لفظ طوفان کا ماخذ

September 2017 کو ترمیم کیا میں یہ لفظ کہاں سے آیا؟

آج کل براعظم امریکہ شدید سمندری طوفانوں کے تھپیڑے کھا رہا ہے۔ اس موقعے کی مناسبت سے لفظ ٹائی فون پر کچھ بات ہو جائے۔ اس لفظ کے تین ماخذات بیان کیے جاتے ہیں:

typhon یونانی

tai fung چینی

عربی: طوفان

دوستوں سے مزید روشنی ڈالنے کی درخواست ہے۔

تبصرے

  • اس لفظ کا مادہ طاف ہے طاف فعل ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی جانب ہونا۔ طائف کا مطلب ہے جانبدار فرقہ پرست۔طاف البلاد کا مطلب ہے مختلف ممالک میں پھرنا۔ طواف کا لفظ بھی اسی طاف سے نکلا ہے۔ طوفان اسم ہے۔ یعنی غرق کردینے والا پانی جو ہر چیز پر غالب آجائے۔

  • لفظ طوفان کا عربی مادہ ط و ف ہے جس کے بنیادی معنی گھومنے اور چکر لگانے کے ہیں۔ طواف، اطاف، مطاف، طائف، طائفہ، اور طوفان سب الفاظ اسی مادہ سے بنے ہیں۔طواف،کسی چیز کے گرد چکر لگانا،کعبہ کے مقدس مقام کے گرد چکر لگانے کو بھی طواف کہتے ہیں۔ طائف چوکیدار یا پہرے دار کو کہتے ہیں چونکہ وہ بھی حفاظت کے لیے چکر لگاتا رہتا ہے۔طواف گھریلو نوکر کو بھی اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ بہت پھرنے والہ ہوتا ہے۔
    اور لفظ طوفان، وہ مصیبت یا حادثہ جو کسی کو چاروں طرف سے گھیر لےاور ہر شے پر چھا جائے، اکثر زور دار بارش اور ہوا کے لے استعمال ہوتا ہے
    لفظ طوفان قرآن مجید میں بھی آیا ہے، قومِ نوح کے متعلق ہے فاخذھم الطوفان، انہیں طوفان نے آ پکڑا۔
    انگلش میں اس کے مختلف نام ہیں،سائیکلون جو کہ یونانی لفظ کیکلون سے نکلا ہے اور اس کے معنی بھی چکر کھانا کے ہین۔
    یونانی ٹائفون (ہواوں کا باپ) اور چینی ٹائی فنگ ( زور دار ہوا) ان کے ماخذ کے متعلق اختلاف ہے، بعض کا خیال ہے کہ یہ عربی لفظ طوفان سے ماخوذ ہیں،اور بعض کہتے ہیں کہ یونانی دیومالا میں ٹائفون نام موجود ہے جو کہ خطرناک بادلوں کا باپ ہے،جو کہ گیہ اور ٹارٹرس کا سب سے طاقتور آخری بیٹا ہے اور تمام راکشسون کے باپ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
    اسی طرح لفظ ہری کین(طوفان) بھی کیریئبین جزائر کی دیومالا میں پائے جانے والے دیوتا جراکین سے نکلا ہے،۔ اورہری کین دیوتا بھی بادلوں اور ہواوں کا دیوتا ہے اور یہ لفظ ہسپانوی سے انگریزی میں آیا۔
    جو طوفان باد جزائر غرب الہند میں چلتے ہیں ان کو ہری کین کہا جاتا ہے اور جو جزائر شرق الہند میں چلتے ہیں ان کو ٹائفون کیتے ہین۔

  • آئی شاہین صاحب بے شک آپ نے طوفان کو ساحل معنیٰ سے ہمکنار کردیا۔ جزاک اللہ

  • شاہد صاحب، طوفان ساحل سے ٹکرا جائے، یعنی لینڈ فال، تو تباہی آتی ہے۔ شاید آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کشتیِ معنیٰ کو ابہام کے طوفان سے نکال کر ساحل تک پہنچا دیا۔

    شاہین صاحب ایک بار پھر لفظ کو پانی کرنے کا بہت شکریہ۔ آپ کی بیان کردہ تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ غالباً طوائف بھی اسی قبیل کا لفظ ہے جو اس پیشے کے قریہ قریہ گھوم پھر کر گانے بجانے کی وجہ سے پڑ گیا۔

  • اردو معلیٰ پر جتنی تباہی آنی تھی آچکی ہے، اب یہ طوفان ساحل سے ٹکرا جائے تو اچھا ہو۔۔ آداب عرض ہے

  • اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو پر پیغمبری وقت آیا ہوا ہے کہ لیکن زبانوں کی زندگی میں ایسے مقام آتے ہی رہتے ہیں۔ بہتر کی امید رکھنی چاہیے

  • یا پیر ظفر اس طوفان میں اردو کی کشتی کا پتوار تھام لیجئے

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔