ملاح

October 2017 کو ترمیم کیا میں یہ لفظ کہاں سے آیا؟

کشتی چلانے والے یا ناخدا کو کہتے ہیں۔ لیکن اس کا مادہ عربی لفظ ملح ہے، جس کا مطلب نمک ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ نمک اور ناخدا کا کیا تعلق ہے؟

پرانے زمانے میں جو لوگ سمندر سے نمک نکالتے تھے انھیں ملاح (نمک نکالنے والا) کہا جاتا تھا۔ بعد میں سمندر میں جانے والے دوسروں کو بھی ملاح کہا جانے لگا۔ زمانے کی ہوا لگتے لگتے یہ لفظ ناخدا کے لیے مخصوص ہو گیا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اب میٹھے پانی کی جھیل میں کشتی چلانے والے کو بھی ملاح کہا جاتا ہے حالانکہ اس غریب کا نمک سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔

تبصرے

  • جناب ملاح کا نمک سے کچھ لینا دینا نہیں۔ملح اور ملاح کا مادہ أَلاَحَ سے نکلا ہے جس کے معنی چمکنے اور جھلمللانے کے ہیں۔ نمک چمکتا ہے اور تارے جھلملاتے ہیں۔۔عربی مین ملاح نیویگیشن کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ملاح کا معنی کشتی چلانے والا نہیں بلکہ کشتی کو نیویگیٹ کرنے والا ہے۔کشتی بان تاروں کی مدد سے کشتی کو نیویگیٹ کرتا ہے۔ عربی میں ملاّحو الطّائرة کا ملطب ہے ہوائی جہاز کا نیویگیٹر۔۔

  • حضور، یہ احوال رقم ہے سید حامد حسین کی کتاب ’لفظوں کی انجمن میں۔‘ ملاحظہ ہو

    https://rekhta.org/ebooks/lafzon-ki-anjuman-mein-syed-hamid-husain-ebooks?lang=ur

    صفحہ 9

    البتہ ابھی ابھی فرہنگِ آصفیہ دیکھی تو اس میں کچھ اور رام کہانی نظر آئی۔ فرماتی ہیں کہ

    اس کا مادہ ملح ہے جس کے معنی پر پھڑپھڑانے یا دونوں بازوؤں سے اڑنے کے آئے ہیں،، پس کشی بان بھی کشتی کے دونوں پر اور بازو ہیں۔

    تو اب ہمارے پاس تین تین منابع آ گئے ہیں

    1. نمک
    2. سمت نما
    3. پرند نما

    کیا کہتے ہیں علمائے کرام بیچ اس مسئلہ کے؟

  • جناب ہمیں تو ملاح کے حوالے سے عربی میں جو ملتا ہے کھول کر آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ ویسےعربی میں الملاح نمک نکالنے والے کو نہیں نمک بیچنے والے کو کہتے ہیں۔ لفظوں کی انجمن کا صفحہ نمبر دے دیں تو اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں

  • صفحہ نو،

  • October 2017 کو ترمیم کیا

    جناب آپ کا ریفرنس دیکھا۔ وہاں لکھا ہے ملاح عربی کے جس لفظ سے نکلا ہے اس کا مطلب کھارا یا نمک ہے۔ سمندر کھارا ہوتا ہے اس لئے کھارے پن سے سمندر مراد لینے لگے۔ اس کے بعد وہی عبارت لکھی ہے جو آپ نے نقل کی ہے۔۔اب ملاح کو کھارا کس عربی میں کہتے ہیں معلوم نہیں۔اور کونسی عربی میں سمندر کیلئے ملح ملاح یا ملیح استعمال ہوتا ہے اس پر اہل زبان کو زبردست تحقیق کی ضرورت ہے۔ آپ بھی معلوم کرنے کی کوشش کیجئے گا

  • جی میں کوشش کرتا ہوں۔ ویسے گوگل ٹرانسلیٹ ملاح کے عربی معنی کے سلسلے میں نیوی گیٹر کے ساتھ ساتھ بوٹ مین اور سیلر کے الفاظ بھی دیتا ہے

    https://www.google.co.uk/search?q=arabic+english+dictionary&oq=arabic+english+dictionary&gs_l=psy-ab.3..0j0i7i30k1l4j0j0i67k1j0i7i30k1l3.93854.97268.0.97627.10.9.0.0.0.0.355.976.2-1j2.3.0....0...1.1.64.psy-ab..7.3.975...35i39k1.0.trTHKDi3hKM

    اس لیے یہ بات محلِ نظر ہے کہ عربی میں ملاح کشتی چلانے والے کو نہیں کہتے۔ ایک اور آن لائن لغت میں ملاح کے معنی کے تحت لکھا ہے

    Seamanlike, sailor, seaman, mariner, tar, seafarer, salt, navigator, boatman۔

  • ظفر صاحب بحث کے لیے دلچسپ لفظ پیش کرتے رہتے ہیں۔شاہد صاحب اور ظفر صاحب نے خوب چپ و چلائے ہیں لیکن نمکین (کھاری) پانی سے نکلا نہیں جا رہا۔ معذرت کہ مجھے دیر ہو گئی دراصل مجھے اپنی ناو کے چپو نہیں مل رہے تھے۔
    ملاح؛ عربی لفظ ہے جس کا مادہ م ل ح ہی ہے اور اس کے بنیادی معنی سخت نمکین پانی اور سفید ہونے کے ہین اور المنجد نے اس مادہ کے ایک معنی پرندے کا پھڑ پھڑانا بھی لکھے ہیں جو فرہنگ آصفیہ میں بھی موجود ہیں۔
    نمک کو ملح اس کے سفید ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں ۔
    لفظ ملاح کا تعلق بھی اسی نمک سے ہے۔اس مادہ م ل ح سے بننے والے تمام الفاظ کا لطیف سا ربط اس کے بنیادی معنی نمکین سیفیدی اور خوبصورتی سے ضرور رہے گا۔
    المملح نمک دانی کو کہتے ہیں۔
    المتملح نمک کا کاروبار کرنے والا
    الملاحیہ جہازراں کا پیشہ
    الملاحہ نمک کی کان یا نمک بکنے کی جگہ
    لفظ ملح قرآن مجید میں بھی بہت سحت نمکین (کھاری) پانی کے لیے استعبال ہوا ہے۔
    ملاح؛ کشتی چلانےوالے اور نمک کے تاجر کو کہتے ہین، کیونکہ وہ ہمیشہ کھاری پانی میں رہتا ہے،ویسے بھی شروع میں انسان نے قدرتی طور پر نمکین محلول، سمندری پانی سےنمک نکالنا سیکھا تھا۔
    عرب نمک کو بڑی اہمیت دیتے تھے اس لیے ذمہ داری، حرمت، مقدس معاہدہ اور حسن لطیف کے لیے الملح کا لفظ بولتے تھے۔
    ہمارے ہاں بھی الفاظ ملیح اور ملاحت ،نمکینی اور خوبصورتی کے لیے استعمال ہوتے ہیں ، اور ملیح کا ترجمہ نمکینی ،خوبصورت اور سانولا سلونا ہے، اوراس سلونے کا تعلق بھی نمک سے ہی ہے پنجابی میں لون نمک کوکہتے ہیں، س اور لونا یعنی زیادہ نمکین (ملح) ممکن ہے لفظ سالن بھی اسی سے ہو۔
    ہم بہت دیکھے فرنگستان کے حسنِ صبیح
    چرب ہے سب یہ بتانِ ہند کا رنگ ملیح
    خواب مین روئے ملیح یار آیا ہے نظر
    لطف میٹھی نیند کا پایا سلونا رات کو
    مجھے جو کھینچ لاتی ہین تری پُر لمس گلیوں مین
    وہ رخسارون کی پاکیزہ ملاحت کم نہ ہونے دینا
    نمک کو صرف عربوں نے ہی اہمیت نہیں دی بلکہ پوری دنیا مین نمک اس قدر گراں بہا چیز رہاہے کہ اس کے لیے جنگین لڑی گیئی۔ بلکہ ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جب نمک یعنی سالٹ کرنسی کی حیثیت رکھتا تھا اور لوگ نمک کی ڈلیاں دے کر اشیا خریدتے تھے۔ اس دور مین نمک اس قدر اہمیت رکھتا تھا کہ یونان کے تاجر نمک کے عوض غلامں کی تجارت کرتے تھے جس وجہ اس اظہار کی ابتدا ہوئی کہ؛ اس نے نمک کا حق ادا نہیں کیا،؛
    عربوں کا مقولہ ہے کہ ہم نےایک دوسرے کا نمک کھایا ہے۔
    فارسی والے ناشکرے کو نمک حرام کہتے ہین۔
    روم کا بادشاہ اپنے فوجیوں کو نمک کی شکل مین تنخواہ دیتا تھا۔
    انگلش لفظ ؛ سیلری ؛ کا تعلق بھی تو نمک سے ہے، لاطینی اصطلاح ؛ سیلیریئم ؛(سیل معنی نمک)سے نکلا ہے۔
    شاہد صاحب آپ نے لکھا ہے کہ کس عربی میں ملاح کو کھارا اورسمندر کے لیے ملح ملاح اور ملیح استعبال ہوتے ہین۔عربی زبان بڑی دلچسپ ،خوبصورت اور سائنٹیفک زبان ہے ۔عربی زبان کے الفاظ جیسے درخت کی مثال،۔درخت کی شاخیں، پتے، پھول پھل اس کے بیج یا جڑ سے نکلے ہوتے ہیں اس طرح اس زبان کا ہر لفظ اپنی ایک جڑ اور اصل رکھتا ہے جس سے وہ وجود پزیر ہوتا ہے۔ اور اس اصل اور یا جڑ کو مادہ کیتے ہیں۔ عربی میں ایک مادہ سے سیکڑوں الفاظ اسما، افعال اور صیغے بنتے ہین۔ ان الفاظ کی شکلین مختلف ہوں گی لکین ان مین سے ہر ایک مین اس جڑ ک خصوصیت ضرور موجود ہو گی۔
    مثلا عربی لفط شاہد کو ہی لے لیتے ہین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاری ہے۔

  • October 2017 کو ترمیم کیا

    جناب اقبال شاہین صاحب دوسری قسط کا شدت سے انتظار ہے

  • اقبال شاہین صاحب، اس لڑی میں بس آپ ہی کا انتظار تھا، اور حسبِ روایت آپ نے نمک کا نمک اور پانی کا پانی کر کے رکھ دیا ہے۔

    تو کیا ہم سمجھیں کہ آپ اوپر دیے گئے اشتقاق نمبر ایک کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں، یعنی نمک کی طرف؟

    ذاتی طور پر پرندے کے پھڑپھڑانے والی بات کچھ دل کو نہیں لگتی۔

  • جناب اقبال شاہین صاحب دوسری قسط کا شدت سے انتظار ہے کیونکہ اس میں آپ نے اصل شاہد و مشہود کا مشاہدہ بیان کرنا ہے

  • شاہد صاحب ،آپ نے خوبصورت جملہ لکھا ہے، شکریہ
    شاہد صاحب آپ کا تمام لڑیوں کا بروقت اور خوبصورت مشاہدہ آپ کی اردو اور علم دوستی پر شاہد ہے۔
    عربی مادہ ش ہ د کے بنیادی معنی ہین، موجود ہونا، حاضر رہنا، نظروں کے سامنے رہنا یا رکھنا۔
    مادہ ش ہ د سے بننے والے الفاظ؛ شاہد،شہادت،شہد، شہید، مشاہدہ، مشہود،تشہد،مشہد،مشہدہ، وغیرہ۔
    ان الفاظ کے استعمال کی صورتیں کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہوں ان مین بنیادی معانی کا مفہوم ضرور ہو گا۔
    شاہد کے معنی گواہ اسی لیے ہیں کہ گواہی وہی دیتا ہے جو حاضر یا موجود ہو۔
    شہادت ، شہید، اللہ کی راہ مین جان دینے والون کو جو شہید کہا جاتاہے ،یہ اصطلاح قرآن کریم نے اس شخص کے لیے مختص تو نہیں کی،البتہ معنوی اعتبار سے اس کا مفیوم یہ بنتا ہے، جو اپنی جان دے کر اللہ کے موجود ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کو شہید کہا گیا ہے،اس لیے کہ ہر چیز اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔
    مشاہدہ، معائنہ آنکھوں سے دیکھنا اور آنکھوں سے وہی دیکھ سکتا جو موجود ہو گا۔
    شاہدومشہود یا یومِ مشہود؛ یہ الفاظ بھی قرآن مجید میں آئے ہیں۔مشہود قیامت کے دن کو بھی اسی لیے کہا گیا کہ اس دن اس جگہ سب حاضر یا موجود ہوں گے۔ اور شاہد ہر حاضر اور گواہی دینے والا۔
    جمعہ کو بھی مشہود کہا گیا اس لیے کہ روایت ہے اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
    مشہد۔ جمع یا حاضر ہونے کی جگہ
    مشہدہ ،اُس عورت کو کہتے ہیں جس کاخاوند گھر میں موجود ہو۔
    شہد، انگبین یا عسل کو عربی میں شہد اُس وقت کہتے جب وہ ابھی چھتے میں موجود ہو باہر نہ نکالا ہو۔

  • جی ظفر صاحب، اشتقاق نمبر ایک کی طرف ہی ہے۔

  • October 2017 کو ترمیم کیا

    بہت عمدہ جناب، آپ نے حسبِ روایت بےحد قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔ صرف ایک درخواست ہے، اگر آپ مندرجہ بالا بیان کو ’شہید اور شہد میں کیا تعلق ہے‘ نامی لڑی میں کاپی پیسٹ کر دیں تو لوگوں کو ڈھونڈنے میں آسانی ہو گی کیوں کہ اس لڑی میں صرف ملاح پر بات ہو رہی ہے۔ شکریہ

  • اقبال صاحب اس کے لئے ایک نئی لڑی شروع کردیں میں ظفر صاحب کی بات سے متفق ہوں

  • وہ لڑی کب کی شروع بھی ہو چکی شاہد صاحب۔

  • اچھا ظفر صاحب دیکھتا ہوں اس کو

  • بھائی کسی ایسی کتاب کا نام بتایں جس میں الفاظ کے ماخذ اور انکی مکمل تفصیل ہو کے یہ لفظ کہاں سے آیا کس لفظ سے نکلا وغیرہ ۔۔بہت مہربانی ہو گی

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔