دقیانوس

<افکار کم یاب>
دقیانوس(قدیم،پرانا)=اصحاب-کہف کےدور میں روم کابادشاہ"داقیوس"تھا۔لاطینی زبان میں اس نام سےاسم صفت"داقیانوس"بن گیا۔یہ اسم صفت عربی میں بطور اسم داخل ہو گیا یعنی"معرب"ہو گیا،اس سے دوبارہ اسم صفت"دقیانوسی"بنایا گیا۔

<احمد سجاد بابر
وائس چیئر مین
افکار پاک>

تبصرے

  • September 2016 کو ترمیم کیا

    شکریہ احمد صاحب

    اس بادشاہ کا نام اصل نام ڈی سی اس تھا، اور اس نے 249 سے 251 ء تک روم پر حکومت کی۔ اس پورا نام کچھ یوں ہے

    Gaius Messius Quintus Trajanus Decius

    یہ نام رومنوں میں خاصا عام تھا، چنانچہ جولیئس سیزر کے قاتل بروٹس کا پورا نام بھی ڈی سی اس بروٹس تھا۔

    عربوں نے اسی کو معرب کر کے دقیانوس بنا دیا اور اس کے دور سے قدیم زمانہ مراد لینے لگے۔ اس کی وجہ بظاہر تو یہی سمجھ میں آتی ہے کہ جب اصحابِ کہف اپنی طویل نیند سے جاگے تو وہ سمجھے کہ شاید ابھی تک
    دقیانوس کا دور چل رہا ہے، حالانکہ اس وقت تک اسے گزرے صدیاں بیت چکی تھیں اور اس کا عہد ’دقیانوسی‘ ہو چکا تھا۔

  • واہ ظفر بھائ۔۔۔۔شکریہ
  • کیا "ڈی سی اس" کا ماہ "ڈیکا" یعنی دس ہے؟

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔