اردو گنتی کے بکھیڑے........از، خالد احمد

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اردو بولنے والے بیشتر لوگ گنتی انگریزی میں کرتے ہیں؟اردو گنتیی کرتے کرتے کئی مقامات ایسے آتے ہیں کہ وہ جھلا کر انگریزی ہندسہ بول دیتے ہیں۔ بڑے بڑے اردو مقرر انچاس، انسٹھ، انہتر، نواسی، یا ننانوے پر آکر حواس باختہ ہو جاتے ہیں اور اسی بوکھلاہٹ میں فارٹی نائن یا ففٹی نائن پر اتر آتے ہیں۔ انسٹھ اور انہتر پر تو ہر کوئی لڑکھڑا جاتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ ہماری اردو درست یا مضبوط نہیں ہے لہٰذا یہ گڑ بڑاہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ ہماری غلامانہ ذہنیت کی علامت ہے۔ ہم انگریزی سے اس قدر مرعوب ہیں کہ اپنی گنتی بھی بھول چکے ہیں اور یہ کہ ہم تصنع اور بناوٹ کے شیدائی ہیں۔ ایسا فیصلہ دینا انصاف کی بات نہ ہوگی۔ بعض لوگ یقینا انگریزی زدہ ہوں گے۔ وہ اپنی گفتگو کو انگریزی اور اردو کا ایک بے ہودہ ملغوبہ بنانا باعث فخر سمجھتے ہوں گے لیکن اردو گنتی کے متعلق چند حقائق اور بھی ہیں جن پر سوچ لینے سے شاید ہمیں اس مسئلہ کی اصل وجوہات کا علم ہو جائے۔ اردو گنتی بنانے والا آریہ بھٹ جیسا کوئی ریاضی دان برہمن تھا یا جو بھی تھا، اس نے اردو گنتی میں آنے والی دہائیوں کو ذہن نشین کرانے کے لیے ایک گر ایجاد کیا۔ یعنی جب گنتی دہائی کے نویں ہندسہ پر پہنچے تو اس کی آواز اور آہنگ ہی سے پتہ چل جائے کہ اگلا ہندسہ دہائی کا ہے۔ یعینی وہ ’’انیس‘‘ کی صوت ہی سے سمجھ آجائے کہ اگلا ہندسہ ’’بیس‘‘ ہے۔ لہٰذا گنتی بولنے والا ’’اٹھارہ‘‘ کے بعد ’’نوارہ‘‘ نہ کہے بلکہ ’’انیس‘‘ کہے تاکہ اسے ’’بیس‘‘ کے صوتی آہنگ سے پیشگی آگاہی حاصل ہو جائے۔ لیکن ایسا کرنے میں اردو گنتی بنانے والے کی ذاتی سہولت کا عنصر تو دکھائی دیتا ہے، کوئی منطق نظر نہیں آتی۔ ہردہائی کے ہندسوں کی آواز پہلے ہندسے کی آواز سے طے ہوتی ہے۔ یعنی ’’آٹھ‘‘ کے بعد ’’نو‘‘ ہے’’نس‘‘ نہیں۔ جب تک ’’انتیس‘‘ (29) نہیں آتا، تمام ہندسے ’’بیس‘‘ (20) کی صوت کے تابع رہتے ہیں۔ ’’انتیس‘‘ (29) دراصل ’’تیس‘‘ (30) کا اعلان کرتا ہے۔ اور اگلی دہائی ’’تیس‘‘ (30) کی آواز کے تابع ہوجاتی ہے۔ ’’اڑتالیس‘‘ (48) تو ’’چالیس‘‘ کے تابع ہے لیکن ’’انچاس‘‘ (49) ’’پچاس‘‘ (50) کی نسبت ہے۔۔ اسی طرح ہم ’’اننانوے‘‘ (89) کو ’’نوے‘‘ (90) کا ہم صوت بنا دیتے ہیں۔ قباحت یہ ہے کہ اس طرح سماعت اور بصارت میں بعد پیدا ہو جاتا ہے۔ ہندسہ دیکھنے میں کچھ ہے، بولنے میں کچھ ہے۔ یہ تفاوت ہٹ جائے تو منطق بحال ہو سکتی ہے۔ انسانی ذہن بصری منطق کا قائل ہے۔ ہماری گنتی بعض مقامات پر بصری منطق کو نظرانداز کرنے کا تقاضا کرتی ہے، چنانچہ گڑ بڑاہٹ پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ لمحہ ہے کہ جب بولنے والا انگریزی ہندسہ سے رجوع کرتے ہوئے بے اختیار ’’ففٹی نائن‘‘ (59) کہہ اٹھتا ہے۔ یہ تفارت ’’انیس‘‘ (19) سے شروع ہوتی ہے۔ اگر اسے درست کر لیا جائے تو پوری گنتی ٹھیک ہو جائے گی۔ ’’انیس‘‘ اگر ’’نوارہ‘‘ ہوگا تو (29) ’’انیس‘‘ ہو جائے گا جو (29) کی بصری ہئیت کے عین مطابق ہے۔ اس طرح ہرنواں لفظ صوتی اور بصری ہم آہنگی کا حامل ہوگا۔ ’’انتیس‘‘ (39)، ’’انتالیس‘‘ (49)، ’’انچاس‘‘ (59)، ’’انسٹھ‘‘ (69)، ’’انہتر‘‘ (79)، ’’اناسی (89) اور ’’ننانوے‘‘ (99)۔ غور کیجیے کہ ہمارے آریہ بھٹ نے ’’ننانوے‘‘ (99) کے معاملہ میں اپنی ہی منطق سے انحراف کیا ہے۔ اگر دہائی کا نواں ہندسہ آخری ہندسہ کی صوت کے حساب سے ہوگا تو ’’ننانوے‘‘ کو ’’نوے‘‘ (90) کی آواز پر کیوں رکھا گیا؟ اسے ’’نسو‘‘ کیوں نہ کہا گیا؟ ظاہر ہے کہ بنانے والے نے کوئی مربوط نظام نہیں بنایا۔ اب اگر کوئی خوش گفتار اردو دان یہ کہے کہ میں سکسٹی نائن میں ڈھاکہ مقیم تھا تو اس بیچارے سے کیا گلہ؟ ہمیں ماننا چاہیے کہ ہماری گنتی میں منطقی سقم ہے۔ اس کی اصلاح ممکن ہے یا نہیں لیکن اسے تسلیم تو کیا ہی جانا چاہیے۔ یہ مانے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں کہ صوتی آہنگ کے اعتبار سے اردو پہاڑے پنجابی پہاڑوں سے کمزور ہیں۔ پنجابی میں اگر ’’ویاں‘‘ (20) کی گنتی آئی تو شاید اس کے پیچھے سنسکرت اور پراکرات گنتی سے عام آدمی کی بیزاری کارفرما تھی۔ کئی دوسری قومیں بھی بے منطق گنتی میں الجھی ہوئی ہیں۔ فرانسیسی گنتی بھی ’’ویاں‘‘ کی گنتی ہے۔ یعنی وہ ساٹھ کے بعد ’’ساٹھ اور دس‘‘ کہتے ہیں۔ وہ ’’اسی‘‘ (80) کو چار ’’مرتبہ بیس‘‘ اور ’’نوے‘‘ کو چار مرتبہ بیس اور دس‘‘ کہتے ہیں۔ پنجابی کا ’’وی‘‘ (20) فرانسیسی میں ’’ویں‘‘ ہے اور یہ ایک عجیب اتفاق ہے۔ آریا قوموں کی گنتی ملتی جلتی تھی۔ ’’آٹھ‘‘ (8) کو سنسکرت میں ’’اشٹ‘‘، فارسی میں ’’ہشت‘‘، جرمن ’’اخت‘‘ اور لاطینی میں ’’آکسٹس‘‘ کہا جاتا ہے۔ سنسکرت کا ’’سپت‘‘ (7) فارسی میں ’’ہفت‘‘ لاطینی میں ’’سپت‘‘ اور فرانسیسی میں ہمارے ’’سات‘‘ کی طرح ’’ست‘‘ ہے۔ (کتاب: لفظوں کی کہانی لفظوں کی زبانی، مصنف خالد احمد

تبصرے

  • بہت عمدہ صاحب، خالد احمد صاحب نے شاید ہماری گفتگو سے سرقہ کر لیا ہے :)

  • زہین لوگ ایک طرح سوچتے ہیں جناب۔ خالد احمد نے یہ کتاب کافی عرصہ پہلے لکھی تھی ۔۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔