بھونچکا

اس کا مطلب تو آپ جانتے ہی ہیں کہ حیران و پریشان رہ جانا ہے، خاص طور پر اس وقت جب کوئی غیرمتوقع واقعہ اچانک پیش آ جائے۔ لیکن اس لفظ کا ماخذ کیا ہے؟

آپ کی آرا کا انتظار رہے گا۔

تبصرے

  • اس لفظ کے بارے میں بھی ماہرین منقسم ہیں۔ ایک گروہ (پلیٹس) کہتا ہے کہ یہ سنسکرت کے دو الفاظ بھیے (خوف) اور چکت (کانپنا) سے مل کر بنا ہے، یعنی خوف کے مارے تھرتھر کانپنا۔ ہندی میں بھونچکا کا ہم معنی لفظ بھیچک ہے۔

    ڈاکٹر سہیل بخاری کہتے ہیں یہ دراصل مرکب ہے بھوں (دائرہ) اور چال (حرکت) کا۔ وہ فرماتے ہیں: ’اب جو شخص ایک دائرے میں گھومے گا یقیناً چکرا جائے گا اور پھر اس کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آ سکے گی۔ ایسے ہی شخص کو بھونچکا کہا جاتا ہے۔‘

    مجھے دونوں تشریحات میں مسائل نظر آتے ہیں۔ پلیٹس کے بیان کے برخلاف بھونچکا میں خوف کا عنصر اتنا نمایاں نہیں جتنا حیرت یا دنگ رہ جانے کا ہے۔ جب کہ سہیل بخاری چال تک تو پہنچ گئے لیکن اس لفظ میں چال نہیں بلکہ چکا ہے، جس کا چال سے بننا محال ہے۔

    میرے خیال میں ایک تیسرا راستہ بھی نکالا جا سکتا ہے: بھوں (ابرو) + اچک (اچکنا، اچکانا)۔ یعنی خوف یا حیرت کے مارے آنکھیں پھیل جانا۔

    دوستوں کی کیا رائے ہے؟

  • میرے ذہن میں بھی بالکل سامنے کی بات ہی آئی تھی کہ ہو سکتا ہے کہ یہ دو الفاظ بھوں اور اچکانا سے مل کر بنا ہو بھوں اچکا ۔۔۔ بھونچکا

  • مجھے پلیٹس کے ماخذ سے طالبعلمانہ اختلاف ہے. بھونچکا میں چہرے کی جو صورت بنتی ہے اس میں بھویں اچکنے کی کیفیت ہوتی ہے. میری رائے میں یہ لفظ پنجابی الاصل ہے.
  • جناب حافظ صاحب، فورم میں خوش آمدید اور لفظ بھونچکا کے بارے میں اپنی رائے دینے کا شکریہ۔ کیا آپ اس بات کی وضاحت کر سکیں گے کہ یہ آپ کے خیال میں یہ لفظ پنجابی الاصل کیوں ہے، کیا اس سے ملتے جلتے الفاظ پنجابی میں پائے جاتے ہیں؟

  • ،،پنچانی میں ،، طور بھؤں جانا
    بولا جاتا ہے

    طور بمعنی تیور ، اور بھؤں جانا گھوم جانا

  • اہل ہند اس کا درست تلفظ "بھوں چکا" (چ پر پیش اور کاف پر تشدید اور زبر) کرتے ہیں. عالم حیرت میں انسان کی بھنویں اٹھ جاتی ہیں.

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔