ہر ایک بال میں کیا کیا نہ شاخسانہ ہوا

اس لفظ کا ماخذ بہت عجیب و غریب ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زبان کی جڑیں سماج اور ثقافت میں کس قدر گہری دھنسی ہوئی ہیں۔

اصل لفظ شاخِ شانہ ہے، یعنی شانے کی ہڈی۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم ایران میں بعض فقیر بھیڑ کے شانے کی ہڈی سے مکروہ آواز نکالتے اور کچھ نہ ملنے پر اپنے آپ کو لہولہان کر لیتے تھے اس لیے فارسی میں شاخِ شانہ بمعنی دھمکی مستعمل ہو گیا، جو وقت گزرنے کے بعد شاخسانہ میں ڈھل گیا۔

لیکن بات یہیں پر نہیں رکی، اس کے بعد اس لفظ کے معنی میں اس قدر وسعت آئی کہ الامان۔ آج کل اسے میڈیا ہر قسم کے من مانے معانی میں برت رہا ہے۔

دوستوں سے بحث کی گزارش۔۔۔

تبصرے

  • جناب آپ نے بجا فرمایا۔ فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔سب سے پہلے 1776ء کو "مثنوی خواب و خیال" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

  • مزے کی بات یہ ہے کہ فارسی لفظ شاخ کا ایک مطلب سینگ بھی ہے، جب کہ شاہ بھی اسی شاخ سے نکلا ہے کیوں کہ پرانے بادشاہ سر پر سینگ پہنتے تھے۔

  • سینگ کی بہت اہمیت ہے جناب اسی لئے دو سینگو والا بادشاہ مشہور حکایت ہے۔ یعنی ذوالقرنین

  • October 2017 کو ترمیم کیا

    خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے حضور، اگر اتنی ہی اہمیت ہوتی تو پھر بارہ سنگھا بستی کا نہ سہی، جنگل کا ضرور بادشاہ ہوتا

    :)

  • حضور ذوالقرنین بادشاہ کی اس قدر اہمیت ہے کہ خود قرآن نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ﴿وَيَسـَٔلونَكَ عَن ذِى القَر‌نَينِ ۖ قُل سَأَتلوا عَلَيكُم مِنهُ ذِكرً‌ا ﴿٨٣﴾... سورة الكهف ۔۔ ترجمعہ ۔’’ آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ یہ لوگ دریافت کر رہے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میں ان کا تھوڑا سا حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں۔‘‘

  • ظفر صاحب ،آپ کی بات سے اتفاق ہے کہ لفظ شاہ کا ماخذ شاخ ہے۔
    یہ اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب ایران میں لوگ جنگلی جانوروں کو مار کران کےسینگ سروں پر لگاتے تھے اور یہ سینگ بہادری اور سرداری کا نشان سمجھے جاتے تھے۔ جب لوگ کسی کے سر پر سینگ یعنی شاخ دیکھتے تو اس کو سردار سمجھتے اور ؛شاخ ؛ کہتے تھے۔ یہی شاخ لفط رفتہ رفتہ ،شاہ، بن گیا۔
    کیا بارہ سنگھے کے واقعی بارہ سینگ ہوتے ہیں ؟
    شاہد صاحب کی بات یعنی سینگ کی اہمیت اور پھر ذوالقرنین (دو سینگوں والا ) بادشاہ کا قرآن مجید میں ذکر قابلِ غور ہے۔اسے دو سینگوں والا کیوں کہا گیا ؟
    اس کے علاوہ مھجے تو ایک اور ،سینگ، نے پریشان کیا ہوا ہے لیکن یہاں پیش نہیں کر رہا اس سے توجہ بٹ جائے گی۔اسے نئی بحث کے لیے رکھ لیتے ہیں ۔

  • اقبال صاحب، آپ ایک نئی لڑی کھول کر اس نئے سینگ کا معاملہ شروع کر سکتے ہیں۔ ہمیں انتظار رہے گا۔

  • اقبال صاحب وہ ایک سینگ والا کہیں موئنجودڑو کا بیل تو نہیں ہے

  • شاہد صاحب یہ سینگ تو مین بھولا ہوا تھا، اگر آپ کا اشارہ ابجد کے پہلے حرف الف کی طرف ہے،تو اس سینگ کی ناریخ تو اور زیادہ دلچسپ ہے۔اور شائد یہ مصر کے بیل کا سینگ(الف) ہے۔
    کیا خیال ہے اس کے لیے نئی لڑی شروع کر لیں۔

  • جی اقبال صاحب، میری تائید اور فرمائش پیشگی نوٹ کر لیجیے۔ اس الف والے سینگ نے تو واقعی دنیا کو اپنے سینگ پر اٹھا رکھا ہے۔ اس پر لڑی نہایت دلچسپ اور معلوماتی ہو گی۔

  • جی جناب یہ الف وہی مصر کے بیل کا سینگ ہے ، سارا علم اسی الف میں سمایا ہوا ہے
    ہک الف پڑھو چھٹکارا اے
    ہک الفوں دو تن چار ہوئے
    فیر لکھ کروڑ ہزار ہوئے
    فیر اوتھوں بے شمار ہوئے
    ہک الف دا نکتہ نیارا اے
    ہک الف پڑھو چھٹکارا اے

  • عِلموں بس کریں او یار
    اِکّو الف ترے درکار

  • بنی اسرائیل سر پر سینگ یا تاج رکھ کر بادشای نہیں بناتے تھے ان کے یہاں سر پر تیل ڈال کر بادشاہ بنایا جاتا تھا

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔