کونہ

کونہCorner
can anybody tell its origin?

تبصرے

  • ، جناب الیاس صاحب، جہاں تک مجھے معلوم ہے کونا سنسکرت کے لفظ کون یا کونڑ سے آیا ہے جس کا مطلب ہے زاویہ۔ اسی لفظ کی ایک شکل کان بھی ہے، جسے آلۂ سماعت کے علاوہ کونے کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، جیسے پتنگ یا چارپائی کی کان۔ یہاں ایک مفروضہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ ان سب الفاظ کے پیچھے آلۂ سماعت کان ہے، جو سر کے ایک ’کونے‘ پر واقع ہوتا ہے۔

  • Excellent and invaluable explanation. thanks SIR

  • آپ جانتے ہیں کہ اہل "انگلینڈ" (اس میں سکاٹ لینڈ، ویلز اور آئر لینڈ شامل نہیں ہیں) حرف "ر" کو ادا نہیں کر پاتے. اس تناظر میں "کونہ" اور "کورنر" کی صوتی مماثلت قابل غور ہے. فارسی "کنج" بھی اس سے ملتا جلتا ہے. میرے خیال میں اگر انگریزی لفظ کی اصل اور اشتقاق پر تحقیق کی جاے تو اس کی ہند آریائی بنیاد اس حوالے سے بہتر رہنمائی کرے گی.

  • چارپائی کی "کان" کو پنجابی میں "کانڑو" کہتے ہیں. شاید اس کی اصل کچھ اور ہو گی.

  • قاضی صاحب، انگریزی کا کارنر پروٹو انڈو یورپین (تمام انڈو یورپین زبانوں کی ماں) کے لفظ کیر سے آیا ہے جو سینگ کے معنی میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اسی سے یونانی کے کارنون اور لاطینی کے کارنو مشتق ہیں۔ تاہم کیر کو سر سے باہر نکلے ہوئے حصوں کے معنی میں بھی لیا جاتا تھا اور ظاہر ہے کہ کان سر سے باہر نکلے ہوتے ہیں۔

    مزید دلچسپ بات یہ کہ چونکہ لسانیات میں ک اور س کا تبادلہ ہو جاتا ہے اس لیے کیر سے سیر بننا عجب نہیں، جو فارسی کا سر اور ہندی کا سِر بن گیا۔

    مزید مزید یہ کہ سنسکرت میں سینگ کو سرنگم کہتے ہیں۔ اس کا بھی کیر اور سیر سے تعلق واضح ہے۔

  • بہت نوازش ظفر صاحب. اب اگر میں اپنے رہوار تخیل کو ایڑ لگاؤں. تو عربی "قرن" اور عبرانی "قرنا" ذہن میں آتے ہیں. فارسی "کیر" (یاے مجہول) کے معنی تو یقینا آپ کی نظر سے اوجھل نہیں ہوں گے اور وہ بھی نکلی ہوئی چیز کے معنی میں ہیں. پشتو میں سینگ کے لئے "شکر/ خکر" (پہلے حرف پر جزم اور دوسرے پر زبر) مستعمل ہیں. یہ شاید "کیر" اور "سیر" کے بیچ کی ارتقائی شکل ہو گی. مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ پشتو میں ایسے بہت الفاظ ہیں جو جزم والے حروف سے شروع ہوتے ہیں اور ان کی اور اگلے حرف کی پوزیشن آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے. لکھ کر سمجھانا مشکل ہو گا. کاش صوتی طرز پر عرض کر پاتا.

  • September 2016 کو ترمیم کیا

    بہت زبردست قاضی صاحب، آپ نے رہوارِ تخیل کو وہ ایڑ لگائی ہے کہ وہ باقاعدہ ٹیک آف کر کے بردوشِ ہوا ہو گیا ہے۔

    عربی قرن اور پشتو خکر تک پہنچنے کے لیے داد، اسے پڑھ کر وہی لطف آیا جو اچھا شعر سننے پر آتا ہے۔ قرن کے سلسلے میں ایک نکتہ یہ ہے کہ سنسکرت میں کان کو کرنڑ کہا جاتا ہے۔

    خاکسار پشتو بخوبی جانتا ہے اس لیے اسے معلوم ہے کہ خکر اور شکر ایک ہی لفظ (ښکر) کے دو مختلف لہجے ہیں، جنھیں لکھا ایک ہی طریقے سے جاتا ہے، اور پڑھا دو طریقوں سے۔

    اب اگر میں بھی قیاس کا گھوڑا دوڑاؤں تو عرض کروں کہ پشتو اور فارسی کا لفظ خر بھی شاید اسی قبیل کا ہے، کیوں کہ گدھےکے سر پر سب سے نمایاں چیز اس کے کان ہوتے ہیں۔ اس کی ایک اور مبہم سی دلیل خرگوش ہے، جس کی وجۂ تسمیہ یہی ہے کہ اس کے کان گدھے کی مانند ہیں، یعنی اس کے علاوہ اس دکھیارے کے پاس کچھ نہیں دھرا۔

    خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر خرگوش کا نام اس کے کانوں کی وجہ سے رکھا جا سکتا ہے تو گدھے کا نام بھی اس کے کان کی وجہ سے پڑنا خارج از ممکنات نہیں۔

    اسی کو کہتے ہیں جیسے کو تیسا۔

  • بہت خوب. رہوار تخیل کی سیر فلک کے ارتفاع سے عرض ہے کہ آپ کی پشتو دانی کا جان کر بات آگے بڑھاتا ہوں کہ مثلا پانو کا مفہوم ادا کرنے کے لئے جس لفظ کو اہل پشاور، مردان و ننگرہار "خپہ" (خ بالجزم اور پ بالفتحہ ) کہتے ہیں، اسے اہل کوئٹہ و قندھار "پشہ" پکارتے ہیں، اعراب کی اسی ترتیب کے ساتھ. ممکن ہے اسی طرح کبھی "خکر/ شکر" کشر / کخر رہا ہو. جو صوتی تسہیل کی خاطر شیر/ سیر/ کیر تک آیا ہو. محض قیاس آرائی کر رہا ہوں.

  • جناب قاضی صاحب

    آپ سے گفتگو کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی تاریک معبد میں کھڑکیاں ایک ایک کر کے کھلتی چلی جاتی ہیں اور سارے میں دھیرے دھیرے روشنی پھیلتی جاتی ہے۔

    آپ کی اجازت سے میں آپ کی توجہ ایک چھوٹی سی بات کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ جہاں تک میرا خیال ہے پشتو کا حرف ’ښ‘ جسے سخت لہجے میں خین اور نرم میں شین پڑھا جاتا ہے دراصل رومن حرف ایکس کا قائم مقام ہے۔

    بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ دیوناگری میں بھی اسی حرف کا ہمزاد موجود ہے یعنی
    क्ष
    یہ حرف کھشنز یعنی لمحہ
    क्षण
    یا پھر لکشمی
    लक्ष्मी
    یا دکھشنز بمعنی جنوب
    दक्षिण
    جیسے الفاظ میں استعمال ہوتا ہے۔

  • September 2016 کو ترمیم کیا

    سبحان الله آپ کی خرد نوازی کے لئے شکر گزار ہوں. اول تو معذرت کہ میں جس سافٹ وئر کی مدد سے اردو لکھتا ہوں، اس میں کوئی بائیں سے دائیں لکھی جانے والی زبان کا لفظ گھسیڑنے کی کوشش کروں تو الفاظ کی ساری ترتیب گڈ مڈ ہو جاتی ہے. سو، اپنی آسانی کی خاطر میں ہندی کے تین وینجن/ مصوتوں کو ١، ٢ اور ٣ کا نام دیتا ہوں اور انہیں آخر میں درج کردوں گا. آپ جانتے ہیں کہ پشتو حروف تہجی کی عمر بہت زیادہ نہیں ہے. بنیادی طور پر یہ ایک قدیم بولی ہے جس کے مصوتوں اور مصمتوں کو تحریری شکل دینے کے لئے چند صدیاں پیشتر (میری نظر میں ناقص) عربی/ فارسی رسم الخط اپنایا گیا. میرے خیال میں جو ساکن وینجن پشتو میں "کښ" کے مرکب سے ظاہر کیا جاتا ہے، وہ بذات خود ایک مصمتہ ہے اور سنسکرت میں اسے نمبر ٣ کے طور پر لکھا جاتا ہے. میری راے میں، پشتو میں جو مصمتہ "ښ" کی علامت سے ظاہر کیا جاتا ہے، سنسکرت میں اس کا قائم مقام وینجن نمبر ٢ ہے. یہ بھی آپ جانتے ہیں کہ "پختو" اور "پشتو" لہجوں میں، علی الترتیب "ش" کو بھی "س" میں بدل دیا جاتا ہے. میری راے میں اس مصمتے کی سنسکرت علامت وینجن نمبر ١ ہے. آپ کی رہنمائی کا منتظر رہوں گا.

    1 . श
    2 . ष
    3 . क्ष

  • اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟

  • قاضی صاحب، اس قدر معلومات سے آگاہ کرنے کا شکریہ، میں معذرت خواہ ہوں کہ مصروفیات کی وجہ سے جلد جواب نہ دے سکا۔

    آپ نے فرمایا ہے کہ پشتو کا ښ دیوناگری کے وینجن 2 کا قائم مقام ہے۔ لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ جہاں تک میری (محدود) معلومات کا تعلق ہے، دیوناگری کا 2 دراصل وہ مصوتہ
    Voiceless retroflex sibilant
    کہلاتا ہے۔ دیوناگری میں اسے مردھنیہ کہتے ہیں، جب کہ عوام میں یہ ’پیٹ والا ش‘ کے نام سے معروف ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے، یہ آواز اردو، پشتو، فارسی، عربی وغیرہ میں نہیں پائی جاتی۔۔۔ البتہ چینی میں اس کا استعمال خاصا عام ہے۔۔۔
    پشتو، اردو، فارسی وغیرہ میں ش کی جو آواز ہے اسے
    Voiceless alveolo-palatal sibilant
    کہتے ہیں اور یہ وہی آواز ہے جو آپ نے اوپر 1 سے ظاہر کی ہے۔

    سوال: آپ نے کښ کو نمبر 3 کا متبادل قرار دیا ہے۔ لیکن کیا اسے پشتو میں ’کہ‘ (بمعنی اندر) نہیں پڑھتے؟

    ضمنی بحث

    پشتو کا ایک حرف ہے څ، ویسے تو پشاور اور دوسرے ’سخت‘ لہجے والے علاقوں میں اسے س کی طرح بولا جاتا ہے، مثلاً جیسے لفظ څنگہ میں، لیکن نرم لہجے میں اسے بعض اوقات تس کی طرح ادا کیا جاتا ہے، یعنی یہ بھی ایکس کی طرح ڈبل کانسوننٹ بن جاتا ہے، مثلاً وہ لوگ تسنگہ بولتے ہیں، لیکن ت کی آواز نہایت خفیف نکلتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ چیز یورپی زبانوں میں بھی موجود ہے، مثال کے طور پر جرمن یا اطالوی زیڈ تس کی آواز دیتا ہے، اسی لیے نازی کو وہ ناتسی یا پیزا کو پیتسا کہتے ہیں۔

  • گراں قدر معلومات کے لئے شکرگزار ہوں اور یقین مانیے مقصد ہرگز کج بحثی نہیں، حصول علم ہے. مجھے سنسکرت کے عالم پنڈتوں سے شلوک سننے کا موقع ملا ہے. وہ جس طرح سے "پیٹ والے" شین کو ادا کرتے ہیں، وہ بالکل ویسا ہی سنائی دیتا ہے جیسا کہ غلجی قبائل مثلا لفظ "پشتو" میں اسے ادا کرتے ہیں. میرا خیال ہے کہ "ښ" نہ خ ہے نہ ش بلکہ ان دونوں سے الگ آواز ہے، اور لوگوں نے مختلف علاقوں میں اپنی سہولت کے مطابق اس کا "تدبھو" ش یا خ بنا لیا ہے. . کاش کوئی ذریعہ ہوتا کہ بول کر بتا سکتا کہ غلجی لوگ اس کا تلفظ کیسا کرتے ہیں. دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے ہاں " ږ" کا تلفظ بھی ایک مخصوص قسم کا ہے جو نہ ژ ہے نہ گ.. "کښ" کی آواز کے بارے میں آپ کو اندازہ ہوگا کہ مردان، سوات، پشاور میں اسے "ک" کے طور پر ادا کیا جاتا ہے، جبکہ محسود، وزیر، داوڑ اسے بطور "ش" ادا کرتے ہیں. بلوچستان اور قندھار میں البتہ "کش" (ہر دو بالجزم) کے طور پر بھی بولا جاتا ہے. میرے خیال میں یہ بھی وہی تدبھو والا قصہ ہے. آپ کا مشاہدہ "څ" کے بارے میں قابل قدر ہے. بلوچستان، قندھار اور غلجی قبائل میں اسے "تس" (ہر دو بالجزم) کے طور پر ادا کیا جاتا ہے. ایسا ہی معاملہ "ځ" کا بھی ہے جسے یہاں "دز" (ہر دو بالجزم) کے قریب آواز سے ادا کیا جاتا ہے. جبکہ پشاور، سوات، مردان میں یہ "ز" ہے اور محسود، وزیر داوڑ اسے "ج" بولتے ہیں.

  • قاضی، صاحب، مجھے نہ تو سنسکرت عالموں سے شلوک سننے کی سعادت حاصل ہوئی ہے، نہ ہی کبھی غلجی قبائل سے واسطہ پڑا ہے۔ اس لیے آپ کی بات تسلیم کرنے کے علاوہ میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔

    ایک بار پھر معلومات میں اضافہ کرنے کا شکریہ۔

  • میں اسلام آباد میں رہتا ہوں اور اکثر یہیں پایا بھی جاتا ہوں. کبھی ملاقات کا موقع نکالیں تو زبانی عرض کروں گا کہ مذکورہ آوازوں کا تلفظ میں نے کیسا سنا ہے.

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔