صوفی

July 2016 کو ترمیم کیا میں یہ لفظ کہاں سے آیا؟

اس لفظ کے ماخذ کے بارے میں خاصی بحث ہو چکی ہے۔ بعضوں نے اسے یونانی الاصل بتایا ہے، لیکن کچھ لوگ اسے عربی لفظ صوف سے مشتق سمجھتے ہیں جس کے معنی ہیں اون سے بنا کپڑا۔ دوستوں سے بحث میں شرکت کی درخواست ہے۔

تبصرے

  • Tasawuf se
  • مصطفیٰ صاحب، یہاں معاملہ الٹا ہے، خود تصوف کا لفظ صوفی یا صوفی سے نکلا ہے۔

  • صوفی کے ماخذ پر ابوریحان البیرونی (973 تا 1048) نے بھی بحث کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس لفظ کے اشتقاق کے معاملے پر قدیم ہی سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔ بیرونی ’تحقیق مالہند‘ میں لکھتے ہیں

    ’یہ رائے صوفیوں کی ہے جو حکیم ہیں کہ یونانی میں ’سوف‘ حکمت کو کہتے ہیں اور لفظ فیلسوف جسے ’پیلاسوپا‘ کہتے ہیں، اسی سے ہے۔ جب اسلام میں ایک گروہ نے ان کی رائے سے موافقت کی تو اپنے لیے یہی نام اختیار کیا، اور ایک اور گروہ نے نادانستہ اس لقب کو ان کے توکل کی وجہ سے اہل صفہ سے منسوب کر دیا۔ یہ اہلِ صفہ نبی کریم کے زمانے میں ہوئے ہیں۔ بس اس میں تصحیف ہوئی اور اسے بھیڑ بکریوں کی اون سے منسوب کر دیا گیا۔ ابوالفتح بستی (سیستان کے شاعر، متوفی 1010) نے بڑے اچھے پیمانے میں اس نسبت سے انحراف کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں

    ’آدمی لفظ صوفی سے متعلق جھگڑتے ہیں، قدیم زمانے میں اس کو اون سے مشتق خیال کیا گیا ہے، میں اس نام کا کوئی جواں مرد نہیں جانتا، ماسوا اس کے جو صاف تھا، صفائی حاصل کی اور ملقب بہ صوفی ہوا۔‘

  • ایک طبقہ کی رائے ہے کہ صوفی ’’صفا‘‘ سے مشتق ہے اور صوفیہ کی ایک بڑی جماعت اس رائے کی قائل ہے چنانچہ شیخ بشر بن الحارث الحافی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ:
    ’الصوفی من صفا قلبہ للّٰہ‘
    ’’ صوفی وہ ہے جس نے اللہ کے لیے اپنے دل کو صاف کیا‘‘

  • یہ بھی قرین قیاس ہے کہ یہ لفظ "صوف" بمعنی اون سے مشتق ہے۔ اس مخصوص اون سے بننے والا کپڑا بھی صوف کہلاتا۔ اور پرہیزگار اور دنیاداری سے پرے عابد و زاہد افراد یہی سادہ لباس زیب تن کرتے اور صوف پہننے کی نسبت سے صوفی کہلاتے۔ اور آگے چل کر یہ ان کی پہچان بن گیا۔

  • احباب کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئےایک مزید رائے یہ ہے جسے شیخ ابوبکر کلاباذی نے التعرف لمذهب أهل التصوف میں ذکر کیا کہ یہ صوف( اون سے بنا کپڑا۔) سے بنا ہے کیونکہ یہ انبیاء کا لباس اور اولیاء کی پہچان ہے اسی نسبت سے اسے پذیرائی ملی

  • اس سلسلے میں امام غزالی کا ایک قول پیشِ خدمت ہے

    اس لفظ کے اشتقاق کے بارے میں تین آرا ہیں: بعض کا قول ہے کہ صحابہ میں سے جو لوگ اہلِ صفہ کہلاتے تھے، یہ ان کی طرف نسبت ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا ماخذ صفا ہے، بعض کے نزدیک صف، لیکن قاعدۂ اشتقاق کی رو سے یہ تینوں غلط ہیں۔ یہ احتمال ہو سکتا تھا کہ صوف سے ماخوذ ہو، جس کے معنی پشمینہ کے ہیں، لیکن پشمینہ پوش ہونا اس فرقے کی کوئی خصوصیت نہیں۔

    امام صاحب کی یہ بات تو درست ہے کہ عربی قواعد کی رو سے صفا، صفہ یا صف سے صونی نہیں بن سکتا لیکن صوف یعنی پشمینہ یا گلیم پوشی اس فرقے کی خصوصیت تھی جس کی تائید دوسرے ذرائع سے بھی ہوتی ہے۔

  • September 2016 کو ترمیم کیا
    لفظ ’’تصوف ‘‘اور’’ صوفی‘‘ کی لغوی بحث میں ماہرین لسانیات و محققین کا ہر دور میں اختلاف رہا ہے چونکہ قرآن و صحاح ستہ میں یہ لفظ موجود نہیں اور عربی زبان کی قدیم لغات میں اس لفظ کا وجود نہیں اس لیے ہر دور کے علماء اور محققین اس بارے میں مختلف آراء اور خیالات ظاہر کرتے رہے ۔ حضرت سیدابوالحسن علی بن عثمان الجلابی الہجویری ثم لاہوری معروف بہ داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ(400۔ 465ھ/1009۔1072ء) (1) فرماتے ہیں:

    ’’مردمان اندر تحقیقِ ایں اسم بسیار سخن گفتہ اند و کتب ساختہ‘‘

    لوگوں نے اس اسم کی تحقیق کے بارے میں بہت گفتگو کی ہے اور کتابیں لکھی ہیں۔(۲)

    کسی کا کہنا ہے کہ عہد جاہلیت میں ’’صوفہ‘‘ نامی ایک قوم تھی جو اللہ تعالیٰ کے لیے یکسو ہوگئی تھی، بت پرستی سے گریز کرتی تھی اور خانہ خدا کی خدمت کے لیے 702ء)(3) سے صوفی کی نسبت کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا:

    ’قوم فی الجاھلیۃ یقال لھم صوفہ انقطوا الی اللّٰہ عزوجل وقطنواالکعبہ فمن تشبہ بھم فھم الصوفیۃ۔‘

    جاہلیت میں صوفہ کے نام سے ایک قوم تھی جو اللہ تعالیٰ کے لیے یکسو ہوگئی تھی اور جس نے خانہ کعبہ کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر لیا تھا پس جن لوگوں نے ان سے مشابہت اختیار کی وہ صوفیہ کہلائے۔(4)

    ’’صوفہ ‘‘ قوم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ خانہ کعبہ کے مجاور تھے اور حاجیوں کے آرام وآسائش کے لیے انتظامات کیا کرتے تھے اس قوم کا پہلا شخص ’’ غوث بن مُر ‘‘ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ غوث کی ماں کی کوئی اولاد نہ تھی اور اس نے منت مانی تھی کہ اگر اسکے لڑکا تولد ہوا تو وہ اسے خانہ کعبہ کی خدمت کے لیے وقف کرے گی چنانچہ لڑکا تولد ہوا تو اس کا نام ’’ غوث‘‘ رکھا گیا جوکہ بعد میں ’’ صوفہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا اور اس کی اولاد بھی صوفہ کہلائی۔ صوفہ کو’’آل صوفان ‘‘ اور ’’ آل صفوان ‘‘کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔(۵)

    لفظ صوفی کے اس اشتقاق کے بارے میں علماء مختلف الخیال ہیں کچھ کے نزدیک عربی زبان و قواعد کی رو سے لفظ’’صوفہ‘‘ سے ’’صوفی ‘‘ نہیں بلکہ ’’صوفانی‘‘ بنتا ہے۔جبکہ بعض ماہرین فن اس اشتقاق کو درست مانتے ہیں اور اس سلسلہ میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر ’’کوفہ‘‘ سے’’کوفانی‘‘ کا الف نون گرا کر ’’کوفی‘‘ بن سکتا ہے تو ’’صوفہ‘‘ سے’’صوفی‘‘ کا اشتقاق کسی طور غلط نہیں ہوسکتا ۔ تاہم اس رائے کا اعتباراس وجہ سے نہیں کہ ایک غیر معروف قوم جس کا امتیاز رہبانیت رہا ہو، کی طف انتساب کو مسلمان اچھی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے۔

    کسی کا خیال ہے کہ صوفی یا تصوف لفظ ’’ صف‘‘ سے ماخوذ ہے کیونکہ صوفیہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے حضور صف اول میں کھڑے ہیں یعنی وہ لوگ جو اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں چنانچہ شیخ ابوالحسین نوری رحمۃ اللہ علیہ(م ۲۹۵ھ/۹۰۷ئ) (۶)کا قول ہے:

    ’الصوفیۃ ہم الذی صفت ارواحھم فصاروا فی الصف الاول بین یدی الحق۔‘

    ’’صوفیہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی روحوں کو صاف کیا پس وہ اللہ کے حضور صف اول میں ہو گئے‘‘(۷)

    امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن قشیری رحمۃ اللہ علیہ(۳۷۶۔ ۴۶۵ھ / ۹۸۶۔ ۱۰۷۲ء )(۸)کے نذدیک تصوف ’’صفوۃ‘‘ سے بنا ہے جس کے معنی بزرگی کے ہیں اس لفظ کو بہترین اور خالص کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ امام موصوف کے بیان کے مطابق ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

    ’ذھب صفوالدنیا و بقی الکدر فالموت الیوم تحفۃ لکل مسلم‘

    ’’دنیا کی صفائی جاتی رہی اور کدورت باقی رہی پس موت آج ہر مسلمان کے لیے تحفہ ہے‘‘(۹)

    امام قشیری کے بقول چونکہ اس جماعت کے لوگ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خالص تعلق پر زور دیتے ہیں اس لیے یہ صوفیہ کہلائے اوریہ جماعت اسی نام سے مشہور ہوئی۔ امام قشیری رحمۃ اللہ علیہکا کہنا ہے کہ عربی زبان کے قیاس اور قاعدۂ اشتقاق سے اس نام کی تائید نہیں ہوتی اس لیے لگتا ہے کہ یہ لقب کے طور پر مشہور ہوا۔(۱۰)
  • محترم انور صاحب

    لفظ صوفی پر اس قدر سیر حاصل بحث کے لیے بےحد شکریہ۔

    ہمیں امید ہے کہ آپ اس فورم کی دوسری لڑیوں پر بھی نظرِ کرم ڈالیں گے اور اگر ممکن ہوا تو دوسرے الفاظ کے اشتقاق کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ فرمائیں گے۔

  • بندہ ناخواندہ ہے اور جستجوۓ علم رکھتا ہے .
    میرے ناقص علم میں جو تھا پیش کردیا .
    شکریہ.
سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔