اردو گنتی میں سنگین خامی؟

August 2017 کو ترمیم کیا میں عمومی

انگلش میڈیم پڑھنے والے بچوں کو اردو گنتی سمجھنے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے۔ آپ نے کئی ایسے بچے اور بڑے دیکھے ہوں گے جو انہتر اور اناسی میں فرق نہیں کر سکتے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

اردو ہندسوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ خالص اعشاری یعنی دس کے نظام پر کاربند نہیں رہتے اور نو پر پہنچ کر اگلے عشرے کی صوتیات اپنا لیتے ہیں۔ مثال کے طور بیس کی مناسبت سے اکیس (ایک اور بیس)، بائیس (با اور بیس ۔۔۔ با کا مطلب دو ہے جیسے انگریزی میں بائی)، تئیس (تین اور بیس) ۔۔۔ پھر سائیس (سات اور بیس)، اس کے بعد اٹھائیں (آٹھ اور بیس)۔ یہ سارا نظام بہت سہل اور عام فہم ہے۔ لیکن اس کے بعد اردو ہندسے ایک عجیب موڑ مڑ کر ٭موجودہ٭ عشرے کی بجائے ٭اگلے٭ عشرے کی صوتیات اپنا لیتے ہیں۔ اس لیے اوپر دی گئی مثال کے مطابق منطقی ترتیب تو یہ ہونی چاہیے تھی کہ اٹھائیس کے بعد انائیس آتا، لیکن اب گنتی ایک عشرہ پھلانگ کر اگلے یعنی تیس کے عشرے میں داخل ہو جاتی ہے، اور اٹھائیس کے بعد انتیس آتا ہے یعنی نو اور تیس!

یہی صورتِ حال دوسرے عشروں میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ سینتیس (سات اور تیس)، اڑتیس (آٹھ اور تیس) کے بعد انتیس ہونا چاہیے تھا لیکن ہم جست لگا کر چالیس کے عشرے میں پہنچ کر وہاں سے انتالیس (نو اور چالیس) لے آتے ہیں۔

یہی چیز سب سے زیادہ انہتر اور اناسی میں تنگ کرتی ہے۔ قیاس کہتا ہے کہ سڑسٹھ (سات اور ساٹھ)، اڑسٹھ (آٹھ اور ساٹھ) کے بعد انسٹھ (نو اور ساٹھ) ہوتا، لیکن نہیں ہے۔ اس کی بجائے انہتر ہے جو اگلے عشرے یعنی ستر کی صوتیات کے مطابق ہے۔ اسی طرح اناسی ستر کے عشرے میں پایا جاتا ہے حالانکہ اس کی جگہ اسی والے عشرے میں بنتی ہے۔

کیا کہتے ہیں علمائے لسانیات بیچ اس مسئلے کے؟

تبصرے

  • ظفر صاحب آپ نے درست فرمایا کہ انگلش میڈیم پڑھنے والوں بچوں کو اردو گنتی سکھانے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے بلکہ کسی غیر ملکی کو اردو گنتی پڑھانے بھی ایسی ہی پریشانی ہوتی ہے۔
    ظفر صاحب کسی حد تک ہماری گنتی میں بھی وہی اصول کارفرما ہیں جو انگریزی گنتی میں ہیں یعنی ایک سے نو تک ہر گنتی مفرد ہے اور پھر دس کے بعد پہلی دہائی کے کسی مفرد کو ملا کر ایک نیا عدد بناتے ہیں جیسا کہ آپ نے بھی لکھا ہے مثلا اکیس اصل میں اک بیس ہے اسی طرح بائیس بایس تھا اور یہ با انگلش والا بائی بمعنی دو نہیں ہےبلکہ یہ بھی کسی قدیم پراکرت کا با یا بو لفظ ہے جس کے معنی دو ہیں ۔اب بھی سندھی اور گجراتی میں بو بمعنی دو موجود ہے۔ اور یہ بو مختلف شکلوں میں بیس ،بائس ، بتیس، بیالیس، باون، باسٹھ، بہتر، بیاسی اور بانوے میں موجود ہے۔رہی بات نو پر پہنچ کر اگلے عشرے کی صوتیات اپنانا یہ واقعی ایک الجھن ہے، اور انہتر اور اناسی کی نسبت اناسی اور نواسی کے فرق میں بڑے بڑے بھول جاتے ہیں اناسی کو اسی نو اناسی سمجھ لیا جاتا ہے۔ہماری گنتی مین آتھ کے بعد دس والا نظام چھوڑ کر ایک نیا اصول اپنا لیا جاتا ہے پتہ نہیں کیوں؟ اور وہ اصول ،اُن، سنسکرت کا سابقہ بمعنی ایک کم کے ہیں،
    انیس دراصل اُن بیس تھا ےیعنی ایک کم بیس (علمی اردو لغت وارث سرہندی) انتیس اُن تیس ، انتالیس اُن چالیس،انچاس اُن پچاس،انسٹھ اُن ساٹھ ، انہتر اُن ستر ، اناسی اُن اسی تھا۔اور نواسی اور ننانوے پر پہنچ کر پھر دس والا اصول اپنا لیا گیا ،نواسی نو اور اسی اور ننانوے نو اور نوے۔ البتہ سندھی اور دکنی گنتی میں نواسی میں بھی ایک کم والا اصول موجود ہے۔

  • حضور، ہمارے اصول وہی نہیں ہیں جو انگریزی میں ہیں۔ انگریزی میں گنتی کا طور ہر عشرے کی پٹی میں ایک سے لے کر نو تک یکساں رہتا ہے، ہمارے ہاں ایک سے آٹھ تک یکساں رہنے کے بعد نو کا ہندسہ پٹی سے اتر کر اگلے عشرے سے جا ملتا ہے، اسی سے سارا الجھاؤ پیدا ہوتا ہے۔

    پنجابی میں بھی ایسا ہی ہے البتہ پشتو میں انگریزی کی طرح گاڑی سیدھی پٹری پر چلتی ہے۔

  • حضور ،تبصرہ کرنے سے پہلے پوسٹ غور سے پڑھ تو لیا کریں ۔ میں نے کب کہا ھے کہ ہماری گنتی میں مکمل انگریزی گنتی والے اصول کارفرما ہیں، مین نے لکھا تھا کہ کسی حد تک ہماری اردو گنتی میں بھی انگریزی گنتی والے اصول موجود ہیں،اور وہ ہیں بھی ۔ اور وہ آپ بھی جانتے ہیں ۔

  • حضورِ والا، اس پوسٹ میں اردو گنتی کی ایک انفرادیت کی بات ہو رہی ہے کہ آٹھ تک پہنچنے کے بعد اس کی گنتی موجودہ عشرے میں رہنے کی بجائے اگلے عشرے سے ’ہم قافیہ‘ ہو جاتی ہے۔ اور یہ ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے لوگ کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جس چیز کو آپ انگریزی اصول بتا رہے ہیں وہ اکثر زبانوں میں بھی موجود ہے مثلا فارسی یا عربی میں، حتیٰ کہ پشتو میں بھی اسی کامن سینس طریقے سے گنتی بڑھتی ہے۔ مثال کے طور پر فارسی میں دیکھیے:

    بیست و ہفت، بیست و ہشت، بیست و نہ

    اس کے مقابلے پر اردو، پنجابی، گجراتی اور اس قبیلے کی دوسری زبانوں میں یہ انوکھا اصول موجود ہے، جو سنسکرت سے آیا ہے۔

    انیس، انتیس، انتالیس وغیرہ میں جو ان پایا جاتا ہے اس کا مطلب منفی ایک ہے۔ یعنی انیس کا مطلب ہے بیس منفی ایک، اسی طرح انچاس سے مراد پچاس منفی ایک ہے۔

    البتہ گیارہ بارہ تیرہ میں جو آرہ ہے اس کے ماخذ کا پتہ نہیں چل سکا۔ سنسکرت میں تو گیارہ کی بجائے ایکادشا ہے، جس سے گیارہ بننا مشکل ہے۔ قیاس کہتا ہے کہ آرہ کا مطلب کسی پراکرت میں دس رہا ہو گا، اس سے اک آرہ بنا جو بعد میں گیارہ ہو گیا۔ علی ہذا القیاس۔

  • August 2017 کو ترمیم کیا

    ہماری گنتی میں اٹھارہ کے بعد انارہ ہونا چاہیئے اور اٹھائیس کے بعد انیس ، اڑتیس کے بعد انتیس۔۔ ویسے یہ دو بھی عجیب ہے بارہ کی جگہ دورا ہونا چاہیے ، بائیس کی جگہ دوئیس اور بتیس کی جگہ دوتیس ۔ کیا کہتے ہیں پنچ بیچ اس مسئلے کے

  • شاہد صاحب، آپ نے دلچسپ مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے، دو اور بو، لیکن میرا خیال ہے کہ اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ زبانوں میں آوازیں بدل جایا کرتی ہیں۔ مثلاً انگریزی میں اصل لفظ
    duo
    تھا لیکن تو تغیرِ زمانہ سے بدل کر
    two
    ہو گیا، البتہ اب بھی ڈوئل اور
    duality
    جیسے الفاظ میں اس کے آثار نظر آتے ہیں۔

    اصل پروٹو انڈویوروپین میں
    dwo
    ہے، اور ماہرین کے مطابق
    dw
    بدل کر بو بن گیا۔

    اسی عمل کی چند مثالیں دیکھیں:

    dwellum > bellum
    dwenos > bonus

    اس عمل کو تکنیکی زبان میں
    Stop-glide fusion

    کہا جاتا ہے
    سو حاصلِ کلام یہی ہے کہ بارہ، بائیس، بتیس وغیرہ میں جو ب ہے اس کا مطلب بھی دو ہی ہے۔

  • سرائیکی میں دو کو ڈو ہی کہتے ہیں البتہ سندھی میں دو کو با کہا جاتا ہے،میمنی میں بو کہتے ہیں اس با یا بو سے بارہ اور بائیس زیادہ آسان ہو جاتا ہے

  • بہت عمدہ شاہد صاحب۔ آپ کی مثالیں سے بات پانی ہو گئی ہے کہ ہندوستانی زبانوں میں بھی ب دو کے لیے آتا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ان زبانوں نے یہ چیز سنسکرت سے نہیں لی جہاں دو کے لیے دُو رائج تھا۔ لیکن یورپی زبانوں میں اسی ب کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لفظ بہت پرانا ہے۔

    اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ معروف نظریے کے مطابق تو ہندوستانی زبانوں کا یورپی زبانوں سے سنسکرت کے ذریعے رشتہ جڑتا ہے۔ لیکن اردو، پنجابی، سندھی، میمنی وغیرہ میں اگر ب سنسکرت سے نہیں آیا تو پھر کہاں سے اور کس راستے سے آیا ہے؟

  • ظفر صاحب میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اردو ہندی سندھی پنجابی وغیرہ کو براستہ سنسکرت یورپی زبانوں کے خاندان سے جوڑنا غلط ہے۔ انگریز نے یہ غلطی کچھ الفاظ کے مشترک ماخذ کی وجہ سے کی ورنہ اپنے چلن اور قوائد کی رو سے ہند آریائی زبانوں اور ہماری زبانوں میں بہت زیادہ فاصلہ ہے

  • حضور، اگر اسی بات کو لے کر ایک الگ لڑی چھیڑ دیں تو وہاں بحث ہو سکتی ہے۔ مجھے خود اس بارے میں کچھ تحفظات ہیں مگر معاملہ تھوڑا گمبھیر ہے۔

  • ظفر صاحب، یہی بات میں نے اپنی پہلی پوسٹ میں لکھی تھی کہ با،بو بمعنی دو ادھر ہی کی کسی قدیم پراکرت سے لیا گیا ہےاور ساتھ سیندھی اور گجراتی زبان کی مثال بھی دی تھی۔اور لکھا تھا کہ یہ ان سنسکرت کا سابقہ ہے جس کے معنی ایک کم کے ہیں یعنی انیس ،ان بیس تھا ،بیس سے ایک کم،اور یہ اناسی تک چلتا ہےاور نواسی اور ننانوے پر جا کر دس والے نظام میں تبدیل ہو جاتا ہے۔آپ گھوم پھر کر میری پہلی پوسٹ پر آ گئے ہیں۔وہ پنجابی میں کہتے ہیں نا، پائی نہیں چار، والی بات ہے۔
    ویسے ایک بات غور طلب ہے جس طرح ہماری اردو مختلف پراکرتوں کا مجموعہ ہے اسی طرح اردو گنتی میں بھی اصول مختلف پراکرتوں سے لیے گئے ہوں جو وقت کے ساتھ ساتھ لسانی تقاضوں کے تحت بدلتے رہے ہوں۔ جیسے دہائیوں میں جو س یا ایس آتا ہے دس ہی ہے ،بیس اصل میں ب ضرب یس ہے یعنی دو ضرب دس، تیس تین ضرب دس، اسی طرح چالیس اور پچاس لیکن ساٹھ پر آ کر پھر تبدیل۔
    گیارہ بارہ ،،،،،،،،،،، میں جو آرہ یا رہ ہے وہ آپ نے بھی لکھا ہے کہ ہو سکتا ہے کسی پراکرت میں دس کو ارہ کیتے ہوں ہو سکتا ہے،لیکن یہاں س یا ایس کی بجائے ارہ یا رہ لگانے کی وجہ یہ قیاس کی جا سکتی ہے کہ کیارہ ،بارہ تیرہ،،،،،،کی بجائے اکیس بایس تیس،،،،،تو یہ بیس کے بعد کے عددوں کی بھی یہ ہی صوت ہے،ہو سکتا اس صوتی پریشانی سے بچنے کے لیے ایسے کیا گیا ہو۔بہرحال کوشش سے مزید انکشافات ہو سکتے ہیں۔

  • August 2017 کو ترمیم کیا

    گنتی اصل میں تو الفاظ ہیں اعداد تو کہیں بہت بعد میں ایجاد ہوئے لگتا ایسا ہے کہ شمالی برصغیر بشمول وادی دریائے سندھ گنتی کے الفاظ تت سم یا تدبھو نہیں ہیں۔ یہ شائد پرانی سے پرانی پراکرتوں سے سے بھی پہلے سےرائج چلے آرہے ہیں۔ پانچ سے سات ہزار سال پہلے وادی دریائے سندھ سے بابل و نینوا اور یمن کی جانب ہونے والی تجارت گنتی کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ہڑپہ کی مہروں پر یقینن گنتی بھی موجود ہے افسوس پاکستان بننے کے بعد شعبہ آرکیالوجی میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی نہ ہی وادی سندھ کی لیپی پر کوئی تحقیقی کام ہوا ہے۔

  • اقبال شاہین صاحب آپ نے عمدہ معلومات فراہم کی ہیں۔ شان الحق حقی نے اردو گنتی پر مضمون لکھا ہے لیکن اس میں بھی گیارہ بارہ کے مسئلے پر روشنی نہیں ڈالی۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ ہماری گنتی مختلف ماخذات سے حاصل کردہ ایسا گچھا ہے جس کے دھاگے سلجھانا بڑا مشکل نظر آتا ہے۔

    شاہد صاحب، ہڑپہ لپی پر کام تو بہت ہوا ہے (گوروں کی طرف سے) لیکن افسوس کہ اس گتھی کو سلجھانے میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ لیکن اندازہ ہے کہ یہ زبان اردو سے بےحد مختلف ہو گی، شاید دراوڑی خاندان کی زبان۔

  • بھائی جب ہم ہڑپہ اور موئنجودڑو کی تہزیب کا حامل ہونے کا دعوا اور اس پر فخر کرتے ہیں تو اس کی لپی پر کام کیوں نہیں کرتے،کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے۔۔ ویسے میری رائے میں ہڑپہ موئنجودڑو اور ان کے پیشرو مہرگڑھ کی زبان دراوڑی نہیں رہی ہوگی۔۔

  • August 2017 کو ترمیم کیا

    حضور میں پچھلے سال مہرگڑھ گیا تھا۔ وہاں صرف چند گڑھے کھدے ہوئے ہیں۔ جب تک گورے وہاں کام کرتے رہے، کچھ نہ کچھ نکالتے رہے، ان کے جانے کے بعد ایسی ویرانی ہے کہ کلیجہ منھ کو آتا ہے۔ وہاں سے نکالے گئے نوادرات دنیا بھر کے چوربازاروں میں بیچے گئے ہیں، جو بچا کھچا مال تھا وہ کراچی کے عجائب گھر کے گودام میں سڑ رہا ہے۔ کسی کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ اسے جھاڑ کر کہیں نمائش کے لیے رکھ دے۔ یونیسکو نے کہا تھا کہ آپ درخواست دیں کہ اسے ورلڈ ہیریٹیج میں شامل کیا جائے۔ آج تک وہ درخواست تک مرتب نہیں ہو سکی، آپ لپی پر کام کی بات کر کے خواہ مخواہ دل جلا رہے ہیں۔

  • وائے ناکامی افسوس متائے کارواں جاتا رہا۔۔ حضور یعنی کوئی بے قدری سی بے قدری ہے۔ کوئی نالائقی سی نا لائقی ہے۔۔ہماری حکومتوں کی ترجیحات پر رونے کے علاوہ کیا کیا جا سکتا ہے۔۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔