The way you access our dictionary content is changing.

As part of the evolution of the Oxford Global Languages (OGL) programme, we are now focussing on making our data available for digital applications, which enables a greater reach in delivering and embedding our language data in the daily lives of people and providing more immediate access and better representation for them and their language.

Because of this, we have made the decision to close our dictionary websites.
Our Oxford Urdu living dictionary site closed on 31st March 2020, and this forum closed with it.

We would like to warmly thank everyone for your participation and support throughout these years – we hope that this forum, and the dictionary site, have been useful
You were instrumental in making the Oxford Global Languages initiative a success!

Find out more about what the future holds for OGL:

کسواسطے، اسکیوجہ: الفاظ کو ملا کر لکھنے کا رواج

کیا آپ معروف نقاد مظفر علی سید کی اس بات سے متفق ہیں؟

اسی طرح الفاظ کے وصل و فصل کا مسئلہ ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری صاحب فرماتے ہیں اسواسطے اور اسکیلیے جیسے مرکبات کو الگ لکھنا ہی بہتر ہو گا، لیکن ’چونکہ‘ اور ’چنانچہ‘ اور ’بلکہ‘ کو الگ الگ لکھنا محض تکلف ہے۔۔۔ پھر یہ بھی غور طلب ہے کہ ’دلچسپ‘ کے اجزا الگ الگ ہوں تو دلچسپی ختم ہو جاتی ہے، ’خوبصورت‘ میں سے صورت کو الگ کر دیا جائے تو خوبصورتی کم ہو جاتی ہے۔ ایسے مرکباتِ امتزاجی جو بولنے میں بھی واحد کلمے کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور جن کا لکھنا بھی مشکل نہ ہو، کیوں نہ ملا کر لکھے جائیں، خصوصاً جب اردو کے رسم الخط میں مخصرنگاری کی صلاحیت موجود ہے؟

ان معروضات کا یہ مقصد نہیں کہ املا کے سلسلے میں کسی قسم کی اصلاح یا معیار بندی کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن ماہرین کا یہ فرض بھی تو ہے کہ املائی نظام کو گورکھ دھندا نہ بنا کر رکھ دیں۔

مظفر علی سید
سخن اور اہلِ سخن

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔