بدیسی زبانوں میں تعصب

زبان ۔الفاظ،جملے،تراکیب بھی تعصب کا شکار ہوتے رہے ہیں،انگریز جو خود کو مہذب گردانتے ہیں،ان کی زبان تعصابانہ الفاظ سے بھری پڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔اگر بات کریں کہ انگریزی نے اسکاٹ لینڈ کا مذاق کیسے اڑایا ہے تو اگر آپ کھجا رہے ہیں تو اسے اسکاچ فِڈل کہتے ہیں،بغیر کورٹ جائے شادی کو اسکاچ شادی کہتے ہیں،اسکاچ کنگھے سے مُراد مویشیوں والا کنگھا ہے،بہت زیادہ کانٹوں والا گلاپ اسکاچ روز ہے،۔۔۔۔۔۔یہی سلوک آئر لینڈ سے کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔پولیس سٹیشن کے لئے آئرش کلب ہاوس،آدمی کی دو ٹانگوں کے لئے آئرش رتھ،پھاوڑا کے لئے آئرش چمچہ،جھوٹی گواہی کے لئے آئرش گواہی،فاقہ کے لئے آئرش دعوت، تنزلی کے لئے آئرش ترقی جیسے الفاظ گھڑے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا ہی سلوک ہالینڈ سے کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔مینڈک کو ڈچ بلبل،طوائف کو ڈچ بیوہ،شراب کے نشے میں کی گئی ہمت کو ڈچ ہمت،شرابیوں کے شور کو ڈچ کنسرٹ،نشے میں کیا گیا سودا،ڈچ سودا۔۔۔۔۔،ڈچ ضیافت وہ جس میں ہر شریک اپنا بل خود ادا کرتا ہو،ڈچ چچا سے مراد وہ چچا ہے جو ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہو،پیدل چلنا کے لئے ڈچ سواری،موٹے اور بھدے شخص کو ڈچ کاٹھی کہتے ہیں،اس طرح ڈچ زبان کا دل کھول کر مذاق اڑایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انگریزوں نے فرانس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بغیر اجازت کی چھٹی فرنچ لیوو، برانڈی کو فرنچ کریم،عریاں تصاویر کے لئے فرنچ پرنٹ،جنس بھرے ہونٹوں کے بوسے کو فرنچ کس،اسی طرح کئی بیماریوں کے ساتھ لفظ فرنچ لگایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرانس نے یہی سلوک انگریزوں کے ساتھ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نادہندہ قرض دار کو انگریز کہتے ہیں،من مانی چھٹی منانے کو انگریز چھتی منانا کہتے ہیں،جرمن لوگ جوں کے لئے فرانسیسی اور کاکروچ کے لئے روسی الفاظ استعمال کرتے ہیں۔،

تبصرے

  • بہت عمدہ احمد سجاد صاحب، آپ نے بہت اہم جگہ انگلی رکھی ہے۔ یقیناً زبانوں میں اس کے بولنے والوں کے تصورات، خیالات، احساسات، جذبات اور تعصبات کوٹ کوٹ کر بھرے ہیں۔ لیکن غنیمت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو احساس ہو رہا ہے کہ سٹیریوٹائپنگ اچھی بات نہیں ہے چنانچہ آج زیادہ تر کوشش کی جاتی ہے کہ ایسے الفاظ سے پرہیز کیا جائے۔

  • لیکن کیا اردو زبان میں بھی اس لسانی تعصب کی کچھ مثالیں موجود ہیں؟ ایک فوری مثال تلنگا ذہن میں آتی ہے جو اصل میں ایک قوم کا نام تھا لیکن اس آوارہ، بدمعاش وغیرہ قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح لفظ کنجر بھی ہے۔

  • جیسے بربریت؛ افریقہ کے بہادر جنگجو بربر قبائل جن کی اسلام کی سربلندی اور ظلم کے خاتمے کے لیےجدوجہد کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،یوسف بن تاشفین کے نام سے کون واقف نہیں۔ لیکن لفظ بربر کو بربریت کا نام دے کر ایک گالی بنا دیا،۔
    لواطت ؛اسے قوم سدوم کی طرف نسبت کر کے سدومیت کہنا چائیے۔بلکہ انگلش میں اس کے لیے لفظ سدومی استمعال ہوتا بھی ہے۔
    دلال؛
    تجارتی حلقوں میں اس کا وقار ہےبلکہ ساری تجارت اسی دلال یعنی سودا کرانے والا ،(آڑھتی) کی وساطت سے ہوتی ہے۔
    لفظ صلٰٰوۃ کو دیکھ لیجئے؛اسلامی دنیا میں اس کا تقدس اور احترام مسلمہ ہے،،لیکن صلواتیں سنانا لفظ ایک ذلیل حرکت کے ساتھ وابستہ کر دیا۔
    اردو زبان میں بے شمار مثالیں ہیں۔
    شیخ ؛ بزرگی کے معنوں میں استمعال ہوتاہےاور ایک باوقار لفظ ہے لیکن شیحی اور مشیحت بنا کر اس کی تحقیر کی گئی،
    ریشِ قاضی دیکھ لیجئے۔

  • شاہین صاحب۔۔۔۔۔۔دلال تو لفظ کے غلط استعمال کے زمرے میں آئے گا۔۔۔۔اس کے معانی تبدیل ہونے میں کوئی تعصب کا دخل نہیں۔۔۔۔۔
  • اسی طرح عربی میں شیخ کے اصل معنی بوڑھا آدمی کے ہیں۔۔۔۔۔اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ شیخی بگھارنا یا اس کے مشتق اصل میں تعصب کی وجہ سے بنائے گئے
  • اور بربریت کا لفظ خود اردو والوں کا ظلم ہے۔۔۔۔۔۔مغرب نے
    تواصل میں بربرازم بنایا تھاجو اردو میں بربریت بن کر رائج ہو چلا
  • شاہین صاحب، باقی باتیں تو درست ہیں لیکن بربریت کا بربر قبائل سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دراصل یونانی زبان کے لفظ
    barbaros
    سے مشتق ہے جس کا مطلب تھا بیرونی، خارجی یا غیر یونانی۔ یہ لفظ کم از کم پانچ صدیاں قبل از مسیح سے رائج ہے۔

  • ظفر صاحب۔۔۔بربریت والے معاملے میں شاہین بھائ والی رائے میں نے بھی پڑھی ہے۔۔۔۔۔۔اسی طرح جیسے وہ فرما رہے ہیں
  • احمد سجاد صاحب، آپ کی بات پوری طرح واضح نہیں ہو سکی۔ کیا آپ شاہین صاحب کی اس بات سے متفق ہیں کہ باربیریزم افریقی بربر قبائل سے نکلا ہے؟

  • ظفر صاحب آپ کی یہ بات تو درست ہے کہ بربراس یونانی لفظ بیرونی ،خارجی اور غیریونانیوں کے لیے استمعال ہوا ہے۔اس کے ویکیپیڈیا میں کئی معنی لکھے ہوئے ہیں لیکن اکثر نے جنگلی اور ایسی باتیں کرنا جن کی سمجھ نہ آئے ہیں۔
    لیکن لفظ بربریت کے متعلق اکثر کا خیال ہے کہ اس کا تعلق افریقی بربر اقوام سے ہی ہے۔
    اردو لغت آن لائن میں لکھا ہے کہ بربریت عربی لفظ بربر سے بنا ہے۔
    صدیق احمد کے علاوہ اطہر علی ہاشمی جن کا تعلق شعبہ صحافت سے ہےاور زبان و بیان پر گہری گرفت رکھتے ہیں، لکھتے ہیں کہ فاتح اندلس طارق بن زیاد خود بھی بربر تھے اور اندلس میں پورے یورپ کی متحدہ افواج کو شکست دینے میں ان کے ساتھ بربر مجاہدین تھے۔اہل یورپ نے اس شرمناک شکست کے بعد مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے بربرازم کی اصطلاح گھڑ لی ( جس کا ذکر سجاد صاحب نے بھی کیا ہے ) اور پروپیگنڈا کیا کہ بربر مسلمان انتہائی ظالم اور وحشی ہیں ان کا مقصد یورپ میں مسلمانوں کےخلاف نفرت پھیلا کر اپنی قوم کو مجتمع کرنا تھا۔ مگر ہم نے سوچے سمجھے بغیر بربریت کہنا شروع کر دیا۔
    ویسے نوراللغات اور فرہنگ آصفیہ نے یہ لفظ بربریت نہیں لکھا اور بعض نے لکھ کر ساتھ نوٹ لکھا ہے کہ یہ عام طور پر غلط معنوں میں استمعال ہوتا ہے اس کے معنی شجاعت اور مردانگی ہیں۔

  • شاہین صاحب، معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اردو لغت والوں نے محض صوت دیکھ کر فرض کر لیا ہے کہ اس لفظ کا تعلق بربروں سے ہے، حالانکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا، یہ لفظ پانچ صدی قبل مسیح سے یونان میں استعمال ہوتا چلا آ رہا ہے۔ یہ اصل میں قدیم پروٹو انڈویوروپین لفظ ہے، اور اس کی شکلیں سنسکرت سمیت کئی زبانوں میں ملتی ہیں۔ یہ دیکھیے اٹیمو آن لائن کا یہ لنک دیکھیے

    barbarian (adj.) Look up barbarian at Dictionary.com
    mid-14c., from Medieval Latin barbarinus (source of Old French barbarin "Berber, pagan, Saracen, barbarian"), from Latin barbaria "foreign country," from Greek barbaros "foreign, strange, ignorant," from PIE root *barbar- echoic of unintelligible speech of foreigners (compare Sanskrit barbara- "stammering," also "non-Aryan," Latin balbus "stammering," Czech blblati "to stammer").

    Greek barbaroi (n.) meant "all that are not Greek," but especially the Medes and Persians. Originally not entirely pejorative, its sense darkened after the Persian wars. The Romans (technically themselves barbaroi) took up the word and applied it to tribes or nations which had no Greek or Roman accomplishments. The noun is from late 14c., "person speaking a language different from one's own," also (c. 1400) "native of the Barbary coast;" meaning "rude, wild person" is from 1610s.

  • اگر اردو زبان میں تعصب کی بات کریں تو عربوں کے احساسِ تفاخر کے باعث لفظ عجمی وجود میں آیا کہ انہوں نے عربی کی فصاحت اور بلاغت کے زعم میں باقی اقوام کو گونگا ہی کہہ ڈالا۔۔۔۔اسی طرح آریہ خود کو تۃذیب کا ضامن سمجھتے تھے،انہوں نے غیر آریہ اقوام کو "غیر آریہٗ کہنے کے لئے "اناریہ"کا لفظ متعارف کرایا جو رفتہ رفتہ" اناڑی" کی شکل اختیار کر گیا جو بے وقوف،بے شعور اور غیر مۃذب کے معنوں میں استعمال ہونے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح بدھ مت کے پیرو کاروں سے نا پسندیدیگی کے لئے بدھو کا لفظ بے وقوف اور جاہل کے معنوں میں رواج پا گیا ورنی اس لفظ کے حقیقی معنی عقلمند کے تھے۔۔۔۔۔ایسے بدھ سادھو جو بہت پہنچے ہوتے تھے،جو علم و عرفان کی ایسی منزل پر ہوتے تھے کہ دنیا سے غافل ہو جاتے تھے، ان کو"اودھوت" کہتے تھے، شراب کے نشے میں مدہوش ہو جانے والے کو بھی" دھت" کہنے لگے جو اصل میں انہی بدھ سادھووں سے نسبت میں تھا۔۔۔۔۔ویسے تو لفظ خلیفہ کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ یہ حجام کے لئے استعمال ایک خاص فرقے نے ایک دوسرے فرقے کی دل آزاری کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔

  • بہت عمدہ معلومات

  • مکمل حوالہ اس وقت یاد اور دسترس سے باہر ہے، مگر گمان ہے کہ یونانی الاصل لفظ "بربر" شمالی افریقہ کی غیر عرب گندم گوں اقوام کا خود اختیار کردہ نام نہیں ہے بلکہ ان پر تھوپا گیا ہے، جس سے انہیں غیر متمدن دکھانا مقصود تھا۔ خود ان کے ہاں اپنی شناخت کے لیے بہت سے دوسرے نام ہیں جن میں سے ایک "طوارق" یاد آ رہا ہے۔ البتہ یہ ہوا ہے کہ رفتہ رفتہ ان اقوام نے خود کو عرب اور یورپی قابضین کے تھوپے ہوے نام سے پکارنا شروع کردیا ۔جیسے ہمارے ہاں پشتون کو پٹھان اور پشتونخوا کو سرحد کہنے کا رواج رہا ہے اور کچھ پشتونوں نے بھی اپنا اور اپنے وطن کا تعارف ان الفاظ سے کروانا شروع کردیا۔

  • Also, "Barbarism" and "Barbarity" carry different but related connotations. The former signifies some sense of savagery and rusticity (not without a degree of nobility), while latter implies ruthlessness and violence

  • شکریہ عثمان صاحب

  • اردو میں باورچی کے لیے انگرز سرکار کا رائج کردہ نام خان ساماں اس کی ایک مثال کہا جاسکتا ہے۔

  • خود اردو میں تفاخر کی کئی مثالیں مل جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اردو
    والے خود کو اہلِ زبان کہتے ہیں حالانکہ ہر زبان بولنے والا اہلِ زبان ہے!۔

    اہلِ دہلی و لکھنو کے علاوہ کسی اور کی زبان کو فصیح نہ ماننے کا چلن بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ ہمارے آس پاس کی کسی زبان میں فصیح غیر فصیح، غلط العام، غلط العوام وغیرہ کا اتنا ٹنٹنا نہیں ہے جتنا اردو میں۔

    اسی تفاخر کی انتہائی مثال یہ شعر ہے

    احمدِ پاک کی خاطر تھی خدا کو منظور
    ورنہ قرآن اترتا بزبانِ دہلی

  • Ek expression "jahil jatt" apny khandaan mai aksar bari umar k logo sy suna ab ghaliban matrook hai. Ye kia waqai Urdu ka koi expression hai?
  • زیدی صاحب، جاہل جٹ کوئی مستعمل اصطلاح نہیں ہے۔ ویسے بول چال میں کوئی کہہ دے تو کہہ دے۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔