ارائیں

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ارائیں فارسی کالفظ ہے اور ایران میں ایک قوم آریا سے منسوب ہے . اس پر احباب روشنی ﮈالیں

تبصرے

  • ارائیں: جب محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا۔تومحمد بن قاسم کے ہمرا ہی شامی اور عراقی دو گروپس میں منقسم تھے۔یہ بنو اُمیہ خاندان ہی سے نسبت رکھتے تھے ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد مُلک شام کے مقام "اریحا'' میں آباد تھی اور محمد بن قاسم کے ساتھ جو چھ ہزار شامی فوج تھی اس میں ایک معقول تعداد اریحا کے باشندوں کی بھی تھی۔ان شامی لوگوں کواپنے وطن واپس جانا نصیب نہ ہوااور ان کو مجبورََا یہیں اقامت اختیارکرنی پڑی۔اسی اریحا کی نسبت سے یہ قبیلہ اریحا ہی کہلاتا تھا۔پنجابی لہجے اور تلفظ نے اس کو ''اریحاہی''سے ارائیں بنا دیا۔اریح کے لفظی معنی خوشبو کے ہیں اوراریحا کا ترجمہ بوستان ہونا چاہیے۔یہ نام اس علاقہ کی سرسبزی زرخیزی اور گل و گلزارکی بہتات کی وجہ سے ملا۔یا پھر بعض کا خیال ہے کہ ان کا مورثِ اعلی بزرگ سلیم الراعی تھا۔جوکہ یزیدی مظالم کی وجہ سے شام کی طرف چلا آیااوردریائے فرات کے کنارے عربوں کا آبائی پیشہ گلابانی شروع کر رکھا تھا اس گلابانی کے سبب یہ بزرگ سلیم الراعی کے نام سے مشہور ہوا۔کیونکہ راعی کے معنی گلابان اورحاکم کے ہیں۔اورپھر سلیم الراعی کے بیٹے حبیب الراعی کا بیٹا حلیم الراعی محمد بن قاسم کے ہمراہ سندھ پہنچا اور اس کا خاندان آرائیں کہلایا۔

  • آپ کی مختصر تحریر کردہ معلومات سے اتفاق ہے.
    اریحا دراصل دریاۓ اردن کے مغربی کنارے پر واقع ایک قطعہ کا نام ہے جہاں کے باسی جفاکش تھے اور کھیتی باڑی کرکے اس علاقہ کو سرسبز و شاداب بناۓ رکھتے تھے. انہیں لوگوں کو اریحا کے نام سے جانا جاتا تھا. بہت شکریہ.
  • شاہین صاحب، اس قدر معلوماتی تحریر کے لیے بہت بہت شکریہ۔

  • یہ سب سنی سنائی باتیں ہیں. اریحا کا عبرانی نام "یریخا" ہے اور آج کل "جیریکو" کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسرائیل کے مقبوضات میں ہے. انگریزی میں "جیریکو کی دیواروں کا گرنا" بہت بڑے واقعے کی تلمیح کے طور پر مستعمل ہے. آرائیں قوم کا عرب ہونا (آرائیوں میں) ایک مقبول خیال ہے مگر اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں. اس قوم کا مستقر صرف مغربی پنجاب ہی ہے اور ہندوؤں میں یہ نام نہیں پایا جاتا. پرانے مالگزاری کے ریکارڈ اور انگریزوں کے گزیٹیر میں لکھا گیا ہے کہ آرائیں پنجابی مسلمان کسانوں کا وہ طبقہ ہے جو رہٹ کی مدد سے پانی نکال کر زمین کو سینچتا ہے جبکہ باقی کسان بارش یا دریا کے بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں.

  • بھارتی عالم ڈاکٹر مسعود فلاحی صاحب کی کتاب کا ایک باب ادبی مجلے "آج" میں پڑھ رہا ہوں. اس میں بر صغیر کے مسلمانوں میں ذات پات (اصل ہندی تلفظ جات پات) پر بات کی گئی ہے. اس میں چند موہومہ اجلاف طبقوں کے مقامی مروج، بظاہر معرب نام دیۓ گئے ہیں. ان میں پارچہ باف (انصاری)، دھنیا (منصوری) اور کنجڑا (راعی) دل چسپ ہیں.

  • بلھے نوں سمجھاون آئیاں، بھیناں تے بھرجائیاں
    من لے بلھیا ساڈا کہنا، چھڈ دے پلّا رائیاں
    جیہڑا سانوں سیّد سدّے، دوزخ ملن سزائیاں
    جو کوئی سانوں رائیں آکھے، بہشتیں پینگھاں پائیاں

  • مجھے کچھ زیادہ علم نہیں اس بارے
  • کوئی بات نہیں جتنا علم ہے وہی شیئر کرلیں جناب

  • August 2017 کو ترمیم کیا
    مجھے جتنا علم ہے وہ یہ کہ
    سید عبداللہ کا شعر
    جوکوئ سانوں ارائیں آکھے جنتی
    پینگاں پائیں
    مفہوم ہے کہ نفس کے بہکانے پر کہا گیاہے. یعنی اقارب طعنہ دیتے کہ سید ہوکر ارائیں قوم کے ایک شخص
    حضرت عنایت قادری(ر) کی غلامی( مریدی) کو ترجیح کیوں دیتا ہے جو سادات گھرانے کےادب کےمنافی ہے
  • شاہد صاحب ، بلھے شاہ کے اس کلام میں اُن کے مرشد شاہ عنائت کی طرف اشارہ ہے جو کہ آرائیں تھے۔بلھے شاہ کے متعلق یہ مشہور قصہ کہ آرائیں کو مرشد ماننے پر بہنوں اور بھرجائیوں نے طعنے دئیے۔ یہ قصہ ہے یا نہیں ،یہ الگ بات ہے۔ بہرحال بلھے شاہ کا یہ کلام حکمت سے بھر پور ہے۔

  • اقبال شاہین صاحب قبلہ مجھے تو بلہے شاہ، شاہ عنائت اور آرائین کی نسبت کا علم ہے میں تو کیوعلی47سے کہہ رہا تھا جو ان کے علم میں ہے عطا فرمائیں۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔