The way you access our dictionary content is changing.

As part of the evolution of the Oxford Global Languages (OGL) programme, we are now focussing on making our data available for digital applications, which enables a greater reach in delivering and embedding our language data in the daily lives of people and providing more immediate access and better representation for them and their language.

Because of this, we have made the decision to close our dictionary websites.
Our Oxford Urdu living dictionary site closed on 31st March 2020, and this forum closed with it.

We would like to warmly thank everyone for your participation and support throughout these years – we hope that this forum, and the dictionary site, have been useful
You were instrumental in making the Oxford Global Languages initiative a success!

Find out more about what the future holds for OGL:
https://languages.oup.com/oxford-global-languages/

صرف و نحو مرکز

2»

تبصرے

  • مختصر جواب یہ ہے کہ جائے واحد ہے اور جائیں جمع۔ یعنی ایک شحص جائے گا، دو جائیں گے۔ یہی معاملہ دیکھے اور دیکھیں کا بھی ہے۔ ایک دیکھے گا، دو دیکھیں گے۔

  • ہے اور ہیں ہم کس وقت استعمال کرتے ہے؟ اور ی اور ے میں کیا فرق ہے مسلا اوپر پہلے جملے میں میں نے 'کرتے' لکھا میں کرتی لکھ سکتا ہو ؟
  • خان صاحب، ہے واحد ہے اور ہیں جمع۔ یعنی ایک کے لیے ہے اور دو کے لیے ہیں۔

    آپ نے جو مثال دی ہے اس میں ے مذکر کے لیے اور ی مونث کے لیے آتا ہے۔ یعنی

    لڑکا کرتا ہے
    لڑکی کرتی ہے

  • August 2018 کو ترمیم کیا
    بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے


    یہ غالب کا مصرع ہے مجھے جاننا ہے کہ اس کے جو ردیف میں لفظ نکلے ہے وہ نکلیں کیوں نہیں ہے دراصل میں نے یہاں پر صرف مثال کے لئے یہ مصرع لکھا ہے مجھے اسکی مکمّل تفصیل چاہیے جیسے کہ گئے کا اور گئیں کے استعمال میں فرق وغیرہ
  • سر (وقار )کی زد کیا ہے؟

  • شاہ صاحب، اگر آپ وقار کی ضد کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو وہ بےقار، بےعزت، بےتوقیر، وغیرہ ہو سکتے ہیں۔

  • March 2019 کو ترمیم کیا

    کیا عسکری لغت پر کوئی تحقیقی کام ہوچکا ہے؟

  • نا اور نہ کے استعمال پہ کوئی سند درکار ہے۔

  • الطاف صاحب، آج کل الیکٹرانک میڈیا پر نہ اور نا کو بری طرح خلط ملط کیا جا رہا ہے حالانکہ دونوں بالکل مختلف الفاظ ہیں۔

    نا

    نا تاکیدی کلمہ ہے، اسے زور دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسے ’میرے گھر آؤ نا۔‘ مطلب کہ آتے کیوں نہیں۔ چند اور مثالیں: ’دیکھو آخر کو پٹے نا؟‘ ’میں نے کہا تھا نا،‘ ’وہی ہوا نا جس کا ڈر تھا۔‘
    (نا بطورِ سابقہ الگ لفظ ہے۔ یہ اردو میں کبھی اکیلا نہیں آتا بلکہ ہمیشہ مرکب الفاظ میں استعمال ہوتا ہے جیسے نامنظور، نامناسب، نادان، ناآشنا وغیرہ)۔

    نہ

    یہ حرفِ نفی ہے، اور نہیں یا مت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

    ناں

    یہ بھی حرفِ نفی نہ کی ایک قسم ہے، تاہم اسے تحریر میں غیر فصیح سمجھا جاتا ہے۔

    نا اور نہ کی شناخت کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اگر نا کو ہٹا دیا جائے تو مطلب تبدیل نہیں ہوتا، لیکن نہ ہٹانے سے فقرے کا مطلب الٹ ہو جاتا ہے۔
    مثالیں:’میں نے کہا تھا نا، اور ’وہی ہوا نا جس کا ڈر تھا‘ میں سے نا نکالنے سے فقرے کے مجموعی معنی میں فرق نہیں پڑتا۔
    لیکن اگر مندرجہ ذیل میں سے نہ نکال دیں

    مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

    تو مطلب الٹ جائے گا۔

  • Zafar sir..
    زرا رہنمائی فرما دیں. جیسا کہ آپ نے نہ اور نا کے متعلق بتایا میں یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ جیسے نا یوں استعمال ہوتا ہے مثلا، وہ یہاں موجود نا ہے یا مجھے اِس کا علم نا ہے، یا یہ بات تو ٹھیک نا ہے یا میرا اُس سے تعارف نا ہے وغیرہ تو یہاں نا کا استعمال ٹھیک ہے. یعنی مزاح لکھتے وقت یوں نا لکھا جانا ٹھیک ہے؟..

  • جناب، نا تاکیدی لفظ ہے، اس سے معنی تبدیل نہیں ہوتے بلکہ ان میں زور پیدا ہو جاتا ہے۔ نفی کے معنی میں نہ آتا ہے، جس سے معنی الٹ ہو جاتے ہیں۔ آپ نے جو مثال پیش کی ہے، اس میں میرا اس سے تعارف نا ہے۔ اس میں نا نفی کے معنی میں آیا ہے، اس لیے اسے ہ سے لکھنا پڑے گا، یعنی نہ لکھا جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ قواعد کی رو سے یہاں نہ کی بجائے نہیں لکھا جائے تو زیادہ بہتر ہے، یعنی میرا اس سے تعارف نہیں ہے۔

    امید ہے اب وصاحت ہو گئی ہو گی۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔