تابع مہمل

تابع مہمل
اس اصطلاح کی تعریف میں اردو لغت فرماتی ہے
١ - وہ بے معنی لفظ جو کسی بامعنی لفظ کے بعد بولا جاتا ہے بامعنی لفظ کے حرف اول کو عموماً واو وغیرہ سے بدل دیتے ہیں۔ باقی حروف وہی ہوتے ہیں جو اصل لفظ میں پائے جاتے ہیں، جیسے : چراغ وراغ، پانی وانی، کتاب وتاب وغیرہ۔

لیکن یہ تعریف نامکمل ہے، کیوں کہ تابع مہمل کی مزید شکلیں بھی ممکن ہیں
1 جب تابع مہمل بامعنی لفظ سے خاصا مختلف ہو۔ مثال کے طور پر چوری چکاری، گھاس پھونس، چھیڑچھاڑ، تو تڑاق
2 جب تابع مہمل واو کی بجائے ش سے شروع ہو، مثلاً اناپ شناپ۔
3 جب دونوں الفاظ ایک ہی ہوں: دہر دہر، دھک دھک، بھل بھل، دھڑ دھڑ
3 جب تابع مہمل میں کوئی لفظ مہمل نہ ہو تے ہوئے دونوں الفاظ بامعنی ہوں، مثلاً دال دلیہ، دوا دارو، توڑ مروڑ، دم درود
4 جب دونوں الفاظ مہمل ہوں: تتربتر، اوبڑ کھابڑ، اول فول، اللے تللے، انگڑ کھنگڑ، اتھل پتھل
5 جب پہلا لفظ مہمل اور دوسرا بامعنی ہو: انجر پنجر، مین میخ

لغت نے تابع مہمل بنانے کی وجہ نہیں بتائی لیکن وہ یہ ہے کہ اس سے کلام میں زور پیدا ہو جاتا ہے، مزید یہ کہ یہ وغیرہ وغیرہ کے معنی بھی دیتا ہے۔ مثلاً قبلہ شجاعت الٰہی صاحب جب پوچھتے ہیں کہ روٹی شوٹی کھائی یا نہیں تو ان کا مطلب ایک تو روٹی کھلانے پر زور دینا ہوتا ہے، ساتھ ہی روٹی کے متعلقات بھی نمٹ جاتے ہیں، مثلاً چاول، گوشت، چائے، پانی، بوتل، وغیرہ۔

یہاں یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اردو میں عام طور پر و لگا کر کسی بھی لفظ کا تابع مہمل بنایا جا سکتا ہے، (روٹی ووٹی) البتہ پنجابی میں یہ حرف ش ہے، جیسے روٹی شوٹی۔ جب کہ ہندکو زبان میں تابع مہمل کا کلیدی لفظ ش کے علاوہ کبھی کبھار م بھی آ جاتا ہے۔ اسی طرح پشتو میں ش کے ساتھ م بھی عام ہے۔ فارسی عربی میں تابع مہمل کا سراغ نہیں ملتا، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ دیسی یا انڈو آرین زبانوں کی خصوصیت ہے۔

اتنا خشک وشک مضمون پڑھ پڑھ کر بوریت ووریت ہو گئی ہو تو دو غزلیں شزلیں پیش ہیں

مالا والا، بِندی وِندی، جُھومر وُومر کیا
زیور تیرا چہرہ تجھ کو زیور ویور کیا

کام زُباں سے ہی لیتے ہیں سارے مہذب لوگ
طَنز کا اک نشتر کافی ہے پتھر وتھر کیا

اول تو ہم پیتے نئیں ہیں گر پینا ٹھہرے
تیری آنکھوں سے پی لیں گے ساغر واغر کیا

جیون اک چڑھتا دریا ہے ڈوب کے کر لے پار
اس دریا میں کشتی و شتی لنگر وَنگر کیا

مال وال کس شمار میں ہے جان وان کیا شۓ
سر میں سودا سچ کا سما جاۓ تو سَر وَر کیا

تُجھ کو دیکھا جی بھر کے اور آنکھیں ٹھنڈی کر لیں
گُل وُل کیا، گُلشن کیا، اور مَنظر وَ نظر کیا

زیب کہو اللہ کرے فِردوسِ بریں میں مکاں
شعر ویر یہ غزل وزل کیا مُضطر وَضطر کیا

(زیب غوری)

اور

اس کی کتّھی آنکھوں میں ہے جنتر مَنتر سب
چاقو واقو چُھریاں وُریاں خنجر وَنجر سب

جس دن سے تم روٹھیں مجھ سے روٹھے روٹھے ہیں
چادر وادر تکیہ وَکیہ بستر وِستر سب

مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی کہاں اب پہلی جیسی ہیں
پھیکے پڑ گئے کپڑے وَپڑے زیور وِیور سب

عشق وِشق کے سارے نسخے مجھ سے سیکھتے ہیں
حیدر ویدر منظر وَنظر جوہر وَوہر سب

(راحت اندوری)

تبصرے

  • تابع مہمل لفظ خود کیا ہے۔ یہ عربی زبان سے بنا مرکب توصیفی ہے۔ لفظ 'تابِع' کے ساتھ عربی زبان سے اسم 'مُہْمَل' استعمال کیا گیا ہے اس میں 'تابع' موصوف اور 'مہمل' صفت ہے۔ اردو میں 1897ء کو "بادشاہ نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
    اسم نکرہ ۔ مذکر - واحد ہے

  • "یہ زبان کے چٹخارے اور چوچلے ہیں اور ان میں ایک جھلک تابع مہمل کی بھی نظر آتی ہے۔" ( 1961ء، اردو زبان اور اسالیب، 255 )

  • شاہد صاحب، سندھی میں کون سا حرف تابع مہمل کے طور پر استعمال ہوتا ہے؟

  • جناب عالی سندھی میں تابع مہمل اسی طرح استعمال ہوتے ہیں جیسے ارود اور پینجابی میں برتے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر پانی وانی، مانی شانی، گاڑی ماڑی وغیرہ

  • تو سندھی میں زیادہ مستعمل حرف کیا ہے؟ م، و یا ش؟

  • اس کے لئے کوئی باقائدہ قائدہ تو ہے نہیں بس جیسا جس جگہ بولنے کا دستور ہے بولا جاتا ہے

  • زبانوں کے اپنے قاعدے ہوتے ہیں چاہے وہ بےقاعدہ ہوں یا باقاعدہ۔ اس لیے لگتا ہے آپ نے توجہ سے سنا نہیں ہو گا

  • آپ نے ایک اور لڑی میں پوچھا تھا کہ تابع مہمل کا مقصد کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کا مقصد کلام میں زور پیدا کرنا ہے، جیسا کہ اوپر ایک مثال کے ذریعے بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

    کیا کہتے ہیں آپ؟

  • میرے خیال میں تو تابع مہمل بس زبان کا چٹخارہ ہے

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔