کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

July 2016 کو ترمیم کیا میں ہجے اور تلفظ: یہاں

دوستان اردو
السلام علیکم
دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ہمارا معاشرہ اپنی زبان کی صحت کے حوالے سے کافی بے پروا و بے حس ہوتا جا رہا ہے۔ دھڑلے سے غلط اردو بولی اور لکھی جا رہی ہے۔ اگر کوئی توجہ دلائے تو الٹا اسے ہی شرمندہ کیا جاتا ہے۔ یہ اس زبان کے ساتھ اور خود اپنے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔ ہمیں ہی کچھ کرنا چاہیے۔

یہاں ایک بحث شروع کر رہا ہوں جس میں ارکانِ اردو کمیونٹی مشاہدے میں آنے والی غلط اردو درج کریں گے اور دوسرے ارکان اس کی تصحیح کریں گے۔ تبصرہ بھی کر سکتے ہیں۔ مقصد اردو کمیونٹی میں اپنی زبان کی صحت کے حوالے سے آگہی بڑھانا اور مل جل کر اپنی عظیم زبان کی حفاظت کے حوالے سے ایک سرگرمی کرنا اور بہتر اردو سیکھنا ہے۔

کوشش کریں کہ مثالیں حقیقی زندگی سے لی جائیں۔

:) تو شروع کرتے ہیں۔

ہمارے بازار میں سلائی مشین مرمت کی دکان پر لگے ہوئے سائن بورڈ پر لکھا تھا

** ہمارے ہاں سلائی کڑاہی کی مشینیں مرمت کی جاتی ہیں۔**

اگر آپ کو کوئی غلطی نظر آئے تو اصلاح کر کے درست جملہ یہاں فورم پر لکھیں۔

«1

تبصرے

  • اوہ
    ایک غلطی ہو گئ تھی۔

    اردو زباں آتے آتے

    مصرعہ غلط ہو گیا، نون غنہ ہونا چاہیےتھ۔

    اردو کمیونٹی سے معذرت

    ٹھیک کرنے کی کوشش تو کی ہے۔ پھر بھی گڑ بڑ باقی رہے تو

    کوئی ٹھیک کرنے میں مدد کرے پلیز

  • ظفر صاحب، شکریہ۔ آپ نے نہایت اہم نکتے کی وضاحت کی ہے۔

  • یہاں اصل سوال دہرا رہا ہوں

    ہمارے بازار میں سلائی مشین مرمت کی دکان پر لگے ہوئے سائن بورڈ پر لکھا تھا

    ** ہمارے ہاں سلائی کڑاہی کی مشینیں مرمت کی جاتی ہیں۔**

    اگر آپ کو کوئی غلطی نظر آئے تو اصلاح کر کے درست جملہ یہاں فورم پر لکھیں۔

  • کڑاہی کی بجائے کڑھائی ہونا چاہئے ۔

  • جی بالکل

  • یہ مفید سلسلہ جاری رہنا چاہؑے۔

  • Aik saalan jo lassi say banaya jata hai "karee" wo urdu maiN kis tarah likha jaaiy ga ? Shukria
  • عثمان صاحب، اسے کڑھی بولا اور لکھا جاتا ہے۔ خود ہماری لغت میں اس کا اندراج کچھ یوں ہے

    https://ur.oxforddictionaries.com/ترجمہ_کریں/اردو-انگریزی/کڑھی

  • Shukria zafar sb
  • Us imaarat main surkh sungg e marr marr laga hua hai.
  • اس میں غلطی سرخ رنگ کی ہے ۔سنگ مرمرکے لیے سفید ہونا ضروری یے۔مرمر سفید پتھر کے لئےاستعمال ہوتا ہے

  • عام سننے میں آتا ہے

    اس عمارت میں سفید سنگِ مرمر کا پتھر لگا ہوا تھا۔

    اس میں دہری غلطی ہے۔

  • اس عمارت میں سنگِ مرمر لگاہواتھا۔ درست ہے

  • جماعت اول کی کتاب واقفیتِ عامہ (پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور) میں صفحہ نمبر 43 پر لکھا ہے۔: کسی سے کوئی چیز مانگنی ہو یا اجازت لینی ہو تو بات اس طرح شروع کرتے ہیں۔ : برائے مہربانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔: ۔

  • جماعت اول کی کتاب میں لکھی ان دو لائنوں میں کیا غلطی ہے؟

  • بہت خوب

  • ظفر صاحب کے علاوہ تمام فورم والے چھٹی پر چلے گیے ہیں۔ برائے مہربانی نشاندہی کیجیے اس تحریر میں کیا غلطیاں ہیں۔ شکریہ

  • جی شاہین صاحب، ہر طرف سناٹا چھا گیا ہے، بلکہ ہو کا عالم طاری ہے۔

  • برائے مہربانی غلط ہے۔۔۔۔۔۔درست ترکیب براہ_مہربانی ہے
    حوالہ:شعریات از نصیر ترابی
    اصلاح_تلفظ و املا از طالب الہاشمی
  • شکریہ ، سجاد صاحب۔آپ نے بجا فرمایا،آپ کہاں چلے گےتھے؟ آپ کی کتاب افکارِ کمیاب کہاں تک پہنچی۔ ہمیں کب ملے گی شدت سے انتظار ہے۔ برائے اور براہ کے معنی ذہن میں رہیں تو غلطی کا احتمال کم رہتا ہے۔ برائے ( کے لیے) اور براہ ( کر کے) ۔اُس تحریر میں دوسری غلطی پر بھی غور فرمائیے گا۔

  • دوسری غلطی نظر نہیں آ رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید اجازت کے ساتھ لینا میں کچھ مسئلہ ہے؟

  • سجاد صاحب وہ غلطی میرے یکم دسمبر والے کومنٹ میں ہے جس میں لکھا تھا، ظفر صاحب کے علاوہ تمام فورم والے چھٹی پر چلے گئے ہیں۔اور آج جماعت دوم کی اردو کی کتاب (پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ، لاہور )کے صفحہ نمبر 137 پر ایک اور غلطی نظر آئی۔ اس میں لکھا ہے : ابو ہنسنے لگے۔ لہریں ساحل سے ٹکرا کر جب واپس لوٹتی ہیں تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ سجاد صاحب آپ نے اپنی کتاب کا نہیں بتایا۔

  • میرا تو خیال ہے کہ براہ اور برائے دونوں درست اور فصیح ہیں۔

  • آپ نے درست فرمایا کہ دونوں الفاظ درست ہیں لیکن معنی کے لحاظ سے استمعال میں ذرا فرق ہے۔ براے کے معنی ہیں واسطے، لیے۔
    مثال؛درخواست براے رخصت یعنی رخصت کے لیے درخواست
    اور اگر لکھیں درخواست براہ رخصت تو معنی ہوں گے رخصت کر کے درخواست کیونکہ براہ کے معنی ہیں کر کے۔
    ہاں براہ کرم یا براہ مہربانی ٹھیک ہے ےیعنی مہربانی کر کے
    ایک دو ماہرِ لغت نے براہ کرم اور براے کرم دونوں کو درست لکھا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ زیادہ براہ کرم فصیح ہے۔

  • ارشد صاحب نے ؛ کہ آتی ہے اردوو زبان آتےآتے؛ کے عنوان سے اچھا سلسلہ شروع کیا تھا۔ دوسرے احباب تو شائد فورم کو بھول گئے لیکن ارشد صاحب خود بھی وقت نہ دے سکے۔ میں نے گورنمنٹ سکولوں میں پڑھائی جانے والی جماعت اول اور دوم کی کتب سے ایک دو غلط جملے لکھے تھے، ایک کی تو سجاد صاحب نے درستی کر دی تھی اور دوسرے کی میں کر دیتا ہوں۔آپ احباب شائد اسے معمولی غلطی سمجھتے ہیں لیکن پنجاب ٹیکسٹ بک میں یہ غلطیاں معمولی نہیں ہوتیں چونکہ یہ کتب ماہر مضمون پروفیسر صاحبان کی زیر نگرانی تیار ہوتی ہیں۔
    جماعت دوم کی اردو کی کتاب کے صفحہ 137 پر لکھا ہے، ؛لہریں ساحل سے ٹکرا کر جب واپس لوٹتی ہیں تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔؛
    ، درست اس طرح ہے، لہریں ساحل سے ٹکرا کر جب لوٹتی ہیں تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ لوٹنا کے معنی ہی واپس ہونا ہوتے ہیں اس لیے اس جملے میں ؛واپسی؛ فالتو ہے۔
    جیسے نیک مطلوب چاہتا ہون میں چاہتا فاتو ہے۔
    بڑھیا عورت میں عورت اضافی ہے۔
    منگل وار کا دن میں دن
    ممکن ہو سکے میں سکے فالتو ہے چونکہ ممکن میں سکنا موجود ہے۔
    اسی طرح استفادہ حاصل کرنا میں حاصل کرنا فالتو ہے۔
    ایصال ثواب پہنچانا میں پہنچانا فالتو ہے۔
    شب قدر کی رات میں رات۔
    مذبح خانہ میں خانہ فالتو ہے چونکہ مذبح کے معنی ہی ذبح کرنے کی جگہ کے ہیں۔
    کارحانے کی بنی ہوئی مصنوعات میں بنی ہوئی فالتو ہے چونکہ مصنوعات کا مطلب ہی بنی ہوئی چیزیں ہیں۔
    عاریتہ مانگنا اس میں بھی مانگنا فالتو ہے چنکہ کہ عاریتہ میں عارضی طور پر مانگنے کا مفہوم شامل ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ جس مادہ سے لفظ عاریت بنا ہے اسی سے لفظ عورت بنا ہے۔
    اور مادہ ع و ر کے بنیادی معنی ہیں ننگا ہونا
    عورت؛مرد اور عورت کے مقام ستر کو کہتے ہیں جن کو پوشیدہ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
    عاریت کا مفہوم خود سمجھ لین کہ ادھار لینا یا عارضی مانگنا کیسا ہے۔
    کوشش کی جائے تو مزید غلطیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جن کا درست ہونا ضروری ہے، امید ہے دوست ضرور غور فرمائیں گے۔،

  • بہت عمدہ اور دلچسپ معلومات۔

  • مزید الفاظ؛
    پانی کا تالاب میں لفظ پانی فالتو ہے چونکہ تالاب مین آب موجود ہے۔
    نا جائز تجاوزات میں ناجائز فالتو ہے ۔تجاوزات ہوتی ہی ناجائز ہیں۔
    فوج کا سپہ سالار میں سپہ یا فوج ایک اضافی ہے چونکہ سپہ کے معنی بھی فوج ہی ہیں۔
    کام کرنے کا طریقہ کار ، میں کام یا کار ایک اضافی ہے۔
    دوبارہ دہرانا میں دوبارہ فالتو ہے۔
    آب زمزم کا پانی میں آب کے معنی بھی پانی ہی ہیں ۔
    سبز زمرد اور سرخ یا قوت میں سبز اور سرخ فالتو ہیں چونکہ زمرد اور یا قوت ہوتے ہی سبز اور سرخ رنگ کے قیمتی پتھر ہیں۔
    کالی سیاہی میں کالی فالتو ہے چونکہ سیاہی ہوتی ہی کالی ہے۔
    نیلی ،سرخ اور سبز روشنائی ہوتی ہے۔

  • بہت خوب شاہین صاحب

    کیا ’سفید سنگِ مرمر‘ بھی اسی زمرے میں آ سکتا ہے، کیوں کہ مرمر کا مطلب بھی چمکدار سفید ہے؟

  • ظفر صاحب، آپ نےدرست فرمایا،سفید سینگ مرمر میں سفید فالتو ہے۔
    جیسے درحقیقت میں اور دراصل میں در یا میں فالتو ہے۔
    بار بار تکرار کرنا میں بار بار فالتو ہے،تکرار کے معنی ہی بار بار کہنا یا دہرانا کے ہیں۔
    کوہ طور کا پہاڑ میں ۔۔۔
    سب بخریت سے ہیں ، سے فالتو ہے۔
    نماز پڑھنا کار ثواب کا کام ہے۔ کار فالتو ہے۔
    براہ مہربانی فرما کر میں فرما کر اضافی ہے۔
    ہندو گنگا جل کا پانی متبرک سمجھتے ہیں۔ جل کے معنی بھی پانی ہیں۔
    استعانت طلب کرنا اور استمداد مانگنا میں طلب کرنا اور مانگنا فالتو ہیں۔
    مورخہ پانچ جنوری کو، میں مورخہ اضافی ہے۔
    بمعہ،بمع اور معہ میں بھی کچھ حروف اضافی ہیں، درست مع ہے۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔