ادھورے الفاظ

اردو میں بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو مرکب حالت میں تو بامعنی ہیں لیکن جب ان سے سابقے لاحقے ہٹا دیے جائیں تو وہ بےمعنی ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ناہنجار کا مطلب تو بےراہ رو،، گمراہ وغیرہ ہے، لیکن لفظ ہنجار لغت میں موجود نہیں ہے۔

اسی طرح سے بیزار تو اکتایا ہوا کے معنی میں موجود ہے لیکن زار کا کہیں پتہ نہیں ملتا۔ ایسی ہی ایک اور مثال ناگزیر کی ہے جو لازمی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اب اصولاً تو چاہیے تھا کہ غیر لازمی کو گزیر کہتے، لیکن گزیر استعمال نہیں ہوتا۔

کیا آپ ایسے مزید الفاظ کی مثالیں دے سکتے ہیں؟

«1

تبصرے

  • ;) بیوقوف/بےوقوف

  • نازیبا

  • شاہ صاحب، بےوقوف تو ٹھیک ہے لیکن نازیبا نہیں کیوں کہ زیبا تو عام ہے اور ایک مشہور اداکارہ کا نام بھی ہے۔

  • ناگہاں

  • بیابان،،بیدار،بیمار ، نادار، بیوپار

  • اٹکل پَچو

  • حضور، اس لفظ میں گھوڑا کون ہے اور گاڑی کون؟

  • اٹکل پچو لفظ میں گھوڑا اور گاڑی کی سمجھ نہیں آ رہی۔ البتہ لفظ اٹکل میں جو ، کل، ہے اس کے معنی مشین کے ہیں۔گھوڑا گاڑی کا شاہد صاحب بہتر بتا سکیں گے۔

  • شیخ چلی

  • اٹکل باقائدہ لفظ ہے یہ ہندی کے اٹ اور کل کو ملا کر بنایا گیا ہے۔ سب سے پہلے 1593 عیسوی میں آئین اکبری میں اس لفظ کا استعمال ملتا ہے۔ پچو مجہول ہے

  • ویسے ہندکو زبان میں اٹکل باقاعدہ استعمال ہوتا ہے اور اس کا مطلب طریقہ ہوتا ہے۔ جیسے ’مجھے گاڑی چلانے کی اٹکل نہیں آتی‘

  • August 2017 کو ترمیم کیا

    لفظ ۔۔اٹکل ۔۔ اردو میں بھی باقائدہ استعمال یوتا ہے۔
    1. حس ذکی، وجدان، جبلی صلاحیت۔
    ؎ دیکھا چشم غور سے تو ہے بدل ہر چیز کا
    بدلے آنکھوں کے ہے اٹکل کور مادر زاد کو، [1
    2. قیاس، عقلی تکا؛ قرینہ (جس کی بنیاد علم و ادراک پر نہ ہو)۔
    "اٹکل سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر ایک بھی نہیں بچا۔"، [2
    3. اندازہ، تخمین (وزن، شمار اور پیمائش کے بغیر)۔
    ؎ پیمانے کی حاجت نہیں مجھ تشنہ مے کو
    اے پیر مغاں تو مجھے اٹکل سے پلا دے، [3
    4. دریافت، وقوف (جس کی بنیاد ذوق یا فطری تمیز پر ہو)۔
    ؎ کن حسینوں سے تم کو نسبت دوں
    سب سے اچھے ہو میری اٹکل میں، [4
    5. سواد، پہچان، شناخت (تجربے یا تکرار کے بعد)۔
    "وہ اپنی دریافت مقصد کے باعث اپنے فن کی اٹکل بھی ہاتھ سے کھو بیٹھتا ہے"، [5

  • شاہد صاحب آپ نے تو لفظ اٹکل کو پوری طرح گھوما دیا ہے۔اورنوراللغات میں اس کے معنی بھی کچھ اسی طرح ہین، اٹ بمعنی پھرنا اور کل بمعنی حساب کرنا۔بلکہ ایک لغت نے لفظ پچو کو سنسکرت زبان کے لفظ پکشو سے ماحوذ لکھا ہے لیکن لفظ پکشو کے معنی نہیں ملے۔

  • اچھا ہوا جناب آپ ہندکو کی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اٹکل کے تمام دھام گھوم آئے۔ سلامت رہیں

  • بےہنگم بھی ایسا ہی ایک لفظ ہے۔ اکیلا ہنگم سننے میں نہیں آتا۔

  • اصل میں بے ہنگام ہے۔ ہنگام باقائدہ لفظ ہے جس کے معنیٰ ہیں وقت، زمانہ یا موقع
    غالب کا شعر ہے۔۔
    حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے
    اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچھا ہے
    لغت میں مرغ بے ہنگام یا بانگ بے ہنگام مشہور محاورہ ملتا ہے۔۔

  • شاہد صاحب، آپ کی بات درست ہے کہ اصل لفظ بے ہنگام ہے اور لفظ ہنگام بھی لغت میں موجود ہے۔ اور لفظ بے ہنگم(جس کی اصل بے ہنگام ہے) بھی اردو میں بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے البتہ صرف ہنگم لغت میں نہیں ملے گا۔
    اپنی بانہوں کے ٹوٹتے ہوے گھیرے مین
    بے ہنگم خوابوں کے بکھرتے دائرے میں (نعمان شوق)
    اک فغانِ بے ہنگم اشتہار سودا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(عازم )
    اگر الفاظ کی اصل تلاش کریں تو پھر ادھورے الفاظ کم ہی رہ جائیں گے۔
    مثلا آپ نے لفظ ناگہاں لکھا تو ناگہاں دراصل ناگاں ہے اور ناگاں یا ناگاہ نا اور آگاہ سے مرکب ہے اورآگاہ کے معنی خبر دار اور واقف کے ہیں ،اورنا آگاہ کے معنی ہوئے بے خبری میں نا جانتے ہوئے، اچانک یکایک۔
    اسی طرح لفظ بے وقوف میں لفظ وقوف لغت میں جاننا،آگاہی،اور واقفیت کے معنی میں موجود ہے۔
    میں نے لفظ بیابان لکھا تھا تو لفظ بیابان دراصل بےاور آباں سے مرکب ہے اور آباں معنی پانی ہے۔یعنی جہاں پانی نہ ہو ،ویرانہ ،غیر آباد، بے آب وگیاہ

  • جناب آئی شاہین صاحب بندہ آپ سے متفق ہے۔ آپ نے ان ادھورے مرکب الفاظ کے حوالے سے درست فرمایاہے۔

  • چلیے ہنگام پر میر کا ایک شعر بھی سن لیجیے

    ہنگامِ جلوہ اس کے مشکل ہے ٹھہرے رہنا
    چتون ہے دل کی آفت، چشمک بلائے جاں ہے

  • شاہین صاحب آپ نے حسبِ معمول میرے ’علم‘ میں بہت اضافہ فرمایا ہے۔ خاص طور پر بیاباں کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ اس کی بنیاد آب پر ہے۔

  • دھین دھوکڑ یا دھین دھونکڑ مین لفظ دھوکڑیا دھونکڑ لغت میں کہیں نہیں ملا

  • مرکب الفاظ خانہ بدوش اور حلقہ بگوش ادھورے الفاظ میں لکھنے لگا تو سرجری کرنے سے معلوم ہوا یہ تو مکمل الفاط ہیں۔
    خانہ-ب-دوش، خانہ گھر کو اور دوش کندھوں کو کہتے ہیں ۔یعنی وہ لوگ جو اپنے گھروں کو کندھوں پہ اٹھائے گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔
    حلقہ-ب-گوش، حلقہ ،کڑے اور کنڈل کو اور گوش کانوں کو کہتے ہیں ،یعنی جس شخص کے کان میں غلامی کا کڑا ہو۔غلام اور مطیع کے لیے بولتے ہیں۔

  • لم ڈھینگ بھی ایک ایسا ہی مرکب ہے جس میں لم تو شائد لمبے کے لئے استعمال ہوا ہے ڈھینگ کی بابت معلوم نہیں ہے

  • جیسے لم تڑنگا مرکب میں لفظ تڑنگا لغت میں موجود نہیں ہے۔

  • September 2017 کو ترمیم کیا

    شاہد صاحب، لم ڈھینگ کی بابت ایک بعید از قیاس قیاس آرائی حاضرِ خدمت ہے۔

    ڈنکا اس چھڑی کو کہتے ہیں جس سے ڈھول بجایا جائے۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ ڈنکا ۔۔ ڈنگ ۔۔ ڈھنگ ۔۔ ڈھینگ ۔۔ میں تبدیل ہو گیا ہو؟

    چونکہ اس پرندے کی ٹانگیں چھڑی کی مانند پتلی اور لمبی ہوتی ہیں اس لیے شاید اسی مناسبت سے نام پڑ گیا ہو۔

    اگر آپ چاہیں تو اسی خیال کو پنجابی کے ڈانگ (لاٹھی) سے مزید تقویت دے سکتے ہیں۔

  • سنسکرت زبان کے لفظ ڈَنْڈَک سے ماخوذ اسم ہے جو اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے 1654ء میں "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔
    لم ڈھینگ صرف مرد کے لئے بطور صنعت صفت استعمال ہوتا ہے۔ بہت ممکن ہے ڈھینگ ڈھنگ سے نکلا ہو۔

  • ویسے لم ڈھینگ ایک پرندے کو کہتے ہیں جس کی گردن لمبی ہوتی ہے۔اس کی گردن پر ایک تھیلی سی بھی ہوتی ہے۔

  • مٰیں نے لفظ لم تڑنگا بھی لکھا تھا لیکن آپ دوستوں نے توجہ نہیں فرمائی۔
    چلو لفظ لم ڈھینگ کے مزید بخیے اُدھیڑ لیتے ہیں۔
    لم ڈھینگ ایک پرندے کا نام ہے، اور اس بات پر سب متفق ہیں کہ یہ پرندہ لمبی ٹانگوں والا ہے۔
    اب ہم لم سے بننے والے چند مرکبات دیکھتے ہین۔
    لم پرا ،یعنی لمبے پروں والا
    لم چونچا، معنی لمبی چونچ والا
    لم کنا ،لمبےکانوں والا
    لم گردنا،لمبی گردن والا
    لم ڈگو، لمبے قد والا یا لمبے قدم بھرنے والا (ڈگ معنی قدم)۔
    لم تڑنگا، جو کہ ابھی زیر غور ہے۔
    یہ مرکبات وارث سرہندی کی علمی اردو لغت سے لکھ رہا ہوں۔
    اسی لغت میں اس پرندے کا نام ،لم ٹنگااور لم ٹنگو، یعنی لمبی ٹانگوں والا بھی لکھا ہے۔
    ان تمام مرکبات میں لم کے ساتھ جو بھی الفاظ آئے ہیں، پر، چونچ،کان، گردن،ٹانگ ڈگ وغیرہ یہ سب لمبے ہیں جس بھی جانور کے ہوں۔
    اسی طرح پرندے لم ڈھینگ کے متعلق سب متفق ہیں کہ یہ لمبی ٹانگون والا ہے۔تو یہ لفظ ڈھینگ جس بھی زبان سے آیا ہے اس کے معنی ،ٹانگ، کے ہین۔
    پنجابی میں ایک لفظ ہے، ڈھنگا ، جس کے معنی ہیں ،مویشی کی ٹانگوں کو باندھنے والا رسہ
    ڈھنگن یا ڈھنگنا، گایے، بھینس اور گدھے کی ٹانگوں کو رسی سے جکڑنا یا باندھنا۔
    ممکن ہے یہ لفط کسی قدیم پراکرت سےبنتا بگڑتا لفظ ڈھیگ تک پہنچا ہو جس کے معنی ٹانگ ہون۔

  • جی لم ڈھینگ پرندے کو کتابی زبان میں حاجی لق لق کہا جاتا ہے۔۔ کئی ادب پاروں میں اس پرندے کا یہی نام یعنی حاجی لق لق مزکور ہے۔۔

  • شاہین صاحب، آپ نے جو لم ڈگو کا ذکر کیا اس سے (میرے خیال میں) گتھی سلجھ گئی ہے۔ پلیٹس میں ڈگ کی ذیل میں لکھا ہوا ہے

    H ڐگ डग ḍag
    , डिग ḍig (see ḍignā), s.f. Pace, step, stride (also written ḍheṅg, deg):—ḍag bharnā, ḍag dharnā, v.n. To step, step out, stride

    اس کے مطابق ڈگ کا ایک روپ ڈھینگ بھی ہے، چنانچہ لم ڈھینگ، لمبے ڈگ والا۔
    قصہ خلاص

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔