اردو میں افعال کی قلت کیوں؟

عہد ساز اردو نقاد محمد حسن عسکری نے اپنے مضمون قحطِ افعال میں لکھا ہے کہ اردو میں ایک زمانے میں بہت سے افعال استعمال ہوتے تھے لیکن رفتہ رفتہ ان کا رواج کم ہوتا چلا گیا اور اب یہ حالت ہے کہ ہونا اور کرنا کے سوا دوسرا فعل مشکل سے ملتا ہے۔

عسکری صاحب کا مزید کہنا ہے کہ افعال کی قلت سے نہ صرف ادب کمزور پڑ جاتا ہے کہ بلکہ یہ معاشرے کے مجموعی انحطاط کی بھی علامت ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اردو میں شاید ہزار سے زیادہ افعال ہوں گے مگر ان میں سے آج (یعنی 1953 میں جب انہوں نے یہ مضمون لکھا تھا) سو سے بھی کم افعال برتے جا رہے ہیں۔

مجھے نہ صرف عسکری صاحب کا یہ تجزیہ سولہ آنے درست معلوم ہوتا ہے بلکہ میرے خیال سے افعال کی حالت مزید پتلی ہو گئی ہے اور اگر اس وقت سو افعال تھے، تو وہ آج بیس پچیس سے زیادہ نہیں ہوں گے۔

آپ کا کیا خیال ہے، کیا آپ اس معاملے میں عسکری سے اتفاق کرتے ہیں؟

تبصرے

  • اردو زبان میں افعال کی واقعی قلت محسوس ہوتی ہے اور انگریزی زبان بلحاظِ افعال بہت امیر معلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی کے بہت سے افعال کے اردو مترادفات موجود نہیں ہیں۔
    اردو میں ایسا کیوں ہے یا پھر یہ سوال کہ بچے کچھے افعال کیوں متروک ہوتے جا رہے ہیں، اس کا جواب مجھ جیسے ناقص العلم شخص کے پاس نہیں۔ البتہ میری رائے میں اس حوالے سے اردو اور ہندی کا موازنہ کرنا سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔
    ایک سوال اور کہ کیا اردو کے افعال کی فہرست میسر ہوسکتی ہے؟
    آپ کا یہ نکتہ سمجھ نہیں آیا کہ اردو میں ہونا اور کرنا کے سوا دوسرے افعال مشکل سے ملتے ہیں۔ کیا آنا، جانا، کھانا، پینا وغیرہ افعال نہیں ہیں؟

  • عدنان عمر صاحب، آپ کا سوال بہت اہم ہے۔ یہ مسئلہ سب سے پہلے محمد حسن عسکری نے غالباً 50 کی دہائی میں ایک مضمون ’قحط الافعال‘ میں اٹھایا تھا، لیکن اس کے بعد سے اس پر زیادہ بات نہیں ہوئی۔

    جہاں تک میرا خیال ہے اردو میں بہت سے افعال موجود ہیں، لیکن وہ روزمرہ استعمال میں نہیں آتے اور بہت سے لکھنے والے کرنا اور ہونا لکھ کر گلوخلاصی کر دیتے ہیں۔

    اگر اچھی اردو لغات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں افعال بیکار پڑے ہوئے ہیں اور کوئی انہیں گفتگو میں یا تحریر میں نہیں برتتا۔ میرے ایک دوست نے ایک بار پلیٹس ڈکشنری سے دو ہزار کے قریب افعال کی فہرست نکالی تھی، جن میں سے 90 فیصد آج ہمارے لیے یکسر اجنبی ہیں۔

    دوسری طرف یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اچھے افعال کے بغیر نہ تو اچھی شاعری لکھی جا سکتی ہے نہ ہی موثر نثر۔ شاید ہمارے ادب کے زوال کی ایک وجہ افعال کی قلت بھی ہے، جس پر ہم سب کو غور کرنا چاہیے۔

  • January 7 کو ترمیم کیا

    جناب ظفر صاحب! اردو افعال کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرنے کا شکریہ۔ سمجھ نہیں آتا کہ ہمارے ملک میں زبانوں کی ترقی و ترویج پر کیوں زور نہیں دیا جاتا۔ شاید ہم نیچرل سائنسز کے سحر میں سوشل سائنسز کو بے وقعت سمجھنے لگے ہیں۔

    موضوعِ زیرِ بحث سے متعلق یہی پوچھنا تھا کہ کیا
    اردو افعال کی کوئی آن لائن فہرست موجود ہے جس سے استفادہ کیا جاسکے؟ ایک گذارش اور کہ مجھ جیسے کم علم رکھنے والے افراد کے تخیل کو مہمیز کرنے کے لیے کیا آپ متروک افعال پر مبنی چند ایسے جملے بطور مثال عنایت فرما سکتے ہیں جن سے علمی پیاس کچھ بجھ جائے۔ یا پھر عسکری صاحب کا مضمون ہی میسر ہو جائے۔ میں ممنون رہوں گا۔

  • جناب، آپ اس کتاب کے صحفہ 276 پر محمد حسن عسکری کا مضمون قحط الافعال پڑھ سکتے ہیں:

    https://www.rekhta.org/ebooks/majmua-mohammad-hasan-askari-mohammad-hasan-askari-ebooks?lang=ur

    میں اپنے دوست سے افعال کی فہرست کا پتہ کرتا ہوں

  • دوست سے پتہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ مجھے ان کے مضمون کا لنک مل گیا ہے جس میں بقول ان کے 4100 سے زیادہ یک لفظی اردو افعال موجود ہیں۔ ان کے بلاگ کا پتہ یہ ہے

    http://roshbaby.blogspot.com/2008/04/blog-post.html

  • جزاک اللّہ جناب، شکریہ، مہربانی، نوازش۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔