حواری

یہ لفظ کس لفظ سے نکلا ہے

تبصرے

  • علمی اردو لغت میں حواری کے یہ معنی لکھے ہیں خاص،برگزیدہ، مددگار،دھوبی،حضرت عیسیؑ کے صحابی،وہ جس کا بدن سفید ہو۔حواری عربی زبان کے مادہ ،،ح و ر،، سے ہے۔جس کے معنی لوٹنا،واپس آنا،ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونا،ابنِ فارس اس کے بنیادی معنی لکھتے ہیں۔ایک قسم کا رنگ،پلٹنا،گھومنا،سفیدی ۔لفظ محاورہ بھی اسی سے بنا ہے۔ایک دوسرے کو لوٹا کر جواب دینا،تبادلہ گفتگو جس میں بات لوٹاکر کی جاتی ہے۔لفظ محور بھی اسی مادہ سے ہے وہ دُھرا جس کے گرد کوئی چیز گھومے ،ارض کے قطبین کے درمیان سیدھے خط کو بھی اسی لیے محور کہتے ہیں۔الحور کے معنی حیرت اور سفیدی کے بھی ہیں۔ سفیدے کے درخت کو بھی اس کے سفیدہونے کی وجہ سے حور کہتے ہیں۔ لفظ حور بھی اسی مادہ سے ہے ۔لفظ حور جمع ہے اور اس کا واحد احور ہے۔الحور کے معنی ہوتے ہیں آنکھ کی سفیدی کا بہت سفید ہونا اور جلد کا رنگ سفید اور صاف ہونا۔ لفظ حور مذکر اور مونث دونوں کے لیے بولا جاتا ہے جس طرح زوج ساتھی کے معنی میں مذکر اور مونث دونوں کے لیے ہے۔ اسی لیے بعض کا خیال ہے جو جنت میں زوجنھم بحور عین کا ذکر ہے۔اس سے مراد صرف میاں بیوی ہی نہیں بلکہ پاکیزہ عقل اور ہم خیال ساتھی بھی ہو سکتے ہیں۔ شہر کی عورتوں کو بھی ان کے سفید رنگ اور صاف سُتھرا ہونے کی وجہ سے الحواریات کہتے ہیں۔حواری میدے کو بھی کہتے ہیں جو سفید اور آٹے کا لبِ لباب ہوتا ہے۔ حضرت عیسیؑ کے ساتھیوں کوالحواریون کیتے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ وہ چونکہ دھوبی تھے اس لیے انھیں ایسا کہا گیا۔ دوسروں کا خیال ہے کہ ان کی پاکیزگی اور صفائی کی وجہ سے ایسا کہا گیا۔ اکثریت کا خیال یہ ہے کہ وہ لوگ قوم کے برگزیدہ اور منتحب افراد تھے اور ان کی نیت کی صفائی اور عمل کے خلوص کی بنا پر انھیں حواری کہا گیا۔ اسی سے ہمارے ہاں یہ لفظ ساتھی ،مددگار اور خاص کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

  • بہت عمدہ تحقیق ہے۔۔۔۔۔
  • شاہین صاحب، لفظ حواری کے معنی آپ نے اس قدر دھو کر پاک کر دیے کہ بےساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔

  • ایک دلچسپ مشاہدہ بلاد عرب کی سیر میں ہوا کہ لفظ "حور " جمع ہے اور واحد اس کا "حورا" (ح بالفتحہ ، و بالجزم، ر بالفتحہ) یہ ہم جو "حوریں " لکھتے ہیں، یہ خاص اردو کا اپنا تصرف ہے.

  • قاضی صاحب، میرے خیال سے یہ بدعت فارسی والوں نے شروع کی تھی۔ ہم نے صرف مکھی پہ مکھی ماری ہے۔

    ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
    قدرتِ حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں

  • October 2016 کو ترمیم کیا

    شکریہ ظفر صاحب ،ویسے آتش نے حور کی یہ جمع حورا اپنے شعر میں لکھی ہے۔ غم نہیں کوئے بتاں میں جو نہیں جا خالی: باغِ فردوس میں ہے پہلوئے حورا خالی

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔