دختر

یہ لفظ اصل میں دوہتر تھا یعنی دودھ نکالنے والی۔۔۔۔۔قدیم زمانے میں بھینس گائے کو گھر کی بئٹیاں سنبھالتی تھیں جس سے لفظ دوہتر بنا جو دختر میں تبدیل ہو گیا

تبصرے

  • آپ کی بات سے اتفاق ہےچونکہ وہ لوگ گائے کومقدس سمجھتے تھے یہاں تک کہ اُن کی زبان پراس حیوان کی تعظیم کا یہ اثرہوا کہ اس لفظ گاؤسے ہزاروں اصطلاحیں پیدا ہو گیئں۔اورگائے کا دودھ دوہنے کا کام کنبہ میں کنواری لڑکیوں کے لئے مخصوص کردیا گیاتھا۔اوراسی مناسبت سے انہیں دوہتری یعنی دودھ دوہنے والی کہا کرتے تھے اوریہی لفظ بتدریج دختر بن گیا۔جو کہ فارسی زبان کے دوشیدن مصدر سے اسمِ فاعل ہے۔دوشییزہ لفظ بھی دوشیدن مصدر سے معنی دودھ دوہنے والی ہی ہے اورجب یہ لفظ دختریورپ پہنچا تو دوہتر سے ڈاٹربن گیا۔

  • واہ واہ بہت خوب
  • دختر فارسی زبان کا لفظ ہے نہ کہ اردو کا, اور بیٹی کو دختر کہتے ہیں, میں آپ سے اتفاق نہیں کرتا
  • دختر فارسی زبان سے اردو میں شامل ہوا ہے اور فارسی زبان اردو سے قدیم تر ہے جس میں یہ لفظ اردو سے بہت پہلے کی کتابوں میں موجود ہے

  • خالد احمد صاحب بھی اسی قسم کی راے رکھتے ہیں. بلکہ ان کا قیاس ہے کہ پنجابی لفظ "دوہتری" بہ معنی نواسی بھی اسی مصدر سے آیا ہے

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔