قمیص کا الجھا ہوا ریشم

(سب سے پہلے تو وضاحت کہ اصل لفظ قمیص ہے، قمیض نہیں)

قمیص بےحد عجیب و غریب لفظ ہے اور اس کا مطالعہ کرتے وقت پتہ چلتا ہے کہ زبانیں کہاں سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں کہ ایک دوسری سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بقول امجد اسلام امجد

ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے کو جدا کس سے کروں

اس لفظ میں ق اور ض سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ عربی کا لفظ ہو گا اور جواب درست ہے کہ اردو اور فارسی میں یہ لفظ عربی ہی سے آیا ہے۔ انگریزی میں ایک لفظ رائج ہے

Chemise

جسے شمیز بولا جاتا ہے اور یہ وہ پتلے کپڑے سے بنی قمیص ہوتی ہے جسے عورتیں لباس کے اندر پہنتی ہیں۔ اگر کوئی یہ گمان کرے تو حق بجانب ہو گا کہ شاید یہ لفظ عربی ہی سے انگریزی اور یورپ کی دوسری زبانوں میں پہنچا ہے۔ لیکن جب شمیز کا اشتقاق دیکھا جائے تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ معاملہ اس کے الٹ ہے، یعنی عربی نےیہ لفظ لاطینی ’کمیسا‘ سے لیا ہے۔

لاطینی کمیسا کہاں سے آیا؟ اس کے جواب کے لیے ایک بار پھر پروٹو انڈو یورپین کا سہارا لینا پڑتا ہے، اور لغات کے مطابق وہاں ایک لفظ ’کام‘ ہے جس کا مطلب ہے آڑ یا پردہ۔ سو یہ سلسلہ وہیں سے شروع ہوا اور اس کے بعد چل سو چل۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔