صرف و نحو مرکز

اردو صرف و نحو کے بارے میں اپنے سوالات بھیجیے۔

«1

تبصرے

  • لئے اور لیے میں کیا فرق ہے؟ پلیز رہنمائی کیجئے۔

  • املا کے ماہرین کے مطابق لیے لکھنا زیادہ بہتر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے الفاظ جن میں ہمزہ یا ی سے پہلے والے حرف پر زبر آتی ہو تو اس کے بعد ہمزہ آئے گی، اگر زیر ہو تو پھر ی آئے گی۔ مثال کے طور پر نئے، گئے، جیسے الفاظ میں پہلے لفظ پر زبر ہے اس لیے ہمزہ، جب کہ لیے، دیے، پیے، جیے، جیسے الفاظ میں زیر ہے اس لیے وہاں ی آئے گی۔

  • رہنمائی کے لئے آپ کا بہت شکریہ۔ کافی دنوں سے اس مسئلے کا کوئی کافی و شافی حل تلاش کر رہا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو حوالے کی کسی کتاب یا کتابوں کے نام بھی بتا دیجیے۔

  • بعض لوگ** لئیے** بھی لکھتے ہیں۔

  • ارشد صاحب، املا کمیٹی کی سفارشات میں اس مسئلے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خاص طور پر نکتہ نمبر 30 دیکھیے

  • یہ جملہ گوگل کیجیے

    املا نامہ (طبع ثانی) ۔ مرتبہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ

    اور پہلے لنک پر کلک کیجیے۔ آپ کا مطلوبہ صفحہ سرِ فہرست ہو گا

  • ظفر صاحب، بہت شکریہ۔ نہایت کارآمد حوالہ ہے۔ میں ضرور استفادہ کروں گا۔

  • September 2016 کو ترمیم کیا

    میں ماہرِ لغت تو نہیں البتہ آپ جیسے عُلماء کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے اور اردو زبان سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اردو کے لیے آپ کا کام قابلِ صد ستائش ہی نہیں بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔لیے اور لئے میں فرق کے بارے میں میگزین اخبارِاردو مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد میں کسی پروفیسر کا لکھا ہوامضمون پڑھا تھا۔اُن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ دو الگ الگ مستقل لفظ ہیں۔ لیے: لینا مصدر سے فعل ماضی کا صیغہء جمع ہےجس کا صیغہء واحد "لیا"ہے۔مثلاََ احمد نے دس روپے لیے۔ اس مثال میں "لیے" بہ معنی حاصل کیے ہے۔ لئے: یہ اردومیں حرفِ جرہے جس کا معنی ہے:واسطے،برائے، مثلاََ یہ کتاب احمد کے لئے ہے۔فعل ماضی اور حروفِ جر دونوں کے لئے "لیے" ہی استعمال کیا جائے تو ان میں معنوی فرق کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ اس نقطہ نظر سے اتفاق نہ کریں اور اس کی شاید یہی وجہ ہے کہ :ع گیسوئے اردو ابھی مِنت پذیرِ شانہ ہے بہرحال مجھے اُن کا نقطہ نظر اچھا لگا میں نے آپ کے سامنے پیش کر دیا۔

  • نا اور نہ کا درست استعمال کیا ہے؟۔ کہاں نا استعمال کرنا ہے اور کہاں نہ؟

  • نا اور نہ دونوں حرفِ نفی ہیں لیکن ان میں معانی اور استعمال کے لحاظ سے فرق ہے۔ نہ صرف نفی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔جیسے نہ کر۔ اورنا تاکید نفی کے لئے جیسے نا بابا ۔ تاکیدِ اثبات کے لئے جیسے جانے دیجیے، بچہ ہے نا۔ حسنِ کلام کے لئے جیسے چلو نا ، آو نا۔مصدریت کے لئے جیسے سونا جاگنا بھاگنا۔ نا کا نافیہ کے ظور پرانفرادی استعمال ٹھیک نہیں جیسے نا کرو جبکہ نہ کرو ٹھیک ہے اور نا اس نے کیا نا میں نے غلط ہے اور نہ اس نے کیا نہ میں نے ٹھیک ہے۔ نادان، ناکارہ، ناسمجھ، یہاں ،نہ ، نہیں لکھ سکتے۔

  • جیسا کہ شاہین صاحب نے فرمایا، نا حرفِ تاکید ہے، اور نہ حرفِ نفی۔ پہلا صرف بات پر زور دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور دوسرا نفی کے لیے۔ ان کی پہچان کا آسان طریقہ یہ ہے کہ فقرے میں سے نہ یا نا ہٹا کر دیکھیے، اگر معنی الٹ گئے تو نہ، وہی رہے تو نا۔

  • بہت شکریہ

  • میری آرزو تھی آپ یہاں آجائے۔

  • مجھے فورم کا ٹھیک طرح استعمال نہیں آتا کو مجھے بتا دیں

  • سبحان صاحب، آپ یہاں اردو ادب، زبان اور گرامر کے بارے میں کوئی سوال پوچھ سکتے ہیں۔ دوست اس کا جواب دیں گے۔ اللہ اللہ خیر صلا

  • الف ساکن، مکتوبی اور ملفوظی بہ رعایت عربی اولیٰ اعلیٰ وغیرہ اردو میں کیسے لکھا جائے گا۔۔

  • شاہد صاحب کتاب املا نامہ (گوپی چند نارنگ) سفارشات املا کمیٹی، ترقی اردو بورڈ، میں ڈاکٹر عبدالستار صدیقی لکھتے ہین، عربی کے کچھ لفظوں کے آخر میں جہاں الف کی آواز ہے، وہاں بجائے الف کے ی لکھی جاتی ہے اور اس پر چھوٹا الف نشان کے طور پر بنا دیا جاتا ہے،جیسے ادنیٰ عیسیٰ،موسیٰ فتویٰ اولیٰ،اعلیٰ۔ اس قبیل کےکئی الفاظ اردو میں پہلے ہی پورے الف سے لکھے جاتے ہیں۔ مثلا تماشامدعا ،مولا۔ انھوں نے تجویز کیا تھا کہ اردو میں ایسے تمام الفاظ کو پورے الف سے لکھا جائے، لیکن یہ چلن میں نہیں آ سکا۔ چنانچہ سر دست اصول یہ ہونا چائیے کہ اس قبیل کے جو الفاظ اردو میں پورے الف سے لکھے جاتے ہین اور ان کا یہ املا رائج ہو چکا ہے، ایسے الفاظ کوپورے الف سے لکھا جائے۔ باقی تمام الفاط کے قدیم املا مین کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں یہ بدستور چھوٹے الف سے لکھے جا سکتے ہیں۔
    اور آگے اُن الفاظ کی فہرست دی گئی ہے جن کے آخر میں ی پر چھوٹا الف( مقصورہ) لکھا جائے۔

  • میری دانست میں ایسے تمام الفاظ کو پورے الف کے ساتھ لکھا جانا چاہیئے ہاں جہاں اردو کے کسی مضمون میں عربی عبارت لکھی جائے گی وہان عربی قاعدے کے تحت ی پر کھڑا زبر لگایا جائے گا۔ اردو عربی سے علیحدہ زبان ہے (علیحدہ
    صرف اردو میں استعمال ہوتا ہے یہ خالص اردو زبان کا لفظ ہے جو عربی کے دو الفاظ علیٰ اور الحدہ کو ملا کر بنایا گیا ہے) اس لئے اردو پر عربی کے قواعد لاگو نہیں ہوں گے۔۔

  • مجھے کبھی ان املا کمیٹیوں اور املا ماہرین کی سمجھ نہیں آئی۔ ایک طرف تو وہ کہتے ہیں موسیٰ کو موسا اور اعلیٰ کو اعلا لکھنا چاہیے۔ دوسری جانب وہ یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ تھانہ، پسینہ، گھنٹہ وغیرہ کو تھانا، پسینا، اور گھنٹا لکھنا چاہیے۔ کس واسطے کہ ہندی میں انھیں الف سے لکھا جاتا ہے اور ہمیں ’اصل‘ تلفظ کی پیروی کرنی چاہیے۔ تو کیا یہ اصول صرف ہندی کے لیے ہے، عربی کی اصل کہاں گئی اور کسی بھی زبان میں جو سب سے اہم ’اصول‘ ہوتا ہے یعنی رواجِ عام، اس کا کیا بنا؟

  • جناب ظفر صاحب یہ املا کمیٹیاں ماضی کا قصہ ہیں اب آپ جیسے صاحبان علم قدم آگے بڑھائیں، اردو املا کے لئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قوائد ترتیب دیں جناب

  • شاہد صاحب، ہم نے اپنی بساط کے مطابق تو قواعد ترتیب دے رکھے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اپنے ادارے میں ان کی پیروی بھی ہو۔ بس مسئلہ آڑے آتا ہے کہ نئی نسل کے لوگوں کا مسئلہ اردو ہی نہیں تو اردو املا کے اصولوں کا کہنا

  • حضور مسئلہ نئی نسل کا نہیں زبان کا ہے۔ نسلیں آتی ہیں چلی جاتی ہیں زبان کا سفر جاری رہتا ہے

  • ظفر بھائی اردو میں صوتیات پر کام ہی نہیں ہوا کچھ نظر کرم اس طرف بھی جناب

  • سب سے پہلے تو اردو کی ترویج کے "مقتدرہ" اداروں کی جانب نظر کی جائے وہاں اردو کے ماہرین پر مشتمل اہل ٹیم بنائی جائے، چیک ایند بیلنس ہو اور سالانہ بنیادوں پر ہر سال کوئی علمی کام سامنے لایا جائے، طباعت و اشاعت کی پیچیدگیاں بھی ہوں تو ان مقتدرہ اداروں کی جانب سے سوشل میڈیائی گروپس تشکیل دیے جائیں جہاں سوال اٹھانےکی گنجائش اور ماہرین کی جانب سے سوال کا جواب ملنے کی سہولت ہو، زبان کے ماہرین کو کسی قدر اعزازیہ دے کر ان کی مشاورتی خدمات بھی لی جاسکتی ہیں، ہمارے ہاں تو یہ حال ہے کہ مدعی، گواہ، عدالت، منصف، پورا نظام ہی سستی اور مجرمانہ غفلت کا شکار ہے۔ اور اردو کو غریب مسکین و بےگھر اور راندہ دل و درسگاہ جان کر ستم ہائے روزگار کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ افسوس!

  • حمیرا صاحبہ، آپ نے دکھتی رگ چھیڑ دی ہے۔ اداروں کا عالم ہی نہ پوچھیں، ان کا تو بس اللہ ہی حافظ ہے۔

    جتنا کام ہو رہا ہے وہ نجی اور انفرادی سطح پر کیا جا رہا ہے۔ شاہد صاحب تائید کریں گے کہ اردو محفل نے چند برسوں میں اردو کے لیے جتنا کام کیا ہے وہ شاید سارے ادارے مل کر نہیں کر سکے۔

  • ہمارے ہاں ایک اور بدقسمتی کا مجھے اکثر احساس ہوتا ہے اور وہ ہے:
    lack of right man at right place.
    جو شخص جس کام کو بہتر اور بخوبی انجام دے سکتا ہے یا اوج کمال پر پہنچا سکتا ہے وہ اس کام پر متعین ہی نہیں ہےاس کی وجہ سے بھی سارے مسائل ہورہے ہیں۔

  • بالکل درست فرمایا، اسی لیے ہمیں چاہیے کہ سرکاری اداروں پر کام چھوڑنے کی بجائے خود ہی ہمت کر کے بیڑا اٹھائیں اور کر گزریں

  • السلام علیکم ! اہلِ علم سے گزارش ہے کہ لفظ "دوشیزہ" کا اشتقاق کیا ہے؟
  • آپ یہ سوال صرف و نحو مرکز میں پوچھ لیا ہے، حالانکہ اسے ’یہ لفظ کہاں سے آیا‘ والے زمرے میں ہونا چاہیے تھا۔ میں یہ سوال اور اس کا جواب وہاں دے رہا ہوں۔

  • میں "جائے "اور "جائیں" میں بنیادی فرق نہیں جانتاہوں۔
    اسی طرح دیکھے اور دیکھیں میں کیا فرق ہے۔
سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔