The way you access our dictionary content is changing.

As part of the evolution of the Oxford Global Languages (OGL) programme, we are now focussing on making our data available for digital applications, which enables a greater reach in delivering and embedding our language data in the daily lives of people and providing more immediate access and better representation for them and their language.

Because of this, we have made the decision to close our dictionary websites.
Our Oxford Urdu living dictionary site closed on 31st March 2020, and this forum closed with it.

We would like to warmly thank everyone for your participation and support throughout these years – we hope that this forum, and the dictionary site, have been useful
You were instrumental in making the Oxford Global Languages initiative a success!

Find out more about what the future holds for OGL:
https://languages.oup.com/oxford-global-languages/

اردو میں افعال کی قلت کیوں؟

عہد ساز اردو نقاد محمد حسن عسکری نے اپنے مضمون قحطِ افعال میں لکھا ہے کہ اردو میں ایک زمانے میں بہت سے افعال استعمال ہوتے تھے لیکن رفتہ رفتہ ان کا رواج کم ہوتا چلا گیا اور اب یہ حالت ہے کہ ہونا اور کرنا کے سوا دوسرا فعل مشکل سے ملتا ہے۔

عسکری صاحب کا مزید کہنا ہے کہ افعال کی قلت سے نہ صرف ادب کمزور پڑ جاتا ہے کہ بلکہ یہ معاشرے کے مجموعی انحطاط کی بھی علامت ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اردو میں شاید ہزار سے زیادہ افعال ہوں گے مگر ان میں سے آج (یعنی 1953 میں جب انہوں نے یہ مضمون لکھا تھا) سو سے بھی کم افعال برتے جا رہے ہیں۔

مجھے نہ صرف عسکری صاحب کا یہ تجزیہ سولہ آنے درست معلوم ہوتا ہے بلکہ میرے خیال سے افعال کی حالت مزید پتلی ہو گئی ہے اور اگر اس وقت سو افعال تھے، تو وہ آج بیس پچیس سے زیادہ نہیں ہوں گے۔

آپ کا کیا خیال ہے، کیا آپ اس معاملے میں عسکری سے اتفاق کرتے ہیں؟

تبصرے

  • اردو زبان میں افعال کی واقعی قلت محسوس ہوتی ہے اور انگریزی زبان بلحاظِ افعال بہت امیر معلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی کے بہت سے افعال کے اردو مترادفات موجود نہیں ہیں۔
    اردو میں ایسا کیوں ہے یا پھر یہ سوال کہ بچے کچھے افعال کیوں متروک ہوتے جا رہے ہیں، اس کا جواب مجھ جیسے ناقص العلم شخص کے پاس نہیں۔ البتہ میری رائے میں اس حوالے سے اردو اور ہندی کا موازنہ کرنا سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔
    ایک سوال اور کہ کیا اردو کے افعال کی فہرست میسر ہوسکتی ہے؟
    آپ کا یہ نکتہ سمجھ نہیں آیا کہ اردو میں ہونا اور کرنا کے سوا دوسرے افعال مشکل سے ملتے ہیں۔ کیا آنا، جانا، کھانا، پینا وغیرہ افعال نہیں ہیں؟

  • عدنان عمر صاحب، آپ کا سوال بہت اہم ہے۔ یہ مسئلہ سب سے پہلے محمد حسن عسکری نے غالباً 50 کی دہائی میں ایک مضمون ’قحط الافعال‘ میں اٹھایا تھا، لیکن اس کے بعد سے اس پر زیادہ بات نہیں ہوئی۔

    جہاں تک میرا خیال ہے اردو میں بہت سے افعال موجود ہیں، لیکن وہ روزمرہ استعمال میں نہیں آتے اور بہت سے لکھنے والے کرنا اور ہونا لکھ کر گلوخلاصی کر دیتے ہیں۔

    اگر اچھی اردو لغات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں افعال بیکار پڑے ہوئے ہیں اور کوئی انہیں گفتگو میں یا تحریر میں نہیں برتتا۔ میرے ایک دوست نے ایک بار پلیٹس ڈکشنری سے دو ہزار کے قریب افعال کی فہرست نکالی تھی، جن میں سے 90 فیصد آج ہمارے لیے یکسر اجنبی ہیں۔

    دوسری طرف یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اچھے افعال کے بغیر نہ تو اچھی شاعری لکھی جا سکتی ہے نہ ہی موثر نثر۔ شاید ہمارے ادب کے زوال کی ایک وجہ افعال کی قلت بھی ہے، جس پر ہم سب کو غور کرنا چاہیے۔

  • January 7 کو ترمیم کیا

    جناب ظفر صاحب! اردو افعال کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرنے کا شکریہ۔ سمجھ نہیں آتا کہ ہمارے ملک میں زبانوں کی ترقی و ترویج پر کیوں زور نہیں دیا جاتا۔ شاید ہم نیچرل سائنسز کے سحر میں سوشل سائنسز کو بے وقعت سمجھنے لگے ہیں۔

    موضوعِ زیرِ بحث سے متعلق یہی پوچھنا تھا کہ کیا
    اردو افعال کی کوئی آن لائن فہرست موجود ہے جس سے استفادہ کیا جاسکے؟ ایک گذارش اور کہ مجھ جیسے کم علم رکھنے والے افراد کے تخیل کو مہمیز کرنے کے لیے کیا آپ متروک افعال پر مبنی چند ایسے جملے بطور مثال عنایت فرما سکتے ہیں جن سے علمی پیاس کچھ بجھ جائے۔ یا پھر عسکری صاحب کا مضمون ہی میسر ہو جائے۔ میں ممنون رہوں گا۔

  • جناب، آپ اس کتاب کے صحفہ 276 پر محمد حسن عسکری کا مضمون قحط الافعال پڑھ سکتے ہیں:

    https://www.rekhta.org/ebooks/majmua-mohammad-hasan-askari-mohammad-hasan-askari-ebooks?lang=ur

    میں اپنے دوست سے افعال کی فہرست کا پتہ کرتا ہوں

  • دوست سے پتہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ مجھے ان کے مضمون کا لنک مل گیا ہے جس میں بقول ان کے 4100 سے زیادہ یک لفظی اردو افعال موجود ہیں۔ ان کے بلاگ کا پتہ یہ ہے

    http://roshbaby.blogspot.com/2008/04/blog-post.html

  • جزاک اللّہ جناب، شکریہ، مہربانی، نوازش۔

  • جناب ظفر صاحب! آپ کی مہربانی سے عسکری صاحب کا مضمون بھی پڑھا اور آپ کے دوست کی یک لفظی افعال کی فہرست کا بھی سرسری مطالعہ کیا۔

    عسکری صاحب کے ادبی رنگ میں لکھے مضمون نے سوچ کے بعض نئے در وا کیے۔ لیکن تشنگی یوں رہی کہ یہ مضمون خالص لسانیاتی رنگ میں نہیں لکھا گیا تھا۔ باقی وہ فہرست بھی انتہائی مفید ہے لیکن اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کا نہایت باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ آیا ان افعال کو جدید اردو میں ضم کیا جا سکتا ہے۔

    اور ہاں، آج ایک نئے لیکن متروک فعل سے شناسائی ہوئی۔ جگر مراد آبادی کی ایک مشہورِ زمانہ غزل ہے جس کا مطلع ہے

    اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے​
    سمٹے تو دلِ عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے​

    اس غزل کا مقطع یہ ہے

    آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگر لیکن​
    بندھ جائے سو موتی ہے، رہ جائے سو دانہ ہے​

    یہاں آخری مصرع کا پہلا لفظ 'بَندھ' نہیں بلکہ 'بِندھ' ہے یعنی بکسرِ اول۔
    ​بِندھنا کے معنی پرونا یا سوراخ کرنا ہوتے ہیں ۔ جیسے کان یا ناک بِندھنا وغیرہ ۔
    مجھے تو یہ یک لفظی فعل اچھا لگا۔ اسی طرح کے اور نہ جانے کتنے فعل ہماری نثر اور نظم میں مدفون ہیں۔

  • عدنان عمر صاحب، مجھے خوشی ہے کہ آپ کو عسکری صاحب کا مضمون پسند آیا۔ وہ چونکہ عام عوام کے لیے لکھا گیا تھا نہ کہ ماہرینِ لسانیات کے لیے، اس لیے اس میں دلچسپی کا پہلو برقرار رکھنا ضروری تھی۔ ویسے بھی عسکری صاحب خود ماہرِ لسانیات نہیں تھے، البتہ انہوں نے اس ضمن میں نہایت مفید اشارے ضرور دے دیے۔ ایک تو مرض کی تشخیص کر ڈالی، پھر اس کی وجہ بھی بتا دی اور علاج بھی تجویز کر دیا۔

    آپ نے جگر مرادآبادی کے شعر میں ”باندھے” جانے والے والے لفظ ”بندھ” کی دلچسپ شرح پیش کی ہے اور مجھے یہ اعتراف ہے کہ میں اس سے قبل اس لفظ کو بندھ ہی پڑھتا رہا اور بِندھ کے مطلب سے یکسر بےخبر تھا، حالانکہ بندھ مفتوح پڑھا جائے تو مصرع بےمعنی ہو جاتا ہے۔

    اس سے یہ بات مزید کھل کر سامنے آتی ہے کہ اردو میں ہزاروں افعال لاوارث پڑے ہوئے ہیں، کوئی ان کا پرسان نہیں ہے اور بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ اب ان میں زندگی کی چنگاری بیدار کرنا بھی بےحد مشکل بلکہ ناممکن ہے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ جو اردو بچی کھچی حالت میں ہمارے پاس باقی بچ گئی ہے اس کی بھی حالت یہ ہے کہ اگر آپ کوئی فقرہ بغیر انگریزی لفظ استعمال کیے بولنے کی کوشش کریں تو لوگ فوراً الزام لگا دیتے ہیں کہ یہ گاڑھی اردو بول رہا ہے!۔

    دوسری طرف اچھے بھلے مستعمل اردو لفظوں کی جگہ انگریزی لفظ برتے جا رہے ہیں اور ابھی سے کئی عام اردو لفظ بیگانے لگنے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر ریلی نے لفظ جلوس کا جلوس نکال دیا ہے، لیڈر نے رہنما کو پرے دھکیل دیا ہے اور رکن/ارکان کی زمین پر ممبر/ممبران نے قبضہ کر لیا ہے۔

    یہ فقط دو چار لفظوں کا قصہ نہیں، اسی طرح کی سینکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

    آپ خود ہی بتائیے کہ جب حالت یہ ہو تو پھر اردو کے صدیوں سے تہہِ خاک چھپے ہوئے افعال کے موتیوں کو کون غواص غوطہ لگا کر باہر نکالے گا اور اور اگر بالفرضِ محال کوئی سرپھرا نکال بھی لے تو ان کی قدر سمجھنے والا کون ہو گا؟

  • مفصل جواب کے لیے شکریہ ظفر صاحب۔ سچ بات یہ ہے کہ فعل "بِندھنا" سے میں بھی واقف نہیں تھا۔ یہ تو ایک صاحب کی تحریر میں پڑھا تو پتہ چلا، ورنہ میری اردو زیادہ اچھی نہیں ہے۔

    باقی آپ کی بات میں بہت وزن ہے کہ اردو افعال ہی نہیں، اسماء و صفات بھی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یعنی متروک الفاظ کا کیا رونا، یہاں تو بچے کچھوں میں سے بھی بہت سے جاں بلب ہیں۔ ہم لوگ اپنی زبان سے اتنے غافل ہیں کہ ہمیں انتظار حسین، مشاق احمد یوسفی اور شان الحق حقی جیسے اہلِ علم اور اہلِ درد بھی ہلا نہیں سکے۔ ایسے لوگوں نے اپنی پوری زندگی زبان و ادب کے لیے وقف کر دی لیکن ہم لوگوں نے کچھ بن کے نہ دیا۔

    لیکن اب کِیا کیا جائے؟ کیا ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھ جایا جائے؟ یا شکست تسلیم کر کے اپنے بچوں سے کہا جائے کہ بیٹا اردو جیسی ترقی پذیر زبان کو جھٹک کر انگریزی جیسی ترقی یافتہ زبان کو اوڑھنا بچھونا بنا لو۔ جو غلطی ہم نے کی تم نہ دہراؤ۔ مجھے دکھ ہوتا کہ جب شکیل عادل زادہ صاحب جیسے اردو دان یہ کہتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی ہی پڑھتے ہیں، اردو زبان ان کی لیے ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔

    ظفر صاحب، آپ ہی مشورہ دیں کہ اب کیا کِیا جائے۔ زبان کے نوحے پڑھے جائیں یا انگریزی کا دامن تھام لیا جائے؟ یا پھر اردو کو بچانے کے انفرادی اور اجتماعی سطح پر سنجیدہ کوششیں کی جائیں؟

  • آپ کی یہ بات کہ ہونا اور کرنا کے سوا دوسرا فعل کم ہی ملتا ہے، سے ایک آسان مثال ذہن میں آئی کہ اسم 'بات' کا یک لفظی فعل 'بتیانا' اب متروک ہوگیا ہے اور اس کی جگہ 'باتیں کرنا' نے لے لی ہے۔

  • عدنان صاحب، کیا جائے، اسی سوال کا جواب یہ فورم ، یہ ویب سائٹ اور اس کا متعلقہ فیس بک صفحہ ہیں۔ یہاں ہم آپ جیسے اردو کے چاہنے والوں کے ساتھ مل کر کوشش کر تو رہے ہیں کہ کچھ نہ کچھ کیا جائے۔

    آپ کو یہ جان کر یقیناً مسرت ہو گی کہ اوکسفرڈ اردو ڈکشنری میں اب تک صارفین نے دس ہزار سے زیادہ الفاظ کا اضافہ کیا ہے، اور لوگوں کی مدد کی بدولت یہ ڈکشنری اب اردو کی سب سے جدید لغت بن گئی ہے جس میں گذشتہ چند برسوں کے اندر اندر زبان میں شامل ہونے والے الفاظ (مثال کے طور پر سہولت کار، ماموں بنانا، چھپر ہوٹل وغیرہ) بھی شامل ہیں۔

    یہ تو ہم کر رہے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ اس میں پورے معاشرے کو ہاتھ بٹانا پڑے گا۔ لکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ لکھیں، اچھا لکھیں، بہت لکھیں اور لوگوں کے دلوں پر دستک دیں۔

    میڈیا نے کسی حد تک یہ کام کیا ہے کہ اردو کو بہت سے لوگوں کے لیے ذریعۂ روزگار بنا دیا ہے، اس سے بہتری کی امید ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

    سوم یہ کہ اکادمی ادبیات، مقتدرہ قومی زبان، بک فاؤنڈیشن، ڈکشنری بورڈ، سائنس بورڈ، وغیرہ کی نوعیت کے درجن بھر سرکاری ادارے قائم ہیں جو اربوں کا بجٹ کھا رہے ہیں لیکن کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کو آگے بڑھ کر سرگرم ہونا پڑے گا۔

    لیکن سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ زبان اس وقت ترقی کرتی ہے جب اس سے معیشت وابستہ ہو۔ لوگوں کو پتہ ہو کہ یہ مجھے یہ زبان سیکھ کر اچھا روزگار ملے گا تبھی وہ اس پر توجہ دیں گے۔ فی الحال تو سوائے چند میڈیا اداروں کے اور کہیں اردو کی کھپت نہیں ہے۔

    البتہ امید کی ایک کرن ضرور پیدا ہوئی ہے۔ حالیہ برسوں میں فیس بک اور وٹس ایپ نے یہ کیا ہے کہ کم از کم لوگوں کو اردو میں ٹائپ کرنا سکھا دیا ہے۔ اب کروڑوں لوگ روزانہ اردو لکھتے اور پڑھتے ہیں۔

    شاید اسی خاکستر سے کچھ چنگاریاں بھڑکیں۔

  • اردو والوں نے شروع شروع میں چند فارسی مصادر کو اردوانے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ الفاظ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر ہی ختم ہو گئے۔ فرمودن سے فرمانا، بخشیدن سے بخشنا/بخشوانا، شرمیدن سے شرمانا، قوم سے قومیانا (آخر الذکر نسبتا جدید مثال ہے) اور شاید دو تین اور۔ اس کے بعد ٹینکی خالی ہو گئی۔

    اگر یہی کام جاری رہتا تو اردو کہیں زیادہ ثروت مند ہو سکتی تھی۔ انگریزی کو دیکھیے کہ انھوں نے پہلے پاور سے امپاور نکالا، پھر اسے امپاورمنٹ میں تبدیل کر دیا۔ ہم ابھی تک سوچ رہے ہیں کہ طاقت سے طاقتیانا بنانا غلط ہے یا صحیح۔۔

  • ماشاءاللہ ظفر صاحب، بہت امید افزا باتیں کی ہیں آپ نے۔ واقعی یہ کسی ایک شخص کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ یہ تو اجتماعی کاوش ہے۔ اب دیکھیے قطرے پہ گہر ہونے تک کیا گزرتی ہے۔ اس حوالے سے میری کوئی خدمت درکار ہو تو ضرور یاد کیجیے گا۔

    اردو میں ٹائپنگ انتہائی خوش آئند رحجان ہے۔ اس عمل کو مزید انگیخت کرنے کے لیے کیا ہی اچھا ہو کہ ماہرینِ لسانیات و شماریات کی رہنمائی میں اردو زبان کے لیے ایک متفقہ کی بورڈ لے آؤٹ تیار کیا جائے، جو اردو حروف کے استعمال کی فریکوئنسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہو۔ یوں اردو ٹائپنگ سہل تر اور تیز تر ہو جائے گی۔ لیکن پھر وہی بات کہ ایسے پراجیکٹس کے لیے سرکاری سرپرستی درکار ہوتی ہے۔

    جہاں تک فارسی مصادر کو اردوانے کی بات ہے، اس سمت میں جاری کام واقعی رک گیا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اردو کی خدمت کا بیڑا جو ہماری پچھلی نسلوں نے اٹھایا تھا، ہم اسے اٹھانے کو تیار نہیں۔ بہر حال تسلی کی بات یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ اس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔

  • عدنان صاحب، کی بورڈ کا مسئلہ تو بہت ٹیڑھا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ لوگ انگریزی کی بورڈ کے راستے اردو کی طرف آتے ہیں، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے انگریزی کی بورڈ کے استعمال میں مہارت حاصل کی ہے اسی کو اردو پر بھی لاگو کر دیں، اس لیے وہ کوئی نیا کی بورڈ سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ٹائپ کرنے کے لیے 99 فیصد لوگ فونیٹک کی بورڈ استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی نیا کی بورڈ بنا تو اسے قبولِ عام ملنا مشکل ہو جائے گا۔

  • February 2 کو ترمیم کیا

    ظفر صاحب! میری معلومات کے مطابق آج بھی فونیٹک کی بورڈ سے ہٹ کر دوسرے کی بورڈ استعمال کرنے والے معقول تعداد میں موجود ہیں۔ ہاں یہ کہنا درست ہوگا کہ پچھلے چند برسوں میں ٹائپنگ سیکھنے والوں کی اکثریت فونیٹک ہی سیکھ رہی ہے۔

    میری دانست میں یہاں ایک چیز اور قابلِ غور ہے۔ فونیٹک کی بورڈ میں کئی حروف شفٹ اور متعلقہ کلید کو دبانے سے ٹائپ ہوتے ہیں۔ یعنی ان حروف کی ٹائپنگ سے ٹائپنگ کی رفتار ٹوٹ جاتی ہے۔ انگریزی میں تو اپر کیس اور لوئر کیس کی وجہ سے شفٹ کی کا التزام سمجھ میں آتا ہے؛ لیکن اردو میں کیا مجبوری ہے۔

    فونیٹک کے برعکس مونوٹائپ کی بورڈ کو دیکھ لیجیے۔ اس میں تمام حروف بغیر شفٹ کے ٹائپ ہوتے ہیں، کیونکہ کی بورڈ کی اوپر والی قطار یعنی نیومیرک کیز والی قطار بھی حروف کی ٹائپنگ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

    کیا یہ پہلو قابلِ توجہ نہیں؟

  • عدنان صاحب، مجھے آپ کی بات سے اصولی طور پر مکمل اتفاق ہے۔ لیکن دوسری طرف آپ دیکھیے کہ انگریزی کا مستعمل کورٹی کی بورڈ تمام تر خامیوں کے باوجود آج بھی دنیا بھر میں رائج ہیں، حالانکہ ماہرین ایک عرصے سے متفق ہیں کہ یہ کی بورڈ ٹائپنگ کی رفتار کو سست کر دیتا ہے، اور دراصل اسے بنانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ لوگ زیادہ تیز رفتاری سے ٹائپ نہ کر سکیں۔
    لیکن کئی عشروں کی مسلسل کوششوں کے باوجود ڈورک کی بورڈ رائج نہیں ہو سکا، حالانکہ وہ کئی اعتبار سے کورٹی پر فوقیت رکھتا ہے۔

    اب میری ذاتی بپتا بھی سن لیجیے۔ میں نے خود فونیٹک سے آغاز کیا تھا، اور دس بارہ سال اسی پر ہاتھ صاف کیا۔ لیکن پھر ایک ادارے میں کام کرنے کا اتفاق ہوا جہاں ایک اور اردو کی بورڈ رائج تھا، مجبوراً وہ سیکھنا پڑا کیوں کہ اس کے تمام سسٹمز پر وہی کی بورڈ نصب تھا۔ اس نئے کی بورڈ پر مہارت حاصل کرنے میں کئی مہینے صرف ہوئے اور جو کوفت ہوئی اس کا حساب نہیں۔

    پھر سات سال بعد جب وہ ادارہ چھوڑا تو دوبارہ فونیٹک کی طرف آئے لیکن پتہ چلا کہ انگلیاں اب فونیٹک کی عادی نہیں رہیں، حالانکہ پہلے اچھی خاصی رفتار حاصل کر لی تھی۔ ہفتہ دس دن سر کھپانے کے بعد طوعاً و کرہاً اسی ادارے کا کی بورڈ دوبارہ انسٹال کر لیا حالانکہ وہ فونیٹک سے بھی زیادہ گھن چکر ہے اور اس میں کاما اور فل سٹاپ ڈالنے تک کے لیے شفٹ کی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

    قصہ مختصر کہ انسان عادت کا غلام ہے اور پرانی عادتوں سے چھٹکارا پانا آسان نہیں ہوتا۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔