لفظ ’پٹھان‘ کا ماخذ

پٹھان بڑا دلچسپ لفظ ہے کہ خود پشتو بولنے والے نہ صرف اسے استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کی اکثریت اس لفظ کو ٹھیک طریقے سے ادا بھی نہیں کر سکتی۔

تاریخ فرشتہ کے مطابق یہ لفظ پٹنہ سے نکلا ہے، لیکن اس بارے میں بھی ماہرین کی آرا میں اختلاف ہے۔

دوستوں سے روشنی ڈالنے کی درخواست ہے۔

تبصرے

  • ظفر صاحب۔ لفظ پٹھان،افغان،پشتون اور پختون کی وجہ تسمیہ کے متعلق ماہرین کی آرا میں اختلاف ہے۔ تاریخ میں اتنی روایات شامل ہو چکی ہیں کہ اصل حقائق کی تصدیق مشکل ہے۔
    بہرحال ہندوستان والے انہیں پٹھان کہتے ہیں جبکہ پاکستانی انہیں پٹھان اور پشتون اور ایرانی افغان کہتے ہیں مگر یہ خود کو پختون کہتے ہیں۔
    بعض اوقات پٹھانوں اور افغانوں میں فرق بھی کیا جاتا ہے اور پٹھانوں، پشتون اور افغانون کو الگ الگ قبیلوں سے تصور کرتے ہیں اور ان کے ناموں کی وجہ تسمیہ بھی الگ الگ بیان کرتے ہیں۔
    لفظ پٹھان کی ایک وجہ تسمیہ جس کا آپ نے بھی ذکر کیا ہے۔یعنی تاریخ فرشتہ کے مطابق یہ لفظ پٹنہ سے نکلا ہے۔جب پشتون مختلف ادوار میں کاروبار کے سلسلہ میں ہندوستان جا کر مختلف جگہوں بالخصوص شہر پٹنہ میں آباد ہوئے تھے تو ان کو ہندوستان کے لوگ پٹنہ والے کہہ کر بلاتے تھے جو بعد میں پٹھان کا لقب بنا۔
    پروفیسر احمد حسین دانی کا خیال ہے کہ ٹھ کا استعمال بتاتا ہے کہ یہ ہند آریائی کلمہ ہے، غالب امکان ہے کہ یہ کلمہ دو لفظوں پارٹ اور استھان سے مل کر بنا ہے پارٹ موجودہ خراسان کو بولتے تھے اور استھان جس کے معنی جگہ کے ہیں، پارتھی جنہوں نے قدیم زمانے میں شمالی برصغیر کو اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔ پارٹھان یا پارتھان سے تکرار سے ر خارج ہو گیا اور اس طرح یہ پٹھان بن گیا۔
    لفظ بھارت کا تعلق بھی اسی لفظ پارتھ یا پارت سے ہے، رگ وید میں بھارت قبیلے کا ذکر ملتا ہے۔
    کںتاب تذکرہ ( پٹھانوں کی اصلیت اور ان کی تاریخ ) میں خان روشن خان لکھتے ہین کہ افغان جب ہندوستان پر قابض ہوے تو ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو بٹنی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، یہ لوگ شام کے اس شہر سے تعلق رکھتے ہیں جو دریائےاردن کے مشرق میں بشان کے علاقہ میں واقعہ تھا اور بتھانہ موسوم تھا اس نسبت سے وہ یہاں آ کر بٹنی کہلانے لگے اور ہندوستان میں ان کو پٹھان سے موسوم کیا گیا۔
    اور اب وہ روایت جس کے متعلق اکثر افغانوں کا بھی دعویَ ہےاور پشتونوں کی تاریخ میں بھی اکشر ذکر ملتا ہے کہ ان کے آبااجداد کا تعلق اسرائیل کے دس گم شدہ قبائیل سے ہے۔ افغانستان کے بادشاہ ظاہرشاہ مرحوم بھی برملا یہ اقرار کرتے رہے کہ ان کا تعلق بنی اسرائیل کے بن یامین قبیلے سے تھا۔
    مختصر یہ کہ ان کا قیس نامی شخص وفد کی صورت میں مکہ پہنچا اور خالد بن ولید نے ان کی ملاقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرائی اور اس نے اسلام قبول کر لیا اور اس کا اسلامی نام عبدالرشید رکھا اور بطان لقب بھی دیااور بطان کشتی کی اس لکڑی کو کہتے ہیں جس سے اس کا نچلا حصہ بنتا ہےاور یہ سخت ترین لکڑی ہوتی ہے جسس کو سمندر کا پانی بھی کمزور نہیں کر سکتا،اور یہ لفظ بطان زبان کے تغیرات کے باعث پٹھان بن گیا۔اور فرمایا کہ ان کی نسل اسلام پر اس قدر مضبوطی سے کار بند ہو گی جس طرح کشتی کا بطان ہوتا ہے۔ اور پشتون کا دعوی ہے کہ اسی دعا کی وجہ سے دنیا میں واحد قوم پٹھان ہے جو سارے مسلمان ہیں ان میں غیر مسلم نہیں ہین۔
    جو مورخین ان کا سلسلہ بنی اسرائیل سے ملاتے ہیں انہوں نے ان کے عربوں اور یہودیوں سے ملتے جلتے اوساف بھی لکھے ہیں۔ مہمان نواز، بہادر، دوسری قوموں سے اتنی جلدی مرعوب نہ ہونا، مذہبی طور پر سخت ہونا،نسلی طور پر اپنی قوم کو دنیا کی بہترین قوم تصور کرنا،سر پر ٹوپی رکھنے کا رحجان وغیرہ۔
    مخزن افغانی میں نعمت اللہ ہراتی نے بھی افغانوں کا نسب نامہ میں یہی لکھا ہے۔
    ،بہرحال لفظ پٹھان کا ماخذ پٹنہ ہو یا بطان اور یا پھر پارتھان یہ قوم پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور اپنی وفا غیرت اور اپنے دین پر مضبوطی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
    یہ اپنے آپ کو پٹھان کہلوانا کیوں نہیں پسند کرتے ؟
    جاری ہے۔

  • شاہین صاحب، بطان سے پٹھان بننا تو کچھ زیادہ قرینِ قیاس نہیں لگتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ پٹھان ہندوستان میں وضع ہوا اور وہاں عربی بطان پہنچنے کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔

    البتہ پارتھ استھان سے پٹھان بننا زیادہ اغلب معلوم ہوتا ہے۔

    ویسے میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ پٹھان خود کو پٹھان کہلوانا پسند نہیں کرتے بلکہ یہ کہ وہ خود کو پٹھان نہیں بلکہ پختون یا پشتون کہتے ہیں۔

  • پٹھانوں کی تاریخ پر کوئی مستند کتاب پچھلی چند صدیوں میں نھیں لکھی گئی۔ دور حاضر میں یا پچھلے پچاس سال میں اگر کچھ کتابیں لکھی گئی ھیں تو ان قلم کاروں نے اپنی ذاتی راے یا ڈھکوسلے اور سنی سنائی بات پر اکتفا کیا ھے ۔کسی تاریخی کتب کا حوالہ نھیں دیا.نعمت اللہ الھراوی ایک اففان نے پٹھانوں پر تاریخِ افغانہ کے نام سے کتاب لکھی تھی اور برنارڈ جو کہ جرمن تاریخ دان تھا اس نے اس کتاب کا سنہ 1829 میں ترجمہ کیا تھا۔
    اس کے علاوہ ایک اور کتاب سنہ 1770 میں محمد زدیق نے تاریخِ حافظ رحمت خانی کے نام سے لکھی تھی جس کا ترجمہ خان روشن خان نے کیا تھا۔۔کچھ مصنف لکھتے ھیں کہ پٹھان صدیوں پرانے بادشاہ شاہ سعول کی اولاد ھیں۔
    کچھ لکھتے ھیں کہ پٹھان موسیٰ علیہ سلام کی بنی اسرائیل کے اس ٹولے سے ھیں جو ان کی نافرمان ھو گئی تھی اور دربدر بھٹکتی رھی۔
    کچھ انھیں حضرت ابراھیم علیہ سلام اور حضر خض علیہ سلام می اولاد سے لکھتے ھیں۔
    کچھ انھیں سکندر اعظم کی فوج میں شامل فوجیوں سے جوڑتے ھیں جو سکندر کے واپس جانے کے بعد برصغیر میں سکونت اختیار کر گئے۔
    کچھ انھیں آریا نسل کی اولاد کہتے ھیں جو انڈو یورپین قبائل تھے۔اہل ایران پٹھانوں کو افغان کہتے ہیں
    ان کے مطابق جب بخت نصر نے ان لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تو یہ لوگ اس ظلم سے تنگ آ کر موجودہ برصغیر میں ھجرت کر ائے تھے۔ہندوستان والے انہیں پٹھان کہتے ہیں
    قندہار اور قزن کے باشندے خود کو پشتون کہتے ہیں۔
    خوست، وادی کرم اور باجوڑ والے بھی خود کو پشتون کہتے ہیں۔
    یہ سب الفاظ ایک ہی لفظ کی مختلف شکلیں ہیں۔
    یعنی افغان، اوغان ، پشتان، پٹھان۔۔جہاں تک بات اس امر کی ہے کہ یہ نام حضرت محمد صلعم نے صحابی حضرت خالد بن ولید کو بطور خطاب دیا کیو نکہ “بتان” عربی میں کشتی کے نچلے تختے کو کہتے ہیں جو بہت مضبوط ہوتا ہے ۔ چونکہ خالد بن ولید ایک انتہائی مضبوط سپہ سالار ثابت ہوئے لہذا حضرت محمد صلعم نے یہ خطاب دیا۔لیکن اس بیان کا اول تو کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔

    ۔

  • بھائیوں ہمارے افغان بھائی فاتحین کی حیثیت سے ہندوستان میں داخل ہوئے۔ کہیں لفظ فتحان ہی بگڑ کر پٹھان نہ ہو گیا ہو۔ کیا خیال ہے آپ احباب کا

  • شاہد بھائی، فاتحین سے فتحان پھر فتحان سے فتان اور فتان سے پتان اور پتان سے پٹھان۔ کچھ زیادہ قرینِ قیاس نہیں ہے حضور۔

  • Nice all of you good job
  • اچھا ظفر بھائی یہ بتائیں پاٹے نے، پٹھان بن سکتا ہے یا نہیں
    پاٹے اہل پنجاب لمبے چوڑے کو کہتے ہیں۔ افغان ہزاروں سال سے پنجاب پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔اور وہ لمبے چوڑے بھی ہوتے تھے۔ وجہ اس قیاس کی گھوڑا ہے۔ گھوڑا ڑے سندھ کا قدیم محاورہ ہے

  • ظفر صاحب آپ کی بات کچھ حد تک درست ہے
  • اس خادم کو کچھ مدت بنگلادیش میں بہ سلسلہ روزگار قیام کا موقع ملا ہے۔ وہاں بنگلا زبان کا ایک پہلو دیکھا کہ کچھ علاقوں کے ناموں کی نسبت کا ایک عجب قاعدہ مروج ہے۔ مثلا نواکھالی ایک مشہور جگہ ہے جہاں سن چھیالیس میں سخت ہندوکش فساد ہوا تھا۔ وہاں کے رہنے والوں کو "نواکھال" کہا جاتا ہے۔ کچھ بعید از قیاس نہ ہو گا کہ برّ ِصغیر میں پشتونوں کے اوّلین مرکز "پٹنہ" سے لوگوں نے "پٹھان" بنا لیا ہو۔ باقی آراء فتحان، بطان وغیرہ محض خیال آرائی ہیں۔ اور قیس عبدالشید والا افسانہ تو بدیہی طور پر نہایت مضحکہ خیز ہے۔ یہ ملّا نعمت اللہ ہروی کی حاشیہ آرائی ہے جو اس نے مغل دربار میں پشتونوں کے حسب نسب کی کھِلّی ارانے والوں کا منہ بند کرنے کو گھڑی تھی۔ اس موضوع پر کتنی کتب اس خادم کی نظر سے گزری ہیں، ان میں سعد اللہ جان برق صاحب کی کتاب "نسلیات ہندوکش۔۔" سب سے وقیع لگی۔

  • فرشتہ کا کہنا ہے کہ افغانوں کو پٹھان اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پہلے پہل سلاطین کے عہد میں ہندوستان آئے تو یہ پٹنہ میں مقیم ہوگئے تو اہل ہند انہیں پٹھان کہنے لگے
    سولویں صدی سے پہلے یہ کلمہ کسی کتاب میں نہیں ملتا ہے۔ لیکن ٹھ کا استعمال بتاتا کہ یہ ہند آریائی کلمہ ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ کلمہ دو لفظوں پارت + استھان = پارٹھان سے مل کر بنا ہے۔

    یعنی اس کی ابتدائی شکل پارٹھان ہوگی۔ پارت قدیم زمانی میں موجودہ خراسان کو بولتے تھے اور استھان ہند آریائی کلمہ ہے، جس کے معنی جگہ یا ٹھکانے کے ہیں۔ پارتھی جنہوں نے قدیم زمانے میں شمالی برصغیر کو پنے قبضہ میں کرلیا تھا اور انہوں نے ستھیوں کے ساتھ مل کر شمالی ہندمیں نیم آزاد حکومتیں (سٹراپی) قائم کیں تھیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ کلمہ پٹھان پارٹھان یا پارتھان سے بنا ہے اور اس کلمہ میں تکرار سے ’ر‘ خارج ہوگیا، اس طرح یہ
    پٹھان بن گیا۔

  • تو جناب، ایک موہوم سا امکان اس بات کا ہوتا کہ "پٹھانوں' کے رہنے کی جگہ کو "پارت + ستھان" کہا جاتا مگر یہ نام تو کسی جگہ کا نہیں البتہ ایک قوم پر اسے تھوپ دیا گیا ہے، جن کی زبان میں ایک تو دو چشمی ھ والی ہکار آوازیں سرے سے ہیں ہی نہیں اور دوسرے وہ خود کو پشتون/ پختون/ افغان کہتے آے ہیں۔ "پٹھان" سے ملتا جلتا کوئی لفظ بھی کبھی ان کے ہاں اپنی شناخت کے لیے مروّج نہیں رہا ہے۔ اسی لیے مجھے فرشتہ کا بیان زیادہ قرین قیاس لگتا ہے۔ البتہ شہر "پٹنہ" کا اشتقاق مجھے اس کے سوا نہیں معلوم کہ اس کا پرانا نام پاٹلی پتر تھا، جو بگڑ کر پٹنہ ہو گیا۔

  • پارٹھان اس کی ابتدائی شکل رہی ہوگی۔ پارت قدیم زمانی میں موجودہ خراسان کو کہتے تھے اور استھان ہند آریائی کلمہ ہے، جس کے معنی جگہ یا ٹھکانے کے ہیں۔ پارتھی جنہوں نے قدیم زمانے میں شمالی برصغیر کو قبضے میں کرلیا تھا انہوں نے ستھیوں کے ساتھ مل کر شمالی ہندمیں نیم آزاد حکومتیں قائم کیں تھیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ کلمہ پٹھان پارٹھان یا پارتھان سے بنا ہے اور اس کلمہ میں تکرار سے ’ر‘ خارج ہوگیا، اس طرح یہ
    پٹھان بن گیا۔

  • August 2017 کو ترمیم کیا

    کسی جگہ کے نام کی ابتدائی شکل "پارٹھان" رہا ہونا محض خیال آرائی ہے۔ ذرا یہ امر بھی ملحوظِ خاطر رکھیے کہ یہ الفاظ "پارتھی" اور "سیتھین" ہم نے انگریزی منابع سے اردو میں داخل کیے ہیں۔ انگریزی مین "ٹی +ایچ" کا مرکب "تھ" کی آواز نہیں دیتا۔

  • جناب قاضی صاحب آپ نے اپنی پچھلی پوسٹ دوبارہ درج کردی ہے شائد غلطی سے۔ :smile:

  • حیرت ہے۔ مجھے تو کوئی پوسٹ دو بار لکھی دکھائی نہیں دے رہی۔ ممکن ہے کہ سسٹم کچھ گڑ بڑ کر رہا ہو۔

  • سسٹم بھی لگتا ہے پٹھان ہو گیا ہے ہاہاہا

  • کسی کے پاس اریائ نسل کے بارے میں معلومات ہیں کی اسکا مسکن کہاں تھا اس کا سلسلہ سام یا یافث سے ملتا ہے مھربانی کرکے راھنمائی فرماے
  • آریائی نسل الگ ہے اور سامی نسل الگ اس لیے ان کے سلسلے آپس میں ملنے کے امکانات کم ہیں۔ وکی پیڈیا پر آریائی نسل کے بارے میں مزید معلومات مل سکتی ہیں۔

  • نسل انسانی کی سام، حام اور یافث کے زمروں میں تقسیم محض خیال آرائی ہے اور ازمنہ وسطی میں مورخین کو دستیاب معلومات کی غماز ہیں۔

  • February 5 کو ترمیم کیا

    بالکل درست فرمایا قاضی صاحب۔ جدید علوم اس کی نفی کرتے ہیں۔ ویسے بھی تمام نسلیں اتنی بری طرح سے خلط ملط ہو گئی ہیں کہ اب کسی کا کسی ’خالص‘ نسلی گروہ سے تعلق رکھنے کا دعویٰ ہی بےمعنی ہے۔

  • پاٹے خان سے پٹھان بن سکتا ہے؟

  • سعدی صاحب، پٹھان سے پاٹے خان تو بن سکتا ہے، پاٹے خان سے پٹھان نہیں۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔