کیا اردو سنسکرت سے نکلی ہے؟

اس موضوع پر پہلے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے مگر اب تک پانی ویسے کا ویسا گدلا ہے۔ مغربی ماہرین باالجتماع اردو/ہندی/پنجابی اور اس قبیل کی دوسری زبانوں کو سنسکرت کی زائیدہ قرار دیتے ہیں اور اس کی مختصر تاریخ کچھ یوں بیان کی جاتی ہے:

سنسکرت ۔۔۔ شورسینی پراکرت ۔۔۔ شورسیی اپ بھرنشا ۔۔۔ ہندوی ۔۔۔ دکنی ۔۔۔ اردو

مگر اردو میں کچھ ایسی خصوصیات ہیں جن کا سنسکرت سے برآمد ہونا قرینِ قیاس نہیں ہے۔

سو کیا کہتے ہیں ماہرین اس بارے میں؟

تبصرے

  • سنسکرت اس خطے میں کب آئی؟ کیا سنسکرت سے پہلے اس خطے میں کوئی زبان نہیں بولی جا رہی تھی؟کیا سنسکرت نے مقامی زبانوں کو یکسر ختم کردیا؟سب سے اہم سوال کیا سنسکرت کبھی اس خطے کی عوامی بولی رہی ہے؟

  • ہماری زبانوں پر انڈویورپین ہونے کا دھوکا شاید ان سنسکرت الفاظ کی وجہ سے ہے جو مقامی زبانوں میں رائج ہو گئے ہیں۔ یا کچھ الفاظ کا مادہ درست یا غلط سنسکرت سے نکلا بتایا گیا ہے۔

  • ذخیرہ الفاظ کسی زبان کی بڑی قوت ہوتی ہے جس زبان کے پاس جتنا ذخیرہ الفاظ ہوتا ہے وہ اتنی ہی مستحکم ہوتی ہے۔ مستحکم زبان ہمیشہ تبادلہ کی صفت رکھتی ہے اور وہ دیگر زبانوں سے الفاظ اختیار کرتی ہے۔۔ ہماری زبان نے سنسکرت ذخیرہ الفاظ سے بھرپور فائدہ اٹھایا لیکن یہی خوبی ہماری زبان کی سب سے بڑی خامی بھی بن گئی جس کی وجہ سے یہ اپنی الگ شناخت سے محروم ہو کر انڈویورپین کی انڈوآرین زبان سنسکرت کی ذیلی ذبان قرار دیدی گئی۔۔

  • شاہد صاحب، میں خود یہ سمجھا کرتا تھا کہ اردو ایک ایسی زبان ہے جس پر تین انڈویورپین زبانوں کا اثر ہوا ہے۔ آج کل انگریزی کا ہو رہا ہے، اس سے ہزار سال قبل فارسی کا ہوا، اور اس سے ڈیڑھ، دو ہزار سال قبل سنسکرت کا ہوا۔ لیکن مسئلہ یہ ہےکہ فارسی اور انگریزی نے بڑی حد تک صرف اردو کے اسما کو متاثرکیا ہے یا ان کی جگہ لی ہے۔ لیکن سنسکرت کا یہ عالم ہے کہ وہ اردو گرامر میں بری طرح گھسی ہوئی ہے۔ اگر یہ فارسی انگریزی کی مانند خارجی زبان ہوتی تو اس کا اثر بھی خارجی ہی رہتا جیسے فارسی کا ہوا کہ وہ ایک ہزار برس کی بالادستی کے باوجود اردو کے کسی ایک گرامیٹکل اصول کو متاثر نہیں کر سکی۔ حتیٰ کہ آج تک لوگ اردو الفاظ تو ایک طرف رہے، ایک فارسی اور ایک اردو لفظ کے درمیان فارسی اضافت کوبھی مکروہ عمل جانتے ہیں۔

    لسانیات کا ماناہوا اصول ہے کہ زبانیں دوسری زبانوں سے چند بنیادی چیزیں بڑی مشکل سے قبول کرتی ہیں۔ ان میں بنیادی افعال، ایک سے لے کر دس تک گنتی، بنیادی رشتے، اور بنیادی اعضا شامل ہیں۔
    لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اردو نے ایک طرف تو کرنا، کھانا، پینا جیسے افعال، کان، ناک، آنکھ جیسے بنیادی اعضا اور ماں، باپ، بیٹا جیسے بنیادی رشتے تک سنسکرت سے لیے ہیں۔ گنتی کی بات پہلے ہو چکی ہے۔

    آپ نے سوال کیا کہ سنسکرت کی آمد سے پہلے یہاں کون سی زبانیں بولی جاتی تھیں۔ ایک عام نظریے کے مطابق شمالی ہندوستان میں بھی دراوڑی زبانوں کا طوطی بولتا تھا۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ شمالی ہندوستان کی زبانوں میں اس خاندان کے آثار ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔

    یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام ماہرینِ لسانیات اردو کو انڈو یورپین خاندان کی زبان بتاتے ہیں۔ اس بات کو محض انگریزوں کا تعصب وغیرہ کہہ کر نہیں ٹالا جا سکتا۔ لسانیات نہایت فعال شعبہ ہے اور اس پر دنیا بھر میں کام ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔

    ان شواہد کی روشنی میں یہ مفروضہ قائم کیاجا سکتا ہے کہ اردو کوئی ایسی زبان نہیں ہے جو ہندوستان میں آریاؤں کی آمد سے قبل بولی جاتی تھی اور اس پر سنسکرت کا اثر ہوا۔ بلکہ اس کے برعکس آریہ ایک زبان ساتھ لائے جس پر مقامی زبانوں کا اثر ہوا اور وہ رفتہ رفتہ اردو میں ڈھل گئی۔

  • .." اردو میں کچھ ایسی خصوصیات ہیں جن کا سنسکرت سے برآمد ہونا قرینِ قیاس نہیں ہے" اگر اس جملے کی وضاحت کے لیے چند مثالیں دے دی جاتیں تو ہم جہلا کو بات آگے بڑھانے میں آسانی ہوتی۔ شان الحق حقی صاحب نے چند مصوتوں کو دراوڑی بتایا ہے۔ اس کے علاوہ؟

  • کیا سنسکرت آریا اپنے ساتھ لائے تھے یا ان کے آنے سے پہلے سے سنسکرت کا اثر ہندوستانی زبانوں پر پڑنا شروع ہو گیا تھا۔ وادی سندھ کے تہزہبی مراکز ہڑپہ اور موئنجو دڑو سے آریائی اثرات کا نہ ملنا بتاتا ہے کہ اس تہزیب پر اس وقت تک آریائی اثر نہیں تھا اس لئے سنسکرت زبان کا اثر ہونا بھی ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب وادی سندھ سے میسوپوٹیمیا کا مسلسل تجارتی رابطہ زبان افکار اور اشیا کے تبادلے کی صورت جاری تھا۔ یہ تبادلہ خشکی سےبراستہ بلوچستان اور ایران ہوتا ہے اور سمندر سے بھی براستہ یمن خلیج فارس ہوتا ہے۔ اس علاقے کی اس دور کی بولیاں زبانیں یقینن وادی سندھ کی زبان اور کلچر پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔

  • جنابِ قاضی صاحب:

    آپ کے تجاہلِ عالمانہ کی داد دیتے ہوئے چند نکات پیش ہیں:

    • اردو/ہندی میں صنف کا اثر فعل پر پڑتا ہے اور فعل اس کے مطابق بدل جاتا ہے۔ مثلاً لڑکی پڑھتی ہے، لڑکا پڑھتا ہے۔ اس کے برعکس سنسکرت میں فعل دونوں صورتوں میں ایک ہی رہتا ہے۔

    • ویسے تو ارد و کی طرح سنسکرت بھی ایس او وی زبان ہے، یعنی اس میں الفاظ کی ترتیب سجبیکٹ/اوبجیکٹ/ورب ہے، لیکن اس کے باوجود سنسکرت میں ورڈ آرڈر سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور کسی بھی ترتیب سے فقرہ مرتب کیا جا سکتا ہے۔ اردو میں آرڈر بدلنےسے فقرے کا مفہوم بدل سکتا ہے۔ مثلاً شیر چیتا کھاتا ہے/چیتا شیر کھاتا ہے۔
    • اردو گنتی کی بابت تو آپ اسی فورم کی ایک اور لڑی میں پڑھ ہی چکے ہوں گے کہ بارہ/بائیس/بتیس میں ب بمعنی دو سنسکرت سے نہیں آیا۔ اسی طرح گیارہ بارہ کا آرہ بمعنی دس بھی سنسکرت کا نہیں ہے۔

    اسی طرح اور بھی کئی مسائل ہیں۔ ڈاکٹر طارق رحمٰن نے اس ضمن میں ایک تفصیلی مضمون لکھا ہے۔ ڈاکٹر سہیل بخاری نے بھی بہت کچھ کہہ رکھا ہے۔ وہ کہیں سے ڈھونڈ کر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

  • ظفر صاحب صرف یہی ایک اصول کہ اردو/ہندی میں صنف کا اثر فعل پر پڑتا ہے اردو ہندی کو ہند آریائی اور ہند ایرانی زبانوں سے الگ کردیتا ہے۔ سنسکرت فارسی جرمن انگلش پشتو بلوچی سب میں فعل دونوں صورتوں میں ایک ہی رہتا ہے۔

  • حضور، یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے۔ ہزاروں برس کے عمل میں زبانوں میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں۔ فرانسیسی،ہسپانوی اور اطالوی مسلمہ طور پر لاطینی کی زائیدہ ہیں لیکن ان میں کئی چیزیں ایسی ہیں جو لاطینی میں نہیں تھیں۔اس کی ایک مثال حروفِ تعریف (ڈیفینیٹ آرٹیکل) کی ہے کہ لاطینی میں اس غیرضروری پیچیدگی کا وجود نہ تھا لیکن فرانسیسی نہ صرف حروفِ تعریف کے بغیر لقمہ نہیں توڑ سکتی بلکہ ان میں مذکر، مونث اور واحد جمع کا التزام بھی کیا جاتا ہے۔

    مثال کے طور پر

    le garçon: وہ لڑکا
    la fille: وہ لڑکی
    les homes: وہ کئی مرد

    اپنے گھر کی طرف آئیے تو ہمارے ”دیکھتے ہی دیکھتے” اردو میں کئی چیزیں کچھ کی کچھ ہو گئیں۔ مثلاً دکنی میں کہا جاتا تھا:
    چھوٹیاں چھوٹیاں بھریاں ہوئیاں کوٹھڑیاں
    آج یہ بدل کر’ بھری ہوئی کوٹھڑیاں‘ رہ گیا ہے، البتہ شاید پنجابی میں آج بھی ایسے ہی بولتے ہیں۔

  • لڑکا اور لڑکی تو لازمی بات ہیں فرانسیسی میں بھی الگ الگ ہی رہیں گے۔ لیکن ہماری زبان میں لڑکا کہے گا میں آتا ہوں ۔ لڑکی کہے گی میں آتی ہوں۔ لڑکا کہے گا میں کھاتا ہوں لڑکی کہے گی میں کھاتی ہوں ۔۔ یہ صفت صرف ہماری زبانوں تک محدود ہے باقی کوئی یورپی یا ہندیورپی ہند ایرانی زبان یہ صفت نہیں رکھتی

  • معلوم نہیں آپ نے کس حوالے سے یہ بات کہی ہے کیوں کہ ہند یورپی زبانوں میں زبردست لسانی تغیر پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر روسی ہی کو لے لیجیے

    Mal'chik napisal لڑکے نے لکھا
    Devushka napisala لڑکی نے لکھا

    Mal'chik yel لڑکے نے کھایا
    Devushka yela لڑکی نے کھایا

    Mal'chik poshel لڑکا گیا
    Devushka poshla لڑکی گئی

  • جناب عالی روسی میں بھی مرد کہے گا
    میں آتا ہوں۔۔۔
    YA yem
    اور عورت بھی یہی کہے گی۔۔
    میں آتی ہوں۔
    YA yem
    یعنی دونوں فعل کو یکساں استعمال کریں گے۔

  • حضور، ’ہماری زبانوں‘ سے کیا مراد ہے؟ کیا اس میں پشتو کو شامل کریں گے؟

  • اچھا سوال ہے جناب پشتو کوویسے پراکرت سے کچھ نسبت نظر بھی نہیں آتی ہے۔ ہاں پشتو کی پڑوسن ہندکو ہماری زبانوں کی دادی پردادی کی خالہ ضرور ہے۔

  • تو پھر سنیے کہ پشتو میں متکلم کی جنس کی مناسبت سے فعل بدل جاتا ہے، البتہ ’ہماری زبانوں‘ سے کچھ مختلف انداز سے۔

  • جناب ظفر صاحب مثالوں کے زریعے واضح کریں

  • لڑکا: زہ راغلی وم ۔۔۔ میں آیا تھا
    لڑکی: زہ راغلے وم ۔۔۔ میں آئی تھی

  • بھائی لڑکی کے لئے راغلی ہونا چاہیئے اور لڑکے کے لئے راغلے کیا خیال ہے۔

  • ہونا چاہیے اور ہوتا ہے میں پایا جانے والا فرق معمولی نہیں ہے حضور۔

  • جناب عالی یہ کون سے علاقے کی پشتو ہے ویسے۔

  • جنابِ والا، آپ نےکہا تھا کہ ’ہماری زبانوں‘ کے علاوہ کسی اور ہند یورپی زبان میں متکلم کی صنف کا اثر فعل پر نہیں پڑتا۔ میں نے اس کے برعکس مثال دے دی۔ اب بات آگے بڑھائیے۔ یا تو پشتو ہندیورپی نہیں یا پھر اردو ہندیورپی ہے، نئیں؟

  • ہندوستان زبانوں اور بولیوں کا عجائب خانہ ہے۔ یہ بھی نہیں کہ یہ سب زبانیں اور بولیاں کسی ایک خاندان سے تعلق رکھتی ہوں بلکہ کئی خاندان ایک دوسرے پر اثر انداز ہوئے ہیں۔الگ الگ خطے مختلف لسانی حلقوں میں تقسیم ہو گئے ہیں اور ایسے ادوار سے گزرے ہیں جن کی تاریخ بھی واضح طور پر سامنے نہیں ہے۔ اکثر زبانوں کے ایسے تحریری نمونے بھی موجود نہیں جن کی مدد سے ان کے ارتقا کو تاریخی تناظر میں سمجھا جا سکے۔ اس لئے برصغیر کی تمام زبانوں اور بولیوں کے نازک امتیازات کو قلم بند کرنا تقریبن نا ممکن ہے۔ ماہرین لسانیات نے اکثر اہم اور کچھ غیر اہم زبانوں پر کام کیا ہے پھر بھی بہت سے مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔۔

  • پشتو میں واحد غائب کی مثال سے بات شاید زیادہ واضح ہو جاے: لڑکا آیا = اہلک راغلو؛ لڑکی آئی = نجلئی راغلہ۔ شمالی ہند کی دراوڑی زبانوں میں بس لے دے کر براہوی بچی ہے ۔

  • بات واضح نہیں ہو رہی ، تمام انڈورورپین زبانوں میں وہ آیا اور وہ آئی کے لئے الگ صیغے ہیں لیکن میں آیا اور میں آئی کے لئے الگ صیغہ نہیں ہے۔۔

  • قاضی صاحب، ایسے ہی لیپاپوتی کر کے راہِ فرار اختیار نہ کیا کریں، اس لڑی کو آپ کی ضرورت ہے۔ جم کے بات ہونی چاہیے۔

  • قاضی صاحب جم کر بات کریں جناب

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔