اردو کے مٹتے الفاظ

ابھی چند برس تک جلوس اور جلسہ نہایت عام استعمال کیے جاتے تھے، لیکن اب میڈیا پر لفظ ریلی نے ان دونوں الفاظ کی جگہ لے لی ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جلسہ و جلوس جیسے سادہ، آسان اور مقبول الفاظ بھی قصۂ پارینہ بن جائیں گے۔

اسی طرح ایک زمانے میں ’وقفہ‘ عام استعمال ہوتا تھا، لیکن اب اس کی جگہ ہر جگہ بریک نے لے لی ہے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ ایک وقفے کے بعد ملتے ہیں، بلکہ ہر چینل پر سننے میں آتا ہے، ملتے ہیں ایک بریک کے بعد۔

دوستوں سے گزارش ہے کہ اس لڑی میں اردو کے ایسے ہی الفاظ کی نشان دہی کریں جو انگریزی کی یلغار تلے دب رہے ہیں۔

تبصرے

  • اب تواردو پر انگریزی کی یلغار کا یہ عالم ہے کہ ننھے منے بچوں کو اردو مین سانس لینے کی بھی اجازت نہیں ، تین سالہ بچہ انگریزی سکول میں جاتے ھی انگریزی کی نذر کر دیا جاتا ہے اور سکول میں اردو بولنا پڑھنا اور سیکھنا اس کے لیے شجرِ ممنوعہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اور گھر میں ان پڑھ مائیں بھی بچے کو ڈیڈ مام انکل اور ہائے بائے جیسے الفاظ سکھانے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔
    پوری قوم کو انگریزی کا بخار چڑھا ہوا ہے،۔ ہم نے بحثیت مجموعی اپنے ذہنوں پر یہ طاری کر لیا ہے کہ بات چیت مین جگہ جگہ انگریزی کے الفاظ کا استمعال ہمارے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت سمجھا جائے گا اور لوگ ہم سے مرعوب ہوں گے۔
    آصف جیلانی نے بڑی اچھی بات لکھی ہے کہ انگریزون کی غلامی کے دور مین بھی ہم نے انگریزی کا طوق اپنے گلے میں اس طرح نہین ڈالا تھا جس طرح اب آزادی کے بعد ڈال لیا ہےاور اس پر فخر کرتے ہیں۔
    ہمارے ٹیلی وژن چینلز اور اخبار اردو کو مسخ کرنے میں سب سے آگے ہین۔آپ نے بریک کی بات کی تو یہ بریک دفتروں اور سکولوں میں بھی آ گئی ہے ،سکول میں تفریح کا فرحت بخش با معنی خوبصورت لفظ بریک تلے دب گیا ہے۔لفظ دفتر کی جگہ آفس نے لے لی اور چائے کا وقفہ ٹی بریک میں بدل گیا،آج کی تازہ خبر بریکنگ نیوز میں بدل گئی
    انگریزی کے کچھ الفاظ ایسے ہیں جو اردو مین بکثرت استعمال ہوتے اور اب اردو کا حصہ معلوم ہوتے ہین جیسے ٹیلی وژن، ٹیلی فون، ریڈیو، لاوڈ سپیکر، پاسپورٹ،لیپ ٹاپ وغیرہ لیکن وہ الفاظ جن کے مناسب متبادل اردو میں موجود ہیں ان کی اردو میں آمیزش بے جا ہے۔
    جیسے ریٹ؛ نرخ فوکس؛ توجہ کرپشن؛بد عنوانی انیٹی کرپشن؛ انسداد بد عنوانی سلیکشن؛انتخاب سپریم کورت؛ عدالتِ عظمی ٹیکس؛ محصول پرفارمنس؛ کارکردگی ٹرینگ؛ تربیت فیکٹری ؛کارخانہ وغیرہ
    اخبار سامنے رکھ لیں یا تی وی کے سامنے بیٹھ جائیں تو انگلش کے بہت زیادہ الفاظ مل جائیں گے جو بے جا استعمال کیے جا رہے ہین۔
    آصف جیلانی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ انگریزی واقعی ایک جاندار اور مالدار زبان ہے اور ہمارے طالب علموں کو اس میں پوری دسترس حاصل کرنی چائیے لیکن اس طرح جس طرح چینی، جاپانی، جرمن،فرانسیسی، اطالوی اور دوسری قومیں انگریزی سے فیض حاصل کرتی ہیں لیکن اپنی زبانوں کو انگریزی کے لیے قربان نہین کرتین۔
    داناوں کا کہنا ہے کہ زبان ثقافت اور شناخت کی سب سے بڑی محافظ ہے۔

  • Tension ka lafz pareshani ke jaga istimal kia jata hai. Hudd to ye hai keh "use"nay mustaqilan istimal ke jaga lay lee hai.
  • May 2017 کو ترمیم کیا

    آج ایک جگہ لفظ ممبرانِ اسمبلی پڑھا۔ حیرت ہے کہ سامنے کے لفظ رکن یا ارکان کو طلاق دے کر ممبر لایا گیا، پھر اس کی فارسی قاعدے سے جمع بنائی گئی اور اس کے بعد طرفہ تماشا یہ کہ اضافت کے ذریعے ایک اور انگریزی لفظ سے ملا دیا گیا۔

    اسی طرح کا ایک اور لفظ لیڈران ہے، جو اکثر اخباروں میں لکھا مل جائے گا۔ افسوس صد افسوس کہ سامنے کا لفظ رہنما یا قائد انھیں نظر نہیں آتا۔

    سوال یہ ہےکہ انگریزی کی اس بےمحابا یلغار کے سامنے اردو کتنا عرصہ ٹک پائے گی؟

    مجھے یقین ہے کہ آج سرسید احمد خان بھی ، جنھوں نے اس بدعت کی ابتدا کی تھی، آج کی اردو کو دیکھ کر سر پیٹ لیں گے۔

    مجھے لگتا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو اگلے پچاس برس میں اردو کا تیاپانچہ ہو جائے گا۔ صرف کا کے کی تھا تھے رہ جائیں گے، باقی سب انگریزی بھاشا۔

  • انگریزی نے صرف اردو نہیں، تمام زبانوں کو متاثر کیا ہے اور اس میں کوئی ایسی برائی نہیں، میرے خیال میں زبانیں زیادہ استعمال ہونے والے دوسری یا اجنبی زبانوں کے الفاظ کو بھی خود میں ضم کرلیتی ہیں۔ یہ سلسلہ سرسید کے دور سے شروع ہوا۔ غالب کے خطوط، حالی کی کتابوں، رسوا کے ناول اور پریم چند کے افسانوں میں بھی انگریزی الفاظ شامل ہیں اور اسی طرح جیسے کہ یہ انگریزی کے نہیں اردو کے لفظ ہوں۔ ایسا ہی ہوتا بھی ہے شاید۔ کسی بھی زبان میں ایسے بہت سے الفاظ ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ دوسری زبانوں میں شامل ہوتے ہیں، اور ایسے بھی جو نامانوس ہوتے جاتے ہیں۔ اردو کے جن الفاظ کا ہم یہاں شکوہ کررہے ہیں وہ بھی اصل میں کبھی کسی اور زبان کے ہی الفاظ تھے۔ انگریزی کے الفاظ بھی اگر شامل ہوتے ہیں، رواج پاتے ہیں یا رائج ہوتے ہیں تو انہیں ہم روک نہیں سکتے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم ذاتی طور پر اگر اسے پسند نہیں کرتے تو انہی الفاظ کو اپنی تحریر یا گفتگو میں ترجیح دے سکتے ہیں، جن کے مٹنے کی ہمیں فکر ہے۔ اردو کے بیشتر الفاظ یا بہت سے نامانوس الفاظ اب بالی ووڈ میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر شامل کیے جارہے ہیں۔ ایک سطحی فلم میں جو کہ باکس آفس پر بہت کامیاب رہی ،اس میں عقوبت کا لفظ استعمال کیا گیا تھا، مختصر، تلاطم اور نہ جانے کتنے الفاظ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر رائج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تو زبانیں تو یونہی سفر کرتی ہیں، کہیں کچھ الفاظ زینت کا کام کرتے ہیں تو کچھ آسانی کے لیے شامل گفتگو کرلیے جاتے ہیں۔ یہی میرے خیال میں زبانوں کے زندہ رہنے، مرنے، بننے، بگڑنے اور پنپنے یا رو بہ زوال ہونے کا ایک آفاقی اصول ہے، جو ہم نے نہیں بلکہ زمانوں نے طے کیا ہے۔

  • تصنیف صاحب آپ کی یہ بات ایک حد تک بجا ہے کہ زبانیں خود رو ہوتی ہیں، لیکن دوسری جانب ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ قوموں نے زبانوں کو اپنی مرضی کے مطابق موڑا اور ڈھالا بھی ہے۔ عبرانی کی مثال سامنے کی ہے۔ یہ زبان لگ بھگ دو ہزار برس سے مردہ ہو چکی تھی لیکن یہودیوں نے اس کے مردہ تن میں روح پھونک کر اسے قو می، سرکاری، عوامی اور ادبی زبان بنا دیا۔

    جدید سنسکرت آمیز ہندی ایک اور مثال ہے۔ اس زبان کا 1802 سے قبل وجود نہیں تھا، بلکہ اردو ہی کو ہندی کہا جاتا تھا لیکن ہندی اردو کو کہیں پیچھے دھکیل نہ صرف ایک نئی زبان بن گئی ہے بلکہ آج دنیا کی دوسری یا تیسری سب سے بڑی زبان کا درجہ بھی رکھتی ہے۔

    فرینچ اکیڈمی ایک اور مثال ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو فرانسیسی زبان کی لغات،املا، قواعد اور استعمال پر نظر رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ انگریزی کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو بھی روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب نئی ٹیکنالوجی سے منسلک الفاظ کمپیوٹر، سافٹ ویئر، واک مین، وغیرہ فرانسیسی میں رائج ہونے لگے تو اس ادارے نے مزاحمت کی اور اس کی بجائے مقامی الفاظ کے استعمال کا مشورہ دیا جو اس وقت فرانسیسی کا حصہ بن گئے ہیں۔

    صرف فرانس ہی پر موقوف نہیں،دنیا کے درجنوں ملکوں میں ایسے ادارے قائم ہیں جو اپنی زبانوں کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں کیوں کہ انھوں نے یونیسکو کی پیش گوئی سن رکھی ہے کہ اگلی صدی تک دنیا کی نوے فیصد زبانیں ازقسم ڈائنوسار معدوم ہو جائیں گی۔

    سو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنی ثقافت اور اقدار کی حفاظت کے لیے قوموں کو خود بھی تھوڑا بہت ہاتھ پاؤں ہلانے پڑتے ہیں۔

    ورنہ بہتی کے ساتھ بہتے چلے جانے کا’آپشن‘ تو ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔

  • ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
    اب سے کوئی پندرہ بیس برس پہلے ہم لفظ "دہشت گرد" دن میں کتنی بار سنتے تھے؟
    جہانیانِ جہاں گرد" جیسا لفظ ہماری تہذیب کا حصہ تھا مگر اب ۔۔۔۔۔۔؟ افسوس کہ "دہشت گرد" کا لفظ ہمارا مقدر ہے ،اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے

  • آپ بالکل درست فرما رہے ہیں شاہد صاحب۔ اب جو غور کرتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ میرے بچپن میں لفظ تخریب کار
    زیادہ مستعمل تھا، خاص طور پر افغانستان کے تناظر میں۔ پھر کہیں سے دہشت گرد وارد ہوا اور چھا گیا۔

    اردو لغت سے رجوع کیا تو یہ موتی برآمد ہوئے:

    فارسی زبان سے اسم جامد دہشت کے ساتھ گردیدن مصدر سے فعل امر گرد بطور لاحقۂ فاعلی لگایا گیا ہے۔ اردو میں 2 اکتوبر 1987ء کو "روز نامہ جنگ، کراچی" میں مستعمل ملتا ہے۔

  • اردوزبان میں متروکات کی بحث بہت قدیم ہےاس کے باوجودابھی تک(متروک لفظ) کی مفتقہ تعریف متعین نہیں کی جا سکی۔متروک وہ لفظ یا ترکیب ہےجو ایک وقت ایک زبان میں بغیر کسی قید یا تخصیص کے مستعمل ہولیکن پھر اس کا استعمال بالکل یا اس کے ایک مختص معنی میں ترک کر دیا گیا ہو۔پنڈت برجموہن کیفی کی معین کردہ تعریف سےقبل متروکات کے زیل میں کوئی جامع تعریف نہیں ملتی۔ان کی تصنیف منشورات میں اس موضوع پرچالیس صفحات کا خطبہ موجود ہے۔اس کے بعد اس موضوع پر کوئی قابل ذکریا قابل قدرتحریر یا تصنیف نہیں ملتی۔مرکزی مجلس لغت کی شایع کردہ اردو لغت کی جلد اول میں مولوی عبدالحق ، محمد ہادی حسین اور ڈاکٹر ابواللیث صدیقی نے مختصرن متروکات کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔

  • مولوی عبدالحق ، محمد ہادی حسین اور ڈاکٹر ابواللیث صدیقی نے مختصرن متروکات کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی ہے

    وہ کیا کوشش ہے، اگر اس کا لبِ لباب پیش کر سکیں تو کیا ہی بات ہو

  • متروکات:کیونکہ کسی لفظ کی قدامت یا عید بہ عہد استعمال میں ترک و اختیار کی پوری کیفیت اس صورت سے ظاہر ہو سکتی ہے بعض الفاظ کسی موڑ پر آ کر متروک ہو جاتے ہیں یا ان کا رواج محدود ہو کر رہ جاتا ہے،یہی حال معانی کا ہے کسی عہد میں کوئی لفظ کسی خاص معنی کاحامل ہوتا ہے اور بعد میں اس معنی کی حد تک متروک یا نا مقبول ہو جاتاہے۔ اس کے برعکس ایسا بھی ہوتا ہے کہ وقت کےبدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ الفاظ
    نئے معنی بھی قبول کرتے رہتے ہیں۔
    متروک الفاظ کا معاملہ اور ٹیڑھا ہے۔۔ پرانے الفاظ متروک ہوتے اور مرتے جاتے ہیں نئے لفظ گھستے چلے جاتے ہیں، لفظ کو موت اچانک نہیں آتی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتا ہے۔کوئی شخص کسی لفظ کی موت کی صحیح تاریخ اور وقت نہں بتا سکتا۔ہمارے لفظ یعنی وہ لفظ جو ہم بولتے ہیں متروک نہیں ہوتے۔۔
    یہ ہمارے بزرگوں کے لفظ ہیں جو نشانہ اجل ہوتے ہیں، ہم ایک لفظ کا استعمال ترک کر دیتے ہیں لیکن وہ مر نہیں جاتااس کی یاد باقی رہتی ہےاس کے استعمال کا امکان بھی باقی رہتا ہے،مردہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کا بولنے والا نہیں رہتا۔لغت نویس کو یہاں مشکل کا سامنا ہے۔ بہت سے ایسے الفاظ ملیں گے جو مشتبہ ہیں اور جن کی نسبت فییصلہ کرنا آسان نہں کہ آیا وہ اب بھی زبان کا جز ہیں یا نہیں۔ بعض کے نذدیک وہ زندہ ہیں اور بعض کے نزدیک وہ مردہ ہیں، اس کے علاوہ بہت سے ایسے ہیں کہ لغت میں داخل ہونے کے مدعی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

  • June 2017 کو ترمیم کیا

    جناب شاہد صاحب، الفاظ کی قدرتی معدومیت اپنی جگہ ایک قسم کا فطری عمل ہے اور یہ ہر زبان میں جاری و ساری رہتا ہے۔ اس کی مثالیں آپ کو میر اور ان کے زمانے کے دیگر شعرا کا کلام پڑھتے ہوئے اکثر نظر آتی ہیں کہ وہ لفظ صدیوں سے استعمال میں نہیں آتے، چانے اس کی جو بھی وجہ رہی ہو۔

    اس کے برعکس موجودہ اردو میں آپ کو سینکڑوں الفاظ ملیں گے جو میر کے زمانے میں نہیں تھے۔ میں نے ایک زمانے میں ایسے بےحد عام جدید الفاظ کی فہرست بنائی تھی جس پلیٹس جیسی جامع ڈکشنری میں نہیں ہیں، کیوں کہ وہ اس زمانے میں ظہور ہی میں نہیں آئے تھے۔

    یہ فطری عمل ہے اور دنیا کی ساری زبانیں اس سے گزرتی رہتی اور یوں وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں، اس سلسلے میں کوئی فرد حتیٰ کہ کوئی ادارہ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔

    لیکن آج کل کی اردو کے ساتھ جو ہو رہا ہے یا کیا جا رہا ہے، وہ قطعاً غیر فطری ہے۔ اس میں محض ایک زبان کو برتر سمجھ کر اور اردو کو کمتر مان کر اس کا حلیہ بگاڑا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں بھی شاید کچھ نہیں کیا جا سکتا ہو، لیکن کم از کم کڑھا تو جا سکتا ہے۔

    اس کی مثال قدرتی دنیا سے لیجیے۔ اکثر اوقات کہا جاتا ہے کہ ڈارون کے نظریۂ ارتقا کو سمجھنا ہو تو زبانوں کی نشو و نما سے مدد سے لی جا سکتی ہے کیوں کہ دونوں میں مماثلت ہے۔ چنانچہ فطرت میں جانداروں کی انواع اپنی معین زندگی بسر کر لاکھوں کروڑوں برس کے عمل سے گزر، پردۂ معدومیت میں گم ہو جاتی ہیں۔ ڈائنوساروں کو ایک طرف رکھیے کیوں کہ وہ بےچارے ایک عظیم حادثے کے نتیجے میں نابود ہوئے، لیکن ایک اندازہ ہے کہ ظہورِ حیات کے بعد سے اب تک ننانوے فیصد انواع معدوم ہو چکی ہیں۔

    ظاہر ہے کہ سارا فطرت کے بسیط نظام کا حصہ ہے اور اس میں کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر آج کے دور کا انسان اپنی عاقبت نااندیشی سے مجبور ہو کر گینڈوں کے سینگ کاٹ کاٹ کر ان کی نسلیں تباہ کر رہا ہے، یا کیڑے مار ادویات چھڑک کر چیتوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا رہا ہے، تو اس پر ضرور تشویش ہونی چاہیے، کیوں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم کرۂ ارض پر موجود زبردست حیاتیاتی تنوع سے محروم ہو جائیں گے۔
    اسی طرح جو کام اردو کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ بھی زبان کے ارتقا کےفطری عمل کا حصہ نہیں ہے، بلکہ ناسمجھی اور کم فہمی کا شاخسانہ ہے۔ اس پر ضرور بات ہونی چاہیے اور ہو سکے تو اسے روکا جانا چاہیے۔

  • جناب ظفر صاحب یہ تو آپ نے ایک الگ ہی بحث شروع کردی ہے جناب

  • الگ بحث کیسے ہو گئی حضور۔ موضوع تو یہی ہے نا کہ اردو کا چہرہ جان بوجھ کر مسخ کیا جا رہا ہے، تو اس بارے میں کیا کیا جا سکتا ہے۔

  • میرا مطلب یہ تھا کہ ہم متروکات پر بات کر رہے تھے اس لئے میں نے خیال کیا کہ آپ متروک الفاظ سے ہٹ کر اردو کو بگاڑنے کی بات کرنے لگے ہیں۔ بس اسی وجہ سے یہ کنفیوژن پیدا ہو گئی

  • میرے خیال میں اردو کا چہرہ جان بوجھ کر مسخ کرنےسے زیادہ انجانے میں مسخ کیا جا رہا ہے۔ اردو کو نظر انداز کر کے۔

  • جناب طیب صاحب میں آپ کے خیال سے سو فیصد متفق ہوں

  • انجانے میں تو تب ہو جب لوگوں کو پتہ نہ ہو کہ اس لفظ کا عام فہم اور رائج متبادل کیا ہے۔ جب پڑھے لکھے اور قابل لوگ گفتگو اور تحریر میں دانستہ طور پر اردو کی بجائے انگریزی الفاظ استعمال کریں گے تو اسے سوچی سمجھی کوشش ہی کہا جائے گا۔

  • بدعنوانی کی جگہ کرپشن زبان زدِ عام ہے

  • "ظفر صاحب آپ نے ایک لفظ کچھ جگہوں پر استعمال کیا ہے برائے مہربانی اس کا مطلب بتا دیجئیے لفظ ہے "بزرجمہر
    شکریہ

  • بزرجمہر ؛ بزرچمہر، دراصل بزرگ مہر کا معرب ہے۔فارسیںوں نے بجائے جیم عربی کے جیم فارسی کر دیا ہے۔نوشیرواں کے دانا وزیراعظم کا نام تھا، مجازا عقل مند، دانا

  • عامر صاحب، آپ نے بڑی عمدگی سے بزرجمہر کا مطلب اور تاریخ بیان کی ہے۔ میں صرف اتنا اضافہ کرتا چلوں کہ عام طور پر یہ لفظ ایسے شخص کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جو سیانا بننے یا ’شو آف‘ کرنے کی کوشش کرے۔

  • ظفر بھائی یہ تو بزرگ مہر کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔

  • حضور زبانیں ایسے ہی خود رو طریقے سے چلتی ہیں۔ اب افلاطون بیجارے ہی کو لے لیجیے کہ اس کا تلازمہ بھی بدل کر کچھ کر کچھ ہو گیا۔ آپ نے سنا ہو گا کہ فلاں بڑا افلاطون بنا پھرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ متکبر شخص کے لیے افلاطون کا بچہ/سالا، نانا بھی مستعمل ہیں۔

  • پڑوسی ملک کے ممبئی شہر میں ایک مشہور مٹھائی کا نام بھی افلاطون ہے

  • April 6 کو ترمیم کیا
    ظفر صاحب بہت خوبصورتی کے ساتھ آپ نے اردو زبان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا پس منظر پیش کیا ہے خداتعالی آپ کے علم میں اضافہ فرماۓ


    شاہد بھائی آپ کا بے حد شکریہ متروکات کے بارے میں بڑے نفیس انادز سے گفتگو کی
  • بہت شکریہ ہادی صاحب، امید ہے آپ بھی مذاکرے کا حصہ بنے رہیں گے۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔