جمع کی جمع

اردو میں کئی الفاظ ایسے ہیں جو جمع الجمع کی شکل میں مستعمل ہیں۔ یعنی ایک لفظ کی جمع پھر جمع کی جمع رائج ہے۔ ماہرینِ لغات ایسے الفاظ کے استعمال پر عام طور پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں، لیکن اس کو کیا کیا جائے کہ ایسے کئی الفاظ فصیح کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔ چند مثالیں

نادر -- نوادر -- نوادرات
عمدہ -- عمائد -- عمائدین
رسم -- رسوم -- رسومات
عجیب -- عجائب -- عجائبات
دیہہ -- دیہات -- دیہاتوں
خبر -- اخبار -- اخبارات
حکم -- احکام -- احکامات
جوہر -- جواہر -- جواہرات
وجہ -- وجوہ -- وجوہات

اب یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اوپر دیے گئے کچھ الفاظ میں واحد ان معنی میں استعمال نہیں ہوتا جو جمع یا جمع الجمع کا مطلب ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اہم افراد کے لیے عمائدین استعمال ہوتا ہے، جو عمائد کی جمع ہے، لیکن عمائد کی واحد عمدہ اس معنی میں نہیں برتا جاتا۔

اسی طرح نوادر یا نوادرات کا مطلب واحد نادر سے مخلف ہے۔ یہی حال جوہر -- جواہر -- جواہرات کا بھی ہے۔ جوہر مرکزی عنصر ہے لیکن جواہر ہیرے۔

اسی طرح کچھ الفاظ ہیں جو جمع کی صورت میں کچھ اور مطلب دیتے ہیں، مثلاً معلوم کا مطلب کچھ اور ہے اور معلومات کا کچھ اور۔

البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر لفظ کی جمع الجمع بنائی جائے۔ آج کل الفاظ کی جمع الجمع الفاظوں بھی سننے میں آتی ہے، جو بالکل غلط ہے اور کانوں پر گراں گزرتی ہے۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔