سناٹا

December 2016 کو ترمیم کیا میں یہ لفظ کہاں سے آیا؟

یہ بےحد دلچسپ لفظ ہے۔ اس کا ابتدائی مطلب تو سخت شور شرابا، خاص کر دریا کے چڑھنے کا شور یا بارش اور آندھی کا شور تھا۔

میر کا شعر دیکھیے

سناہٹے میں جان کے ہوش و حواس و دم نہ تھا
اسباب سارا لے گیا آیا تھا اک سیلاب سا

یہاں سناہٹا (سناٹے کی ایک اور شکل) سیلاب کے شور کے معنی میں آیا ہے۔ اسی طرح شاہ نصیر کا شعر دیکھیے

جو پرِ تری کا سنتا ہے تری سناٹا
سہمگین جان نکل جائے ہے اس کے تن سے

اس شعر میں تیر کے ہوا میں سنساتے ہوئے اڑ کر جانے کی تیر آواز کو سناٹا کہا گیا ہے۔

یہ صورتِ حال ایک عرصہ رہی، لیکن زمانہ کب کسی کو ایک حال پر رہنے دیتا ہے، اس کی پکڑ سے الفاظ تک محفوظ نہیں ہیں۔ چنانچہ حالات کے تھپیڑے کھاتے کھاتے سناٹا کا مطلب بدلتے بدلتے حیرت انگیز طور پر بالکل الٹ ہو گیا۔ آج سناٹا مکمل خاموشی اور ہو کا عالم کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

احسان دانش کے دو شعر

آنگنوں میں اُترا ہے بام و در کا سناٹا
میرے دل پہ چھایا ہے میرے گھر کا سناٹا
رات کی خموشی تو پھر بھی مہرباں نکلی
کِتنا جان لیوا ہے دوپہر کا سناٹا

ناصر کاظمی

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے
اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے

ان اشعار میں شدید ترین خاموشی کو سناٹا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سچ کہا ہے کہ حضرتِ علامہ نے

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

تبصرے

  • ایک منفرد سا شعر یہ بھی دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اندر شور ہے سناٹے کا۔۔۔۔۔۔۔باہر شور کا سناٹا ہے(انور خان)

  • سناٹا کی تخیفیف سان بھی لٹریچر میں ملتی ہے۔

  • سجاد صاحب، مولوی نورالحسن نے بھی نوراللغات میں لفظ سان ،سناٹا کے معنی میں لکھا ہے۔جیسے سارے شہر میں سان ہو گیا۔ خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں ؛یہ کیسے لوگ ہیں جن کو گھروں سے ڈرنہیں لگتا

  • ہندی میں ایک ترکیب ہے "ان آہٹ" یعنی بے آواز۔ پنجابی صوفیانہ کلام میں بھی آتا ہے "انہت باجا بجے سُہانا"۔ سنسکرت میں "س" کا سابقہ مکبّر یا انگریزی سوپر لے ٹِو کے لیے آتا ہے۔ کیا قیاسی طور پر "انتہا درجے کی خاموشی" کو سنّاہٹا یا سنّاٹا کہہ سکتے ہیں؟

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔