رباط اور عمان کا آپسی ربط

اردو زبان میں عربی کا لفظ ربط عام استعمال ہوتا ہے، جس کی ایک شکل رابطہ ہے۔ عربی لغات کے مطابق ربط کا مطلب باندھنا ہوتا ہے۔ اسی ربطہ سے لفظ رباط وجود میں آیا جس کا مطلب سرائے یا کیمپ ہے۔ وہ کس واسطے کہ سرائے یا کیمپ میں لوگ اپنے جانور لا کر باندھ دیتے تھے۔ اسی رباط سے ہمیں رباطی ملا، یعنی سرائے کا مالک۔
بات آگے بڑھتی ہے۔ آپ نے مراکش کے شہر رباط کا نام شاید سنا ہو۔ کہتے ہیں کہ اس رباط کا مطلب فوجی کیمپ یا قلعہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا کھرا بھی باندھنے سے جا ملتا ہے کہ فو جی کیمپ میں اس زمانے میں بڑے پیمانے پر گھوڑے باندھے جاتے ہوں گے۔
رباط سے طلوعِ آفتاب کی طرف منہ کر کے چلتے جائیں تو ایک نہ ایک دن آپ اردن پہنچ جائیں گے، جس کے ایک شہر کا نام عمان ہے، اور ہمیں شک ہے کہ اس کا بھی رباط سے تعلق ہے۔
آپ کہیں گے عمان اور رباط میں مشرق اور مغرب کا فرق ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ آج سے کوئی تین ساڑھے تین ہزار سال قبل جب عمان کی بنیادیں اٹھائی گئیں تو اس وقت اس شہر کا نام ربات عمون تھا۔
عمون وہ قوم تھی جس نے یہاں بود و باش اختیار کی، ربات کا مطلب ہے شاہی محل یا دارالحکومت اور ربات +عمون =عمون قوم کا دارالحکومت۔
رفتہ رفتہ زمانے کے ہاتھوں نے ربات مٹا دیا، عمون باقی رہا، جو بعد میں عمان کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔
یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا لیکن عین ممکن ہے یہ رباط اور ربات کا قارورہ آپس میں ملتا ہو، کیوں کہ آپ جانتے ہیں بادشاہ اپنے تحفظ کی خاطر محل قلعے کے اندر محفوظ ترین مقام پر بنواتے تھے، بلکہ اکثر محلات اس قدر مضبوطی سے تعمیر کیے جاتے تھے کہ خود قلعہ کہلاتے تھے۔
ہے نا مزے کی بات؟

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔