استحصال یا استیصال؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لفظ استحصال بمعنی ایکسپلائٹیشن غلط ہے، کیوں کہ یہ حاصل اور حصول کے قبیل کا لفظ ہے، اور اس کا مطلب حاصل کرنا ہے، جب کہ ایکسپلائٹیشن کے معنی میں استیصال کہنا چاہیے، جس کا مطلب جڑ سے اکھاڑنا ہے۔

ماہرین لسانیات سے اظہارِ رائے کی درخواست ہے۔

تبصرے

  • جی ہاں معاملہ کچھ ایسے ہی ہے جیسا آپ نے بیان کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ عربی میں حصل سے مشتق ہے،جس کے معنی حاصل کرنا کے ہیں،اسی قبیل کے دوسرے الفاظ حاصل،حصول،محصول،تحصیل،محاصل وغیرہ ہیں۔۔۔۔۔۔اردو میں استحصال کا مطلب زبردستی حاصل کرنا کے معنوں میں رائج ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ استیصال فارسی کا لفظ ہے جس کا مطلب جڑ سے اکھاڑنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لحاظ سے استحصال کے معانی میں استیصال استعمال کرنا درست نہیں لگتا کیونکہ استحصال کے مروجہ معنی میں تو پھر بھی اس کے اصؒ ماخذ و معانی نظڑ آتے ہیں لیکن استیصال کا مطلب ہم ایکسپلایٹیشن نہیں کر سکتے،یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ استحصال کا مطلب محض حاصل کرنا تھا،وقت کے ساتھ ساتھ اس میں"زبردستی"کا مفۃوم بھی شامل ہوتا چلا گیا مگر استیصال تو بہت پرے اور دور کا لفظ ہے

  • درست فرمایا جناب، اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ عربی میں چاہے جو بھی مطلب ہو، اردو میں استحصال کا مطلب ایکسپلائٹیشن ہو چکا ہے، جسے بدلا نہیں جا سکتا۔ دروغ بر گردن راوی، لیکن کہا جاتا ہے کہ استحصال کو سب سے پہلے بھٹو صاحب نے ایک تقریر میں استعمال کیا تھا، جس کے بعد یہ لوگوں کی زبانوں پر چڑھ گیا اور اب اسے اتارنا ممکن نہیں ہے۔

    دوسری جانب استیصال بہت کم دیکھنے میں آتا ہے، اور بہت سے لوگ اسے استحصال سے خلط ملط کر لیتے ہیں، بلکہ بعض تو اسے غلط لفظ بھی سمجھتے ہیں۔

  • آپ دونوں بھائیوں نے درست فرمایا،میں بھی آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں اس فرق کے ساتھ کہ یہ دونوں الفاظ عربی سے ہیں اور الگ الگ مادہ رکھتے ہیں۔
    استحصال ؛اس کا مادہ ح ص ل ہے جیسا کہ سجاد صاحب نے بھی فرمایا،حاصل حصول، محصول تحصیل،،محاصل،حوصلہ ( پرندے کا پوٹا)،استحصال
    اس کے بنیادی معنی حاصل کرنا ،کسی چیز کا حاصل کر کے الگ کر لینا اور جمع کرنا ہیں۔
    استیصال؛ اس کا مادہ ا ص ل ہے۔ اصل، اصول، اصیل،استیصال اسی مادہ سے ہیں۔
    اس کے بنیادی معنی ہیں جڑ بنیاد اصل،قاعدہ۔
    استحصال؛ اس کے بنیادی تو حاصل کرنا ہی ہیں لیکن اردو میں آ کر اس کے معنی زبردستی حاصل کرنا اور چھین لینا کے معنوں میں استعمال ہونے لگا اور اتنا عام ہو گیا کہ اب اس کی اصلاح مشکل ہے۔ البتہ یہ پرانی بات نہیں جب استحصال کے ساتھ بالجبر بھی لازم تھا، استحصال بالجبر یعنی کوئی چیز جبرا حا صل کرنا، تب مفہوم واضح ہو جاتا تھا، آہستہ آہستہ بالجبر بھی ختم ہو گیا۔
    استیصال' اس کے معنی ہیں جڑ سے اکھاڑنا، تباہ کرنا ۔ بعض لوگوں نے استحصال کی جگہ استیصال استمعال کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بات نیں بنی،استیصال ان معنوں میں آتا ہی نہیں۔
    استیصال اپنے معنی میں استمعال ہوتا ہے، مثلا؛ہمیں برائی کے استیصال کے لئے قومی سطح پر جدوجہد کرنی چائیے۔ یعنی اس کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش۔
    اب استحصال کو دیکھتے ہیں مثلا ؛جاگیر دار مدتوں سے کسانوں کا استحصال کرتے آ رہے ہیں۔
    اب اس جگہ استیصال ان معنی میں تو نہیں استمعال ہو سکتا یعنی زبردست حاصل کرنا یا چھیننا۔
    یہ بات درست ہے کہ استحصال کا استمعال اتنا عام ہو گیا ہے کہ اب اسے بدلنا مشکل ہے اب تو ساتھ بالجبر کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔اور استیصال کا تو بعض پوچھتے ہیں کہ یہ کیا لفظ ہے۔
    لفظ استعمار بھی غور طلب ہے۔

  • شاہین صاحب درست فرمایا۔۔۔۔۔۔مجھے مغالطہ فیروز اللغاتکی وجہ سے ہوا،ان کی اردو فارسی لغت میں یہ لفظ شامل ہے۔البتہ جب میں نے دوسرے حوالہ جات دیکھے تو یہ لفظ عربی ہی ہے۔۔۔۔معذرت خواہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔آپ نے مادہ بھی درست لکھا ہے
  • میں نے اوپر لکھا تھا کہ لفظ استحصال بھٹو صاحب نے تقریر میں استعمال کیا تھا جس کی وجہ سے عوام کی زبانوں پر چڑھ گیا۔ لیکن وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں بھی یہ لفظ زبردستی ہتھیانے کے معنی میں درج ہے۔ یہ لغت 1976 میں چھپی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید یہ لفظ اس سے پہلے ہی ان تبدیل شدہ معنی میں استعمال ہو رہا تھا۔

    کیا کوئی دوست اس پر روشنی ڈال سکتا ہے کہ اس کے معنی کب تبدیل ہوئے؟

  • اضافہ: نور الغات میں استحصال کے معنی صرف حصول کے ہیں۔ نور الغات 1920 اور 30 کی دہائی میں چھپی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ اس لفظ کے معنی 40 اور 70 کے دہائیوں کے درمیان کہیں بدلے ہیں۔

  • اردو لغت تاریخی اصول پر کے مطابق یہ لفظ سب سے پہلے 1775 میں ’نو طرزِ مرصع‘ میں استعمال کیا گیا، تاہم حیرت انگیز طور پر 19ویں صدی میں شائع ہونی والی اہم لغات پلیٹس، فرہنگِ آصفیہ، شیکسپیئر اور فیلن اس سے عاری ہیں۔

    میرے خیال سے نور الغات (1924) پہلی لغت ہے جس میں اس لفظ کو جگہ ملی۔ یہاں اس کا مطلب یہ لکھا ہے
    استحصال: حاصل کرنا، حاصل کرنے کی خواہش

    استحصال بالجبر: زبردستی حاصل کرنا، ڈرا دھمکا کر کوئی چیز حاصل کرنا

    علمی اردو لغت از وارث سرہندی (1976) میں استحصال کے معنی کے تحت ’ایکسپلائٹیشن کا ترجمہ‘ درج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا مطلب 1924 اور 1976 کے درمیان کسی وقت تبدیل ہوا۔ میں نے لوگوں سے سنا ہے کہ بھٹو صاحب نے ایک تقریر میں اسے استعمال کیا تھا جس کے بعد یہ عام ہو گیا۔

    لغات کے لحاظ سے یہ بات قرینِ قیاس لگتی ہے، کیوں کہ بھٹو صاحب 60 کی دہائی میں سرگرم ہو چکے تھے۔

  • کالے کوسوں دور صومالیہ میں کتابوں تک رسائی نہیں چنانچہ قیاس آرائی پر مجبور ہوں۔ میرا گمان ہے کہ استحصال بہ معنی ہتھیانا قبل از تقسیم کے مارکسی اردو لٹریچر میں آیا ہے۔ شاید ظوے انصاری صاحب کے کسی ترجمے میں پڑھا تھا یا ڈاکٹر اختر حسین راے پوری صاحب کے کسی مضمون میں۔ استیصال بہ معنی قلع قمح بھی غالبا کم از کم تحریک خلافت کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ اس کا مشتق مرزا سودا نے ایک قصیدے میں برتا ہے:

    اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستاں سے عمل
    تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل

  • میرا خیال ہے کہ ہم اس پوانٹ تک نہیں پہنچ سکتے کہ استحصال کے معانی کب تبدیل ہوئے اور اس بات پر زیادہ فوکس کرنا بھی نہیں چاہیے

  • آپ کی بات کی تائید میں آج ایک تحریر نظروں سے گزری، بھٹو کی برسی پر یہ خصوصی تحریر ہے۔
    عنوان ہے
    بھٹو نے عوام کو زبان دی اور استحصال کا مطلب بتایا
    جی آر اعوان (نوائے وقت)اس سے اقتباس پیش کر رہا ہوں۔
    بھٹو صاحب نے عوام کو استحصال کا لفظ دیا۔ کارخانوں میں محنت کرنے والے مزدوروں کو بتایا ، ان کا استحصال ہو رہا ہے۔ بھٹو نے ماتحتوں کو بتایا ان کے افسر انہیں غلط استمعال کر رہے ہیں۔ مزید استحصال مت برداشت کرو۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔
    یہ تحریر بھارتی صحافی خوشونت سنگھ کی کتاب؛ موت کی دہلیز پر ؛ سے ماخوذ ہے،
    اس کتاب سے شائد بھٹو کی تقریر، تاریخ یا سال کا معلوم ہو سکے۔

  • اس کے علاوہ امیر اللغات 1891میں بھی یہ لفظ موجود نہیں۔۔۔۔۔۔لغاتِ کشوری1923میں بھی ندارد۔۔۔۔۔۔۔جامع اللغات 1908میں بھی غائب ہے۔۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیرِ اہتمام فرانسس جانسن کی فارسی،عربی اور انگلش کی لغت کے 1852کے ایڈیشن میں بھی یہ لفظ نہیں شامل البتہ سنگِ میل والوں نے اس کا 1984کا ترمیمی ایڈیشن شائع کیا تو یہ لفظ شامل کر دیا

  • Urdu ka ik lafz hume samjh nahi aaraha hai. Kaise talash kare us ke mayne???
  • آپ لغت میں اس کے معنی دیکھ سکتی ہیں، یا پھر یہاں یہاں پوچھ لیجیے۔

  • January 2017 کو ترمیم کیا

    استحصال تو ظاہر ہے کہ عربی زبان کے مادہ "حصل" سے مشتق ہے- یہ ایک "اسم" ہے اور اسکے معنی ہیں "حاصل کرنے کا عمل" - قابل غور بات یہ ہے کہ اردو میں استحصال کے ساتھ "کرنا" کا اضافہ کر کے اس اسم کو فعل بنا دیا گیا ہے - علاوہ ازیں اس لفظ (یعنی خود ساختہ فعل) کے سیاسی استعمال نے اسکو منفی معنی دے دیے اور اسکا رائج الوقت مطلب کسی کے سرمائے ، ذرائع یا حقوق کو زبردستی حاصل کرنا ہو گیا

  • ہمیں لسانیات کا یہ اصول فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں آتے آتے کئی لفظ اپنی معنی تبدیل کر لیتے ہیں استحصال کے ساتھ بھی یہی عمل ہوا ہے

  • اصغر صاحب، استحصال ایک زمانے تک اپنے اصل معنی میں اردو میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس کی تبدیلی کا عمل ایک زبان سے دوسری زبان تک آتے آتے نہیں، بلکہ خود اردو کے اندر ہی پیش آیا ہے۔

  • جس چیز کو ہم اردو میں آج کل "استحصال" کہتے ہیں، عربی میں اس کے لیے "استغلال" کا لفظ مروج ہے۔

  • ساری گفتگو کا خلاصہ۔۔۔
    عربی لفظ استحصال
    کا
    اردو میں
    بے پناہ استحصال
    ہوا ہے۔
    😊
سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔