراچی میں شہد استعمال کر سکتے۔ افسوس یہاں خالص شہد تلاشنے پر بھی نہیں ملتا۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔