کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

2»

تبصرے

  • اسی قبیل کا لفظ استفادہ حاصل کرنا ہے، جس میں حاصل کرنا فالتو ہے۔ یہ الگ بات کہ اردو کے بڑے مشاہیر نے ایسے لکھا ہے

  • آپ کی بات درست ہے، ، علامہ اقبال اور حالی نے استفادہ حاصل کرنا لکھا ہے۔
    شمس الرحمن فاروقی نے اس پر تفصیل سے لکھا ہے۔
    کچھ برس گزرے اس پر لمبی بحث ہوئی لیکن استفادہ حاصل کرنا کو غلط اور درست کہنے والوں کی تشفی نہیں ہوئی، فریقین اپنے اپنے مسلک پر قائم رہے۔
    استفادہ حاصل کرنا کو غلط کہنے والوں نے اقبال سے منسوب اس مراسلے کو جعلی قرار دے دیا جس میں انھون نے لفظ استفادہ حاصل کرنا استمعال کیا تھا۔
    حالی نے ؛یاد گار غالب؛ میں استفادہ حاصل کرنا لکھا ہے۔
    عربی لفظ ؛استفادہ؛ میں حاصل کرنا کے معنی موجود ہیں ۔ لیکن اردو میں آ کر اس کے معنی بعض لغت میں نفع اتھانا اور فائدہ حاصل کرنا اور بعض نے صرف نفع یا فائدہ لکھے ہین۔
    کیا خیال ہے اس لحاظ سے اسے دونوں طرح استمعال کیا جا سکتا ہے؟

  • شاہین بھائی نے عمدہ معلومات دی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اسی سے ۔۔۔۔۔۔۔ تقریب کے موقع پر۔۔۔۔۔۔یاد آ گیا۔تقریب کے لفظ میں موقع کا مفہوم شامل ہے،ہم تقریب میں یا تقریب پر کہہ سکتے ہیں۔لفظ جدت کے ساتھ نئی کا لفظ لگانا غلط ہے کیونکہ جدت میں نئی کا مفہوم شامل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بوقتِ ضرورت میں ب فالتو ہے،درست وقتِ ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقاعدہ طور ہر۔۔۔۔۔۔۔۔اس میں طور پر اضافی ہے،درست باقاعدہ ہی ہے۔یعنی میں نے باقاعدہ مصوری سیکھی نا کہ میں نے باقاعدہ طور پر مصوری سیکھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح لفظ دوران کے بعد میں لگانا ضروری ہے یعنی اسی دوران میں ہم بھی پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔۔قابلِ گردن زدنی غلط ہے کیونکہ اس میں قابل کا مفہوم شامل ہے درست لفظ گردن زدنی ہے۔۔۔۔۔۔ہنوز سے پہلے تا لکھنا غلط ہے، ہنوز ہی کافی ہے۔۔۔۔۔۔خواتین و خضرات کہنا غلط ہے کیونکہ لفظ حضرات میں مرد و زن دونوں سی شامل ہیں۔صرف حضرات کہہ دینا کافی ہے۔

  • احمد سجاد صاحب، ایک بارپھر عمدہ معلومات کے لیے شکریہ۔ حضرات والی بات نہایت دلچسپ ہے، کیوس کہ آپ نے سنا ہو گا اکثر لوگ تقریر شروع کرتے وقت کہتے ہیں، خواتین و حضرات۔ ایک بار ایک محفل میں ایک صاحب نے صرف حضرات کہا تو خواتین برا مان گئیں اور کہا کہ ہم بھی تو بیٹھی ہیں۔ اس پر ان صاحب نے وہی بات کہی جو آپ نے اوپر فرمائی ہے کہ حضرات میں خواتین بھی آ جاتی ہیں۔ اس پر لوگوں نے اعتراض کیا کہ ہم نے تو ایسا کبھی نہیں سنا، تو مقرر صاحب نے جواب دیا کہ آپ نے کبھی حضرت فاطمہ، یا حضرت مریم نہیں سنا؟

  • مقرر نے جواب میں اچھی مثال پیش کی۔ اب بھی مردوزن کی تقریب میں اکثر لوگ تقریر کا آغاز خواتین وحضرات سے ہی کرتے ہیں جبکہ صرف حضرات کہہ دینا ہی درست ہے۔
    ایک بار اساتذہ کی تقریب میں اردو الفاظ کی اصلاح کا موضوع زیر بحث تھا تو میں نےبتایا کہ خاتون کے نام درخواست لکھتے وقت بھی لفظ جناب لکھنا چائیےنہ کہ جنابہ۔تو خواتین کا جواب تھا کہ ہم خواتین پیدا ہوئی ہیں ہمیں خواتین ہی رہنے دو مرد نہ بناو۔
    ویسے تو خواتین ہر وقت مساواتِ مردوزن کے لئے شکوہ کناں رہتی ہیں لیکن اپنے آپ کو حضرت اور آدمی نہیں مانتی اور جناب اور زوج کے بجائے جنابہ اور زوجہ کہنے پر بضد ہیں۔
    حالانکہ عورت اور مرد کی مساوات کا نظریہ دنیا میں سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا اور اس پر تفصیلی گفتگو کی اور عورت کا مقام و مرتبہ اور قدرو منزلت بڑھائی۔
    وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ ؛
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِدروں
    (اقبال)

  • شاہین صاحب ایک بارعلم میں اضافہ کرنے کا شکریہ۔

    البتہ میں اقبال کے شعر سے اتفاق نہیں کر سکتا کہ اس میں عورت کو محض ڈیکوریشن پیس بنا دیا گیا ہے، لیکن اس سے بحث دوسری طرف چلی جائے گی۔

  • حالانکہ خواتین کویہ نہیں معلوم کہ جنابہ کا مطلب ناپاک ہوتا ہے۔۔۔۔۔☺☺
  • بات تذکیروتانیث کی ھو رہی ہے تو بعض اسم مشترک ہوتے ہیں جو مذکر اور مونث دونوں کے لیے بولے جاتے ہیں، جیسے حضرت، جناب، زوج،یتیم، کھلاڑی، مسافر،مہمان،صدر،وزیر،دوست،بچہ دشمن وغیرہ
    لیکن رشتوں کی تذکیروتانیث میں ایک بات قابل غور ہے۔
    تایا تائی، ابا اماں، ماموں ممانی، چچا چچی، بیٹا بیٹی،بھائی بہن۔
    ہماری درسی کتابوں میں ایسے ہی لکھا ہےجو اب تک ہم پڑھتے آئے ہیں۔
    چچا چچی تک تو بات درست ہے لیکن بیٹا بیٹی اور بھائی بہن درست نہیں۔
    بیٹا کی مونث بہو ،بیٹی کا مذکر داماد اور بھائی کی مونث بھاوج اور بہن کا مذکر بہنوئی ھوتا ہے۔

  • سوال یہ ہے کہ یہ الفاظ بابا ماماچاچا تایا دادا دادی نانا نانی بھایا دیدا دیدی، یہ سب آئے کہاں سے ہیں، مجھے تو لگتا ہے چین سے آئے ہیں۔ آپ لوگوں کا کیا خیال ہے۔۔

  • Shaheen sb azrah e taffanun arz hai keh aap nay to hamari saari Urdu he ghalat qarar day dee hai. Ab kia karain .
  • اسلم کے سر اتنا قرضہ ہے کہ اس کے سر کا ایک ایک بال قرضے میں مقروض ہے۔
  • ہادی صاحب، عام محاورہ یہ ہے: بال بال قرصے میں جکڑا ہوا ہے۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔