مطلب بدل گیا ہے تو اب جانتے نہیں

عربی سے کئی الفاظ اردو کا حصہ بنے لیکن یوں کہ اصل کا مطلب کچھ کا کچھ ہو گیا۔ ایسے ہی چند الفاظ کے اصل معانی کی مثالیں نیچے درج ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ ایسے مزید الفاظ یہاں درج کریں:

تفصیل: ٹکڑے کرنا
امیر: حاکم
غریب: پردیسی
عزیز: طاقت ور
سلوک: راستہ

«1

تبصرے

  • فارسی میں جیسا کہ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد۔

  • کسی زبان سےجب کوئی لفظ دوسری زبان میں جاتا ہے۔تو بعض اوقات اخذ کرنے والی زبان میں اُس لفظ کا مطلب تبدیل ہوجاتاہے۔عربی اورفارسی سے ایسے ہزاروں الفاظ وتراکیب اردو میں آئے ہیں جو اپنے اصل مفہوم کے بجائے دوسرے مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں۔ایسے الفاظ کو جودوزبانوں میں ایک ہی اصل سے تعلق رکھتے ہوں مگر اُن کے دونوں زبانوں میں مطلب جداجدا ہوں،ڈاکٹر احسان الحق نے اس کے لیےنظائرِخادعہ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔نظائر کا مطلب مثل، مانندجبکہ خادع فریب دینے والے کو کہتے ہیں۔
    ظفر صاحب یہ عمدہ سلسلہ ہے۔ ہم اس لڑی میں وہ الفاظ شامل کرنے کی کوشش کریں گےجو دو زبانوں میں ایک ہی اصل سے تعلق رکھتے ہیں لیکن دوسری زبان میں جا کر مفہوم تبدیل ہو جاتا ہے۔لیکن اگر تھورا ٖغور سے دیکھا جائے تو ان الفاظ میں تمام نہیں تو اکثر الفاظ اصلی معانی کی جڑوں سے کسی نہ کسی طرح جڑے ہوتے ہیں۔
    خصم عربی میں دشمن، حریف،جھگڑالواور مالک کے معنوں میں آتا ہےجبکہ اردو میں آکر شوہر اور خاوند ہو گیا۔
    غلیظ عربی لفظ ہے اور پکے اور گاڑھے کے معنی رکھتاہے۔اوراردو میں آکر بہت زیادہ گندی چیز یا ناپاک چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
    غریب ؛عربی میں اس کے معنی چلے جانااور علیحدہ ہو جانے کے ہیں۔اور مسافر اور پر دیسی کو غریب اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ وطن سے دور چلا جاتا ہے۔اور غراب کوے کو بھی اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ دوردور تک چلا جا تا ہے۔اردو میں آکر غریب کے معنی نادار اور مفلس کے ہو گے۔شاید پردیس اور سفر کے دوران مشکلات کی وجہ سے یہ نام دیا گیا۔جاری ہے

  • شاہین صاحب، قابلِ قدر معلومات فراہم کرنے کا شکریہ۔ آپ کی وساطت سے پہلی بار نظائرِخادعہ اصطلاح کے درشن ہوئے۔

    امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔

  • اسلام علیکم ورحمۃاللہ
    جناب اس ویب سائٹ کے بارے مزید جانکاری کیلئے مجھے رمز درکار ہے للہ میری رہنمائ فرمائیں۔
  • 000786 کے بجائے میں اپنا نام دیکھنا چاہتا ہوں
  • ادارہ=عربی میں گھمانا،چکر دینا،عربی میں مونث اردو میں نا صرف مذکر ہو گیا بلکہ معانی بدل کر"دفتر،محکمہ"ہو گئے
    انصرام=عربی میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا،اردو میں بندوبست
    انکسار=عربی میں شکست کھا جانا اردو میں عاجزی
    اہتمام=عربی میں پریشان ہونا،فکر کرنا جبکہ اردو میں انتظام
    تجویز=عربی میں جائز،اردو میں مشورہ
    تحریر=عربی میں آزاد کرنا،اردو میں دستاویز،لکھائ
  • December 2016 کو ترمیم کیا

    سجاد صاحب، آپ نے درست فرمایا کہ اردو زبان میں آ کر ان الفاظ کے معنی تبدیل ہو گئے، جس کی مختلف مثالیں میں نے اورظفر صاحب نے بھی دی ہیں لیکن بعض اوقات ان عربی الفاظ کا لطیف سا ربط اپنی اصل سے رہتا ہے۔عربی زبان کا ہر لفظ الگ الگ مستقل حیثیت نہیں رکھتا بلکہ جس طرح درخت کی شاخیں، پتے، پھول،پھل اُس کے بیج یا جڑ سے نکلے ہوتے ہیں اسی طرح اس زبان کا ہر لفظ اپنی ایک جڑ (روٹ) اور اصل رکھتا ہے جس سےوہ نکلتا ہے۔اس جڑ یا اصل کو مادہ(روٹ) کہتے ہیں۔اور پھر ایک مادہ سے سیکڑوں الفاظ بنتے ہیں۔ ان الفاظ کی شکلیں مختلف ہوں گی لیکن ان میں سے ہر ایک میں اس جڑ (مادہ) کی خصوصیت ضرور موجود ہو گی۔ بطور مثال لفظ تحریر لے لیتے ہیں۔تحریر لفظ کا مادہ ح ر ر ہے جس کے معنی گرم ہونا، آزاد ہونا اور کسی چیز کا خالص اور عمدہ ہونا کے ہیں۔ حُر حریت، حریر، حرارت، حار،حریرہ اور تحریر الفاظ اسی مادہ سے ہیں۔ لفظ حُر عبد (غلام) کی ضد ہے یعنی آزاد ۔ حریت معنی آزادی، اور یہ من اور ایمان کی حرارت ہی ہے جو غلامی سے نکالتی ہے۔ ریشمی کپڑے کو بھی حریر اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ حرارت دیتا ہے۔ حار معنی گرم کرنے والا۔ حریرہ ایک کھانے یا پینے کی چیز ہے جو سوجی دودھ روغن ملا کر تیار کیا جاتا ہے جس کے کھانے سے جسم کو حرارت ملتی ہے۔ اس اعتبار سے لکھائی یا دستاویز کو عربی میں تحریر اسی لئے کہا گیا کہ انسان اپنے خیالات کو ذہن کی قید سے آزاد کر کے کاغذ پر لے آتا ہے۔ (جاری ہے) نوٹ؛لفظ دستاویز اصل میں دست اور آویز سے مرکب ہے۔ دست معنی ہاتھ اور آویز معنی لٹکانا۔ پرانے زمانے میں لوگ اہم کاغذات لپیٹ کر ہاتھ کے ساتھ کلائی میں دھاگہ ڈال کر لٹکا لیا کرتے تھے تاکہ محفوظ رہیں اسی لئے اس کا نام دست آویز ہو گیا یعنی ہاتھ کے ساتھ لٹکایا ہوا۔

  • رقبہِ: عربی میں گردن اور غلام کو کہتے ہیں۔ اردو میں آ کر یہ لفظ احاطہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ رقیب : عربی میں معنی نگہبان اور حفاظت کرنے والا ہیں۔اللٖہ تعالی کا صفاتی نام بھی ہے اور اردو میں آ کر حریف ،دشمن اور شراکت دار ہو گیا۔ عیاش : عربی میں روٹی بیچنے والے کواور اچھی زندگی گزارنے والے کو کہتے ہیں۔اور اردو میں آ کر اوباش ،بد چلن اور تماش بین ہو گیا۔ واھی : جس کی جمع واھیات ، عربی میں اس کے معنی کمزور، شگاف اور کسی چیز کا ڈِھیلا ہونا ہیں۔ اردو میں لغو ، بے ہودہ فضول اور گمراہ ہو گیا۔ تخلص : عربی میں اس کے معنی رہائ پانا ،نجات پا لینا ،جدا ہو جانا کے ہیں۔اور ہمارے ہاں شاعراپنے نام کے ساتھ مختصر سا جو نام لکھتے ہیں اسے تخلص کہتے ہیں۔ نجانے اس کی کیا توجیہہ ہے،شاعراپنی غزل یا نظم کے آخری شعر میں اپنا تخلص لکھتا ہے، شائد اپنی غزل سےالگ ہو جاتا ہے یا پھر لوگ اس سے خلاصی حاصل کر لیتے ہیں تب اس کو تخلص کہا گیا۔

  • شاہین صاحب بہت بہت شکریہ۔ آپ بہت بیش قیمت معلومات دے رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ دوسرے پڑھنے والوں کے علم میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہو گا۔

    تخلص: یہ خلص سے ہے جس کا مطلب ہے محفوظ بنانا۔ میرے خیال سے شاعر آخری شعر میں اپنا نام لکھ کر گویا غزل پر اپنی مہر ثبت کر دیتا ہے تاکہ کوئی اور اس پر دعویٰ نہ کر سکے۔ آج بھی اگر کسی شعر کے خالق کا نام معلوم نہ ہو تو پوری غزل ڈھونڈی جاتی ہے تاکہ دیکھا جائے اس میں کس کا تخلص ہے۔

    دوسرے دوست اس کی تائید یا تردید کر سکتے ہیں۔

  • لفظ تخلص کا مادہ خ ل ص ہے، اس مادہ خلص کے بنیادی معنی اور اس سے بننے والے دوسرے الفاظ ایک نظر دوبارہ دیکھتے ہیں۔خلص؛کسی چیز سے کھوٹ اور میل کو الگ کر دینا، کسی چیز سے زائد اور فالتو حصوں کو چھانٹ دینا، رہائی پانا، چھٹکارا پانا۔
    درج ذیل الفاظ اسی مادہ (جڑ) سے ہیں۔
    خالص،خلوص،خلاصہ،خلاص ،خلوص، مخلص،مخلصین،خالصہ،تخلیص،تخلص
    خالص؛بے میل،یعنی جس سے میل اور آمیزش الگ کر دی ہو۔
    خلوص؛نیک نیتی،سچی دوستی ، جس میں ملاوٹ نہ ہو۔
    خلاصہ؛جوہر،نچوڑ چھانٹی کیا ہوا،عربی میں خلاصہ مکھن اور سونے کو بھی کہتے ہیں جسے تپا کر خالص کر لیا جائے۔
    خلاص؛ نجات،آزادی رہائی۔
    مخلص، مخلصین؛ قرآن نے مخلصین ان لوگوں کو کہا ہے جو ہر طرف سے ہٹ کر صرف قوانین خدا وندی کی راہ پر چلتے ہیں۔
    خالصہ؛سکھوں کے آحری گورو گوبند سنگھ نے جو خالصہ جماعت قائم کی اورسکھوں کو پانچ اصولوں اور پانچ ککوں اور نام کے ساتھ لفظ سنگھ (شیر) لگانے کا حکم دیا۔یہ لفظ خالصہ اور خالصتان اسی عربی لفظ خلص سے ہی ہیں۔
    تخلص؛ شاعر اپنی غزل کے آخری شعر میں اپنے اصلی نام کی بجائے جومختصر نام استمعال کرتا ہے۔
    یعنی وہ اپنی غزل یا نظم سے الگ ہو جاتا ہے یا پھر وہ اپنی غزل میں تخلص لکھ کر دوسروں کی غزلوں سے الگ یا مختص کر لیتا ہے۔اور آخری شعر جس میں تخلص ہوتا ہے اس مقطع بھی اسی لیے کہتے ہیں، یعنی کاٹنے کی جگہ، کسی چیز کے ختم ہونے کی جگہ۔
    اس پہ مزید غور کی ضرورت ہے۔

  • December 2016 کو ترمیم کیا

    حراست؛عربی اور فارسی میں نگہبانی کرنا، محافظت ۔اردو میں گرفتاری کے معنوں میں استمعال ہوتا ہے۔
    گلاب؛فارسی میں عرقِ گل کے معنی میں استمعال ہوتا ہے اور اردو میں صرف اس مخصوص پودےاور سرخ پھول کے لیے ۔
    بخار ؛ عربی میں معنی بھاپ اور دھواں ہیں اور اردو میں معنی تپ
    البتہ بخارا شہر کا اس بھاپ اور تپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور آلو بخارا کا تعلق اس شہر سے ضرور ہے، بخارا کا یہ پھل بڑا نفیس ہوتا تھا اورچونکہ یہ آلو کی شکل کا ہوتا ہے، اس لیے آلو بخارا نام ہوا یعنی بخارا کا آلو۔
    جابر؛ عربی میں معنی ہیں ٹوٹی ہوئی ہڈی کو جوڑنے والااور اردو میں معنی ہیں ظالم
    عربی میں اس لفظ کا مادہ ہے ج ب ر۔اس کے بنیادی معنی ہیں کسی چیز کی اس طرح اصلاح کرنا کہ اس میں کچھ قوت لگانی پڑے۔ ٹوٹی ہوئی ہڈی کو جوڑنے کے لیے روایتی طریقے میں جو لکڑیاں اوپر اور نیچے رکھی جاتی ہیں انہں الجبائر اور جوڑنے والے (سرجن ) کو الجابر کہتے ہیں ۔
    اللہ تعالی کا صفاتی نام بھی ہے الجبار جس کا مفیوم ہے انسان کی کوتاہیون اورسر کشی کو قوانین کی پھٹیوں کے شکنجے میں رکھ کر جوڑنے والا،اور چونکہ اس میں قوت اور شدت ہوتی ہے جس سے ظاہری طور پر نکلیف ہوتی ہے لیکن دراصل مقصود اصلاح ہے اور خدا کی یہ جباریت انسانوں کے لیے رحمانیت ہۓ۔
    علم ریاضی کی ایک شاخ کا نام الجبرا ہے اس کا تعلق بھی اسی عربی لفظ جبر سے ہے،پورا لفظ الجبروالمقابلہ ہے، ساتھی ضرور اس پر غور فرمائیں گے۔

  • شاہین صاحب، گراں قدر معلومات سے نوازنے کا ایک بار پھر بہت بہت شکریہ۔ میرے خیال سے تخلق کے سلسلے میں بات واضح کہ شاعر آخری بیت میں اپنا نام ڈال کر اسے دوسروں سے الگ کر دیتا ہے۔ گویا یہ ایک طرح سے اس کے کاپی رائٹ کا اعلان ہے، کہ جملہ حقوق بحق شاعر محفوظ ہیں، کوئی دوسرا شخص اس غزل پر دعوے کی زحمت نہ کرے۔

  • ناشتا؛ فارسی میں معنی ہیں ، بھوکا ہونا، صبح سے کچھ نہ کھایا ہوا ہونا اور اردو میں آ کر صبح کا کھانا ہو گیا۔ یعنی ناشتا صبح کا وہ کھانا ہوتا ہے جس سے پہلے کچھ نہ کھایا ہو۔
    اور نہار بھی یہی ہے، نا اور ہار یعنی جس نے صبح سے کچھ نہ کھایا ہو۔
    سازش؛ فارسی میں معنی ہیں ،اتفاق، موافقت اور اردو میں آ کر منفی معنوں میں استمعال ہوتا ہے یعنی کسی کے خلاف منصوبہ بندی کرنا۔

  • طعنہ؛ عربی میں معنی ہیں نیزہ مارنا اور اردو میں عیب نکالنا ، طنز کرنا۔اس سے شائد نیزہ لگنے جیسی تکلیف ہوتی ہے اس لیے یہ نام ہوا۔ لفظ طاعون بھی اسی مادہ سے ہے، کہتے ہیں اس بیماری میں زخموں میں اس طرح تکلیف ہوتی ہوتی ہے جیسے نیزے لگ رہے ہون۔
    ظفر؛عربی میں اس مادہ کے بنیادی معنی ناخن کے ہیں۔ کامیاب۔
    اظفر بڑے ناخنوں والا، زیادہ کامیاب۔
    اردو میں آ کر اس کے معنی فتح اور کامیابی ہیں اور یہ مفہوم دراصل ناخن گاڑ دینے سے لیا گیا ہے،اس لیے کہ جس چیز میں پنجہ گاڑ دیا جائے وہ قبضہ میں آ جاتی ہے۔ ( راغب)۔

  • آہ، آج اپنے نام کا اصل مطلب معلوم ہوا۔ :) لیکن افسوس اب اتنی دیر ہو گئی ہے کہ نام نہیں بدلا جا سکتا

  • افواہ؛ فوہ کی جمع ہے اور عربی میں معنی ہیں منہ، دہن۔ لیکن اردو میں آ کر اڑتی ہوئی خبر یا بے اصل بات کے معنی ہو گئے اور اردو میں بطور واحد مستعمل ہے۔

  • وظیفہ ؛عربی اور فارسی میں یہ لفظ ذمے داری ،فریضے اور تنحواہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
    جبکہ اردو میں آ کر وہ رقم جو نادار طلبا کے لیے مقرر کی جائے اور کوئی دعا یا ورد جو روزانہ پڑھا جائے،کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔
    شادی؛ فارسی میں اس کے معنی صرف حوشی ،شادمانی اور مسرت کے ہیں ۔
    اور اردو میں آ کر یہ لفظ اب صرف بیاہ کے معنی تک محدود ہو گیا ۔شروع شروع میں اردو میں بھی خوشی کے معنی میں استعمال ہوتا رہا ہے، جیسے، اب بھی شادی مرگ وہ موت جو حوشی کی زیادتی کے باعث واقع ہو۔

  • December 2016 کو ترمیم کیا

    سبق ؛ عربی میں معنی ہیں ،کسی سے آگے بڑھ جانا۔
    سابق آگے بڑھ جانے والا،
    لیکن اردو میں آ کر اس کے معنی تعلیم، درس اور نصیحت ہو گئے۔
    جلوس ؛ عربی میں معنی بیٹھنا ہیں۔
    پہلے وقتوں میں شائد اردو میں بھی معنی بیٹھنا ہوں لیکن اب تو جلوس کچھ اور ھی مناظر پیش کرتے ہیں۔

  • حسبِ معمول بہت عمدہ معلومات

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو میں جلسہ اس تقریب کو کہا جاتا ہے جس میں سب لوگ بیٹھے ہوں، اور جلوس جس میں لوگ چل رہے ہوں۔ لیکن ماخذ کے لحاظ سے دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔

    لیکن افسوس کہ اردو کے اس قدر مفید، آسان اور عام فہم الفاظ کے ہوتے ہوئے میڈیا نے ریلی ریلی کی تکرار کر رکھی ہے جس سے خدشہ ہے کہ یہ الفاظ متروک ہو جائیں گے۔ اب بھی جلسہ کسی حد تک دقیانوسی لفظ معلوم ہونے لگا ہے حالانکہ دس پندرہ سال قبل تک یہ عام مستعمل تھا۔

  • قہر ؛عربی میں معنی ہیں کسی پر غالب ہونا ،قہار کے معنی ہیں غالب زبردست
    اللہ تعالی کا صفاتی نام ہے،القہار جس کے معنی ہیں جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے، جس کا قانون سب پر غالب ہو۔
    لیکن اردو میں یہ لفظ غصہ غضب اور ناراضی کے معنی میں استمعال ہوتا ہے۔
    ادارہ؛عربی میں معنی گھمانا اور چکر دینا ہیں ۔
    اور اردو میں دفتر اور محکمہ ہو گیا۔
    عربی میں اس لفظ کا مادہ دور ہے،،جس کے بنیادی معنی ہیں کسی چیز کا اس طرح گھومنا کہ وہ گھوم پھر کر وہین آ جائے جہاں سے چلی تھی۔
    دار، دورہ ،دوار،دائرہ،دارہ، تدیر، دیار، مدار، مدیر سب اسی مادہ سے ہیں۔
    دار ،؛مکان یا گھر کو اسی لئے کہتے ہیں کہ لوگ گھوم پھر کر پھر وہاں آ جاتے ہیں ےیعنی سرکل بناتے ہیں۔دورہ، بھی ایک چکر ہوتا ہے۔
    دور؛ وقت اور زمانہ کو بھی اسی لئے کہتے ہیں ۔
    مدار؛ جس پر کوئی چیز چکر کھائے ،دھرا۔
    مدیر ؛ دور دینے والا، گھمانے والا، ،پرنسپل،حاکم، ڈائرکٹر،اخبار کا مہتمم۔ چونکہ سارا دارو مدار اس فرد پر ہوتا ہے۔
    دائرہ؛چکر حلقہ، گھیرا/
    دائرہ المعارف؛ معلومات عامہ کی وہ کتاب جس میں مختلف موضوعات سے متعلق تمام معلومات جمع کر دی جائیں۔ دراصل اس میں بھی کسی لفظ یا موضوع پر تحقیق یا نالج کا دائرہ مکمل کیا جاتا ہے۔ اسی لئے انگلش میں اسے انسائیکلو پیڈیا کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ یونا نی زبان سے آیا ہے اور اس کے معنی بھی یہی ہیں ۔ سائیکل معنی چکر،پہیہ یا دائرہ اور پیڈیا معنی علم، تعلیم یعنی مکمل نالج۔
    با ئیسکل میں بھی یہی سائیکل ( چکر، دائرہ ) ہے۔
    بائی معنی دو اور سائیکل معنی پہیہ یا دائرہ۔
    ادارہ کو گھوم گھما کر سائیکل ( دائرہ) تک لے آیا ہوں۔
    جاری ہے۔

  • واہ شاہین صاحب، آپ نے دائرے کو وہ گھمن گھمیریاں دی ہیں جس سے بہت سے لوگوں کے کئی طبق روشن ہو گئے ہوں گے :)

    جہاں تک سائیکل یعنی سواری کی بات ہے، اسے فارسی والے بھی دائرہ ہی یعنی دو چرخہ کہتے ہیں جو بائی سائیکل کا براہِ راست ترجمہ ہے۔

    اسی طرح دائرۃ المعارف بھی انسائیکلوپیڈیا کا براہِ راست ترجمہ ہے۔۔

  • شکریہ، ظفر صاحب، آپ نے ایک اور دائرے کا اضافہ کر دیا۔
    دو چرخہ یعنی بائیسائیکل،
    چرخہ؛ سوت کاتنے کا آلہ، اسے بھی اس کے گھومنے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا۔
    چرخی، پھرکی،پانی کھینچنے کا پہیا جو کنووں پر لگا ہوتا ہے۔
    چرخ؛ معنی پھرنے والا، پہیا، چکر، گردش ،آسمان۔
    آسمان؛آسمان کو بھی گھومنے کی وجہ سے چرخ کہا گیا ہے۔
    جب زمین کو ساکن اور آسمان کو گھومتا تصور کیا جاتا تھا تو یہ نام دیا گیا،،
    آسمان دو الفاظ سے مرکب ہے، آس اور مان، آس چکی کو کہتے ہیں جو کہ آسیا کا مخفف ہے۔ اور مان مخفف ہے مانند کا معنی طرح
    آسمان یعنی چکی کی طرح۔ جس طرح چکی کا اوپر والا حصہ حرکت کرتا ہے اور نیچے والا ساکن رہتا ہے۔
    جبکہ اب ایسے نہیں ہے لیکن نام وہی آ رہا ہے۔
    لفظ خراس میں بھی یہی آس (چکی) ہے، خر معنی بڑا اور آس معنی چکی۔ خراس معنی بڑی چکی۔
    اور یہ خر بمعنی کلاں یا گدھا
    لفظ خرگوش میں بھی ہے۔ خرگوش معنی بڑے کانوں والا۔
    اور خربوزہ میں بھی شائد یہی خر ہے۔

  • مصروف کو ہی دیکھ لیں،عربی میں تو یہ اسم مفعول ہے اور اس کے معنی ہیں"جس چیز کو خرچ کیا جائے۔۔۔۔۔اس کا مادہ ص ر ف ہے،اسی سے صارف،صرف،صرفہ،مصرف،مصارف،تصریف وغیرہ بنے مگر جب یہ اردو میں آیا تو مشغول،کام میں لگا ہوا،منہمک ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مقالہ کا لفظ قول سے مشتق ہے،اس کا مطلب ہوا ۔۔۔کہی ہوئی بات۔۔۔۔۔یعنی کہ گفتگو۔۔۔۔۔قول،اقوال،مقولہ،قوالی،قوال اسی سے نکلے ہیں مگر اردو میں یہ
    تحریری کاوش تک محدود ہو کر رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مخمصہ سورہ توبہ آیت 120کی رو سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خالی پیٹ ہونا،دبلا ہونا،ایسی بھوک جو کمزوری پیدا کردے۔۔۔۔کے معنوں میں عربی کا حصہ ہے مگر اردو میں الجھن،تذبذب،مشکل،عذاب جیسے معانی میں استعمال ہوتا ہے

  • لفظ عرس ہمارے ہاں کسی بزرگ کی سالانہ فاتحہ جو تاریخ وفات کو ہو، کے لیے استعمال ہوتا ہے۔جبکہ عربی مین ان معنی میں کہیں بھی استعمال نہین ہوتا۔عربی میں یہ لفظ شادی کی تقریب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
    عروس معنی دولہا، عروسہ معنی دُلہن

  • اسی طرح کا ایک لفظ وصال بھی ہے جو کسی بزرگ کی موت پر استعمال ہوتا ہے کہ موصوف وصال فرما گئے۔ غالبا عرس اور وصال دونوں میں محبوبِ حقیقی سے جا ملنے کا عنصر موجود ہے۔

  • ظفر صاحب، وصال اور عرس تصوف کی اصطلاحیں ہیں اور آپ نے درست فرمایا کہ ان میں محبوبِ حقیقی سے جا ملنے کا عنصر موجود ہے۔
    الفاظ وصال اور عرس کے متعلق تصوف کی دنیا میں عقیدہ یہ ہے کہ جس دن اللہ کے ولی اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں وہ دن ان کی روحانی شادی کا دن ہوتا ہے۔ جب ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرتی ہے اور پردے اٹھائے جاتے ہیں اور وہ اپنے محبوب خقیقی سے جا ملتے ہیں، موت کو وصال کے لفظ سے تعبیر کرنے کا پس منظر بھی یہی عقیدہ ہے۔
    متقی اور پارسا لوگوں سے فرشتے صیحیحی جوابات سن کر انھیں کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے کہتے ہیں نم کنومہ العروس یعنی ایسے سو جاو جیسے پہلی رات کی دلہن سوتی ہے۔ اسی لیے عرس کے دن مزار شریف کا دلہن کی طرح بناو سنگار کیا جاتا ہے اور شادی کی طرح اہتمام کیا جاتا ہے

  • تصوف کی اپنی ہی دنیا ہے اس کی اپنی اصطلاحات ہیں ہم عامیوں کے لئے تو یہ قصہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔

  • شاہین صاحب، شاید شادی کی مناسبت سے پیروں فقیروں کے عرس والے دن باقاعدہ جشن منایا جاتا ہے، حالانکہ عام عوام کے لیے برسی غم کا موقع ہوتا ہے۔

  • کہنے والے کہتے ہیں صاحب مزار زندہ ہے تو ان کی موت کا غم کیسے منایا جا سکتا ہے جناب اسی لئے شائد عرس پر خوشیاں مناتے ہیں

  • شاہد صاحب کہنے والے اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں لیکن آپ نے جو پہلے بات لکھی تھی وہ ٹھیک ہے،کہ یہ قصہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ تو ہم اس قصے کو یہی چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔
    عربی لفظ علاقہ کا ہمارے ہاں ایک معنی رقبہ لیے جاتے ہیں جو عربی میں نہیں ہین۔ وہاں اس مادہ ع ل ق سے بننے والے الفاظ کے معنی ہین ،، تعلق، لگاو، واسطہ محبت چمٹنا، لٹکنا،کتاب کا حاشیہ،جونک وغیرہ۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔