غالب کی رسوائی

کل غالب کی سالگرہ منائی گئی۔ اس موقعے پر ہم ان کا ایک شعر پیش کرنا چاہتے ہیں جس کے بارے میں ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ غالب کا سب سے بڑا شعر ہے۔

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

اس شعر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ غالب کے دیوان میں شامل نہیں ہے، حالانکہ بقیہ غزل موجود ہے۔

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا

کہا جاتا ہے کہ غالب نے اس لیے اس شعر کو دیوان بدر کر دیا کہ اس میں تنافر تھا، یعنی پا پایا میں پا کی تکرار تھی۔ لیکن یہ توجیہہ ہمیں کبھی ہضم نہ ہو سکی۔ ایک تو بات یہ ہے کہ غالب کے دیوان میں دوسری کئی جگہ یہی عیب (اگر اسے عیب کہا جا سکے) موجود ہے۔ اگر غالب تنافر کے اتنے ہی دشمن ہوتے تو ان شعروں کو بھی خارج کر ڈالتے۔

تو کیا ہم سمجھیں کہ خود غالب کو اپنی اعلیٰ ترین شاعری کی پہچان نہیں تھی؟

اس خیال کی تائید میں ایک اور شعر پیش کیا جا سکتا ہے جسے غالب کا دوسرا بہترین شعر قرار دینے میں کوئی حرج نہیں۔

دیرِ و حرم آئینۂ تکرارِ تمنا
واماندگیِ شوق تراشے ہے پناہیں

حیرت انگیز طور پر یہ شعر بھی خارج از دیوان ہے، حالانکہ اس میں کوئی عیب نہیں۔

کہانی مشہور ہے کہ غالب نے اپنا کل کلام صدر الدین آزردہ، مصطفیٰ خان شیفتہ اور فضل حق خیرآبادی کے حوالے کر دیا تھا، اور انہی تینوں نے انتخاب کیا۔ تو کیا ہم سمجھ لیں کہ یہ بزرگ اتنے کور ذوق اور غیر محتاط تھے کہ غالب کے دو اعلیٰ ترین شعر حرفِ علط کی طرح مٹا ڈالے؟

انتخاب جس نے بھی کیا ہو، حتمی ذمہ داری بہرحال غالب ہی پر عائد ہوتی ہے۔ موصوف خود ہی کہہ گئے ہیں۔

شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔