پیر اور جمعرات کی وجہ تسمیہ

ہفتے کے ساتھ دنوں میں سوموار،منگل،بدھ،جمعہ،ہفتہ اوراتوار کی وجہ تسمیہ تو سمجھ میں آتی ہے لیکن لفظ پیر اور جمعرات کیسے بنے ان کی وجہ تسمیہ کیاہے؟ پلیز رہنمائی کریں۔

تبصرے

  • پیر اصل میں سنسکرت کے لفظ ویر سے بنا ہے ،یہ پورا نام " ویر وار " ہے جسکا معنی ہے بہادر جنگجو کا دن جیسے کہ سوم وار سوم (ایک نشہ آور بوٹی)کا دن

  • بہت شکریہ جناب، اپنا پورا نام بھی بتا دیں تاکہ تخاطب میں آسانی رہے۔

  • تارا بھائ آپ اپنی بات کا ریفرنس بھی دیں پلیز۔۔۔۔۔کیونکہ زیادہ مقبول رائے یہ ہے کہ نبی پاک کی ولادت کے باعث اس دن کو پیر کہتے ہیں۔۔۔۔بزرگ ہستی کی طرف اشارہ ہے
  • سنسکرت میں تو پیر کے لئے سوم وار ہے۔۔۔۔ویر وار تو سنسکرت میں رائج نہیں۔۔۔۔قدیم ایران میں پیر کو دو شنبہ کہتے تھے
  • سوموار سوم سنسکرت میں ایک پودے کا نام بھی ہے جس کا رس بہت مقدس خیال کیا جاتا ہے لیکن سنسکرت میں سوم کے معنی چاند بھی ہیں اور سوموار بمعنی چاند کا دن ہے انگلش میں بھی مون ڈے ہے یعنی چاند کا دن جس طرح اتوار سنسکرت میں آدیتہ وار تھا آدیتہ معنی سورج اور انگلش میں سن ڈے یعنی سورج کا دن اسی طرح منگل بدھ برہسپت شکر وار سنیچر وار سیاروں اور دیوتوں کے نام پر ہیں

  • جمعرات یعنی جمعہ کی رات۔

  • جمعرات کو عربی میں یوم الخمیس، فارسی میں پنج شنبہ،ہندی اور سنسکرت میں گرو وار،سندھی اور سرائیکی میں خمیس،کھڑی بولی میں ویر وار کہتے ہیں،عربی کی بنیاد پر بھاشا انڈونیشیا اور سواحلی میں اسے"پانچواں دن"کہتے ہیں۔پرتگالی میں"پانچواں ہاٹ"کہتے ہیں۔۔۔۔۔اس دن کا تعلق ستارہ مشتری سے ہے،جسے سنسکرت میں برہسپت یا بر ہسپتی اور گرو کہتے ہیں۔اسی وجہ سے اس دن کو برہسپت وار اور گرو وار بھی کہتے ہیں۔غالب نے اپنے خطوط میں دو جگہ یوم الخمیس استعمال کیا ہے۔بعض جگہوں پر لکشمی وار بھی استعمال ہوا ہے۔عربی لفظ جمعہ اور کھڑی بولی کے لفظ رات کو ملا کر اردو میں جمعرات وجود میں آیا۔اس نام کے رائج ہونے کی ایک وجہ مسلمان علما، مشائخ، ولی اور نیک بزرگ ٹھہرے،امکان یہی ہے کہ جمعہ کی رات کو مبارک قرار دیا گیا اور لوگ دن میں کہتے ہوں گے کہ آج جمعہ رات ہے،اسی وجہ سے اس دن کو جمعرات کا نام دیا گیا۔،

  • برہسپت وار ےیعنی مشتری (جیوپیٹیر) کا دن اور انگلش میں جمعرات کو تھرس ڈے کہتے ہیں اور یہ تھار دیوتا کے نام پر ہے اور یہ بادل کی گرج چمک اور جنگ کا دیوتا تھا رومن مین اسے جیوپیٹر اور یونانی مین زیوس کہتے ہین۔ اور اینگلو سیکسن کے ہاں تھار مشتری دیوتا کا ہی نام تھا۔ اور تھار ووڈن دیوتا ( عطارد ) کا کا بیٹا تھااور اس کے نام پر ویڈنس ڈے یعنی بدھ وار کا دن ہے۔ اور سنسکرت مین بدھ بمعنی عطارد ہی ہے۔اور وڈن دیوتا کی بیوی کا نام فرایگا تھا اور اس کے نام پر فرائی ڈے ( جمعہ) ہے۔ یہ محبت اور خوبصورتی کی دیوی تھی اسے رومن میں وینس ، عربی میں زہرہ اور ہندی میں شکر کہا جاتا ہے۔اور زہرہ نام اس لئے دیا گیا کیونکہ یہ نہایت روشن سیارہ ہے اور زہرہ روشن اور سفید کو کہتے ہیں ۔ اور فارسی مین جمعہ کو آدینہ اس لئے کہتے ہیں۔ کیونکہ جمعہ آرائش کا دن ہے اور فارسی مین آذ بمعنی زیب وزینت، اس لئے اس کا نام آذینہ یعنی زیب و زینت اور آرائش کا دن ہو گیا۔اور عربی لفظ جمعہ کا مادہ ج م ع ہے جس کے معنی متفرق چیزوں کو اکٹھا کرنا، چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لا کر ملا دینا۔ عظیم الشان کام کے لیے لوگوں کو جمع کرنا، چونکہ عربوں کے ہاں جمعہ خیرو برکت کا باعث سمجھا جاتا ہے اس دن لوگ کاروبار چھوڑ کر نماز جمعہ کے لئے جمع ہوتے ہین اس اس دن کو یوم ا لجمعہ کہا جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے بھی قریش ہفتہ میں ایک دن دار قصی کے پاس دارالندوہ یعنی اپنے دارالمشاورت میں جمع ہوا کرتے تھے۔ اس دن کو وہ یوم العروبہ کہتے تھے۔ کعب بن لوی نے اس دن کا نام یوم العروبہ بدل کر یوم الجمعہ رکھ دیا، اسی سبب سے اس کا لقب مجمع مشہور ہوا۔ ( جاری ہے )۔

  • بہت خوب شاہین صاحب

  • زبردست معلومات دی ہیں آپ نے شاہین صاحب۔ بہت بہت شکریہ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہفتے کے دنوں میں کتنی ثقافت، تاریخ، مذہب، توہمات، عقائد، تصورات، نظریات اور دیومالا بھری پڑی ہے۔

    پھر انگریزی ناموں اور دیسی ناموں کا بھی حیران کن متزاج ملتا ہے، جیسے آپ نے بھی لکھا ہے کہ سوم وار اور مون ڈے۔

    میرے خیال سے اس موضوع پر بڑی آسانی سے کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ تو پھر کیا خیال ہے شاہین صاحب؟

  • شکریہ، ظفر صاحب؛کتابین اور لغت لکھنا آپ جیسے صاحبِ علم لوگوں کا کام ہے ہمارے بس کا نہیں ہے۔
    ہفتے کے دنوں کی بات ہو رہی تھی توآج لفظ ہفتہ کی بات کر لیتے پہیں۔
    ہفتہ؛ فاسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ساتواں۔عربی میں اسے یوم السبت کہتے ہیں اور سبت کے معنی ہیں آرام وسکون ،بے حس ،سست ،نیند، راحت اورسکون کا مطلب ہے کہ انسان حرکت وعمل کو چھوڑ کر آرام کرے،اس لیے اس کے معنی ترک عمل اور قطع کرنے کے ہو گئے۔
    یوم السبت یہودیوں کا مقدس دن ہے اس دن ان کا کاروبار بند رہتا ہے۔یہودیوں کے عقائد کی مطابق خدا نے چھ روز میں کائنات کی تخلیق کی اور ساتویں دن آرام (سبت)کیا۔ اس لیے یہودی ساتوین دن آرام کرتے ہین۔یہ وہی دن ہے جس دن اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو شکار کھیلنے سے منع کیا تھا،اللہ تعالی نے چھ روز کاروبار کے لیے اور ساتواں دن صرف عبادت کے لیے مخصوص کر دیا تھا۔ لیکن بنی اسرائیل نے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور جس کے نتیجے مین ذلیل ہوئے۔عیسائوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی نے چھ روز میں کل جہاں بنایا اور ساتویں دن آرام کیا۔ چنانچہ عیسائیون کے نزدیک اتوار کا دن آرام کا دن ہے اور وہ اس دن آرام کرتے ہین۔ یہ دن ان کے لیے مقدس دن ہے اس لیے وہ اسے انگلش میں ہولی ڈے کہتے ہیں، ہولی بمعنی پاک، مقدس اور ڈے بمعنی دن اور وہ اسے حضرت عیسی علیہ السلام کے قبر سے جی اتھنے کی یاد میں بھی مقدس سمجھتے ہیں۔
    ہندی میں ہفتہ کو سنیچر وار کہتے ہیں۔ لفظ سنیچر دراصل سنسکرت میں شینش چر ہے، شینش معنی سست اور چر معنی رفتار۔ چونکہ سنیچر زحل سیارے کا نام ہے جو کہ نہایت سست رفتار اور منحوس سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اسے سنسکتر میں شینشچر بمعنی سست رفتار کہا گیا جو بعد میں سنیچر ہوا۔ سنیچر وار بمعنی زحل کا دن۔
    انگریزی میں ہفتہ کو سےٹر ڈے کہتے ہیں اور اس کا نام رومی دیوتے سیترن کے نام پر ہےاور زحل سیترن کو ہی کہتے ہیں۔ یہ زراعت کا دیوتا تھا بے
    لفظ پیر اور جنعرات پر مزید غور کی ضرورت ہے۔
    ہفتے کے سات ہی دن کیوں ہیں ؟

  • کائنات کی چھ دن میں تخلیق محض عیسائی یا یہودی روایت نہیں، اللہ تعالی نے قرآن پاک میں کئی جگہ زمین و آسمان کی چھ دن میں تخلیق کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ سورۃ ق میں فرمایا۔۔وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ۔
    سورہ الفرقان میں فرمایا۔۔ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ الرَّحْمَٰنُ فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًا۔
    سورہ یونس میں ارشاد فرمایا۔إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۖ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ۔
    سورہ الہود، سورہ السجدہ ، سورہ الاعراف، سورہ الحدید میں بھی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کے چھ روز میں تخلیق کرنے کا ذکر کیا ہے۔ بے شک زمین و آسمان کی تخلیق میں اللہ کی بے شمار نشانیاں ہیں جو سوچنے والوں کو دعوت تفکر دیتی ہیں۔۔

  • شاہد صاحب اپ نےدرست فرمایا کہ کائنات کی چھ دن میں تحلیق محض عیسائی اور یہودی روایت نہین بلکہ قرانِ مجید میں بھی اس کا تفصیلا ذکر ہےجس پر سب مسلمان ایمان رکھتے ہیں، لیکن یہاں بات ہفتہ اور اتوار کی ھو رہی ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالی نے چھ دن کائنات بنانے کے بعد ساتویں دن آرام کیا اور اس نسبت سے ان ایام کو وہ مقدس سمجھتے ہوئے اس دن آرام کرتے ہیں یعنی چھٹی کرتے ہیں،اور ہولی ڈے کا مطلب بھی مقدس دن ہے۔ جبکہ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق ایسے نہیں ہے۔
    ستہ ایام میں کائنات کی تخلیق تو اس پر تو سب ایمان رکھتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ یہ چھ دن سے مراد ہمارے والے چھ دن نہیں ہیں اور ارض اور سما کے معنی میں بھی وسعت ہے۔بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے۔
    شاہد صاحب آپ لفظ پیر اور جمعرات اور ہفتے کے سات دن ہی کیوں ؟ پر ضرور سرچ کیجیئے گا۔ شکریہ

  • جہاں تک پیر کا سوال ہے تو یہ سوم وار کے متبادل کے طور پر مستعمل ہے۔ سوم ایک نشہ آور بوٹی ہے جسے ویدوں میں مقدس قرار دیا گیا ہے۔ حکیم اور وید اس سوم بوٹی کا استعمال درد کش دوا کے طور پر کرتے آئے ہیں۔ شدھ ہندی بھاشا میں پیر کے ایک معنی درد کے بھی ہیں جبکہ دود کے درماں کے طور پر بھی پیر کے لفظ کا استعمال ملتا ہے۔ پیر دراصل پیڑھ کی ہی ایک تبدیل شدہ شکل ہے۔ اسی لئے سوم وار کی جگہ پیر وار اور پھر وار کے نکال دیئے جانے سے صرف پیر رہ گیا۔ جو آج تک اردو ہندی میں استعمال ہو رہا ہے۔۔

  • شاہین صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہفتے میں سات دنوں کا تصور بہت پرانا ہے۔بابلیوں میں چھے کے عدد کی بہت زیادہ اہمیت تھی،اس وجہ سے انہوں نے چھے دن کام اور ساتویں دن آرام کرنے کا تصور دیا۔پھر یہودیوں میں نظریہ تھا کہ کائنات کی تشکیل چھے دن میں کی گئی اور ساتویں دن خدا نے آرام کیا۔اس طرح سات دن کا ہفتہ بنایا گیا۔اسلام نے کائنات کی چھے دن کی تشکیل کو تو مانا مگر چھٹی اور عبادت کے لئے ساتواں دن جمعہ کا مقرر کیا ۔

  • شاہد صاحب، سوم ایک پودے یا بوٹی کا نام بھی ہےجس کا رس بہت مقدس خیال کیا جاتا تھااور یہ رس قدیم ہندو دیوتاون پر چڑھاتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ دیوتا اسے بہت پسند کرتے ہیں۔لیکن اسی زبان میں سوم چاند کو بھی کہتے ہیں۔ اور اس بات پہ اکثر ماہرِ لغت متفق ہیں کہ سوم وار چاند کا دن ہے
    سات دنوں کے نام اجرام فلکی اور دیوتاوں کے نام پر ہین۔
    جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔ اتوار سورج کا دن ، سوم وار چاند کا دن،منگل وار مریخ کا دن،بدھ وار عطارد کا دن،برہسپت وار(جمعرات) مشتری کا دن،شکر وار (جمعہ) وینس/زہرہ کا دن،سنیچر وار (ہفتہ) زحل کا دن
    اسی طرح انگلش میں بھی یہ نام اجرام فلکی اور دیوتاوں کے نام پر ہیں۔
    آپ نے درست فرمایا کہ پیر کے معنی درد بھی ہین، اوراس کی اصل سنسکرت میں ہے۔پیڑا یا پیڈا جو بعدمیں پیر بنا اور پنجابی میں لفظ پیڑ ( درد) کی کی اصل بھی یہی ہے۔لیکن اس کا تعلق سوم وار سے یعنی چاند کا دن سے کیسے؟
    سجاد صاحب کی رائے ہے کہ نبی پاک کی ولادت کے باعث اس دن کو پیر کہتے ہیں یعنی بزرگ ہستی کی طرف اشارہ ہے۔

  • شاہین صاحب،یہ اتوار کو سورج کا دن کیوں کہتے ہیں کیا اِت کا مطلب سورج ہے۔ ہے تو کس زبان میں؟

  • سنسکرت میں آدتیہ یا آدت ہے جس کے معنی سورج ہین اور آدتیہ وار سے آتیوار، اتیوار اور پھر اتوار ہوا۔اور انگلش میں سنڈے ہے، سن ڈے یعنی سورج کا دن
    ہندی میں اتوارکو روی وار بھی کہتے ہیں اور روی کے معنی بھی سورج کے ہیں۔

  • What about "peer" and "juma-raat"?
  • عربی اور فارسی میں دنوں کے مخصوص نام نہیں شمار کے حساب سے پہلا دن دوسرا دن تیسرا دن وغیرہ کہا گیا ہے۔ فارسی اور اس کے اثرات ایشیا ئی زبانوں پر بہت گہرے ہیں اسی طرح مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی زبانوں پر عربی کے گہرے اثرات ہیں۔ ایشیا وعالم کے سب سے بڑے ملک اور دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان۔یعنی چینی میں بھی دنوں کے ناموں کو عدد کے طور پر بولا جاتا ہے جیسے پہلا دن دوسرا دن وغیرہ ۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یونانیوں نے دنوں کے نام سیارگان کے نام پر رکھے اور ہندوستان میں سنسکرت عالموں نے بھی دنوں کو سیارگان کے ناموں سے یاد کیا ہے

  • شاہد بھائی یہ بہت دلچسپ نکتہ ہے کہ یورپ اور ہندوستان کی زبانوں میں نہ صرف دن اجرامِ فلکی کے نام پر رکھے گئے بلکہ اتوار اور سوم وار میں تو اجرام بھی ایک ہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ اتفاق نہیں ہو سکتا۔

  • سنیچر اتوار اور پیر دہلی میں مسلم اثرات کے تحت بولے جاتے ہیں۔۔حیدرآباد میں شنبہ دوشنبہ سہ شنبہ وغیرہ بولا جاتا ہے۔۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔