The way you access our dictionary content is changing.

As part of the evolution of the Oxford Global Languages (OGL) programme, we are now focussing on making our data available for digital applications, which enables a greater reach in delivering and embedding our language data in the daily lives of people and providing more immediate access and better representation for them and their language.

Because of this, we have made the decision to close our dictionary websites.
Our Oxford Urdu living dictionary site closed on 31st March 2020, and this forum closed with it.

We would like to warmly thank everyone for your participation and support throughout these years – we hope that this forum, and the dictionary site, have been useful
You were instrumental in making the Oxford Global Languages initiative a success!

Find out more about what the future holds for OGL:
https://languages.oup.com/oxford-global-languages/

ناراضگی

لفظ ناراضگی بولا جانا چاہیے یا ناراضی

تبصرے

  • تاج دین صاحب، ناراضی نسبتاً زیادہ بہتر ہے، البتہ میں اس بات پر بالکل اصرار نہیں کروں گا کہ ناراضگی غلط ہے۔

  • جناب ملک ایک براداری ھے یا قوم رینمائی کرۓ
  • وہ الفاظ جو ہ پر ختم ہوتے ہیں ان کے ساتھ ہی، گی لگائی جا سکتی ہے۔ جیسے آہستہ سے آہستگی ہو گا لیکن درست سے درستگی غلط ہو گا، اسے درستی لکھا اور پڑھا جائے گا۔ اسی طرح ناراض کا لفظ ہ پر ختم نہیں ہو رہا اسے ناراضگی لکھنا غلط ہو گا، اسے ناراضی لکھیے، بہتر یہی ہے کہ ناراض ہونے سے بچیں، تاکہ غلط لفظ کا استعمال بند ہو جائے
  • عبید رضا صاحب، آپ کی بات درست ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قواعد کی رو سے خود لفظ ناراض بھی غلط ہے، کیوں کہ اس میں عربی لفظ راض کو فارسی لاحقے نا سے ملا دیا گیا ہے۔ اس لیے اگر قواعد پر اصرار کیا جائے تو لفظ ناراض سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ دراصل زبان کتابوں میں لکھے قواعد کا نام نہیں، بلکہ لفظ کے رواج اور چلن پر ہے۔ اسی لیے میں نے اوپر عرض کیا تھا کہ میں اس بات پر اصرار نہیں کرتا کہ ناراضگی غلط ہے۔

    دوسری بات یہ ہے کہ اسی ’وزن` کے کئی دوسرے لفظ بھی اردو میں عام رواج پا گئے ہیں، مثلاً موجود سے موجودگی اور ادا سے ادائیگی۔ قواعد کے مطابق انھیں بھی علی الترتیب موجودی اور ادائی ہونا چاہیے۔

  • Baja farmaya aap ne
  • ناراضی،حیرانی،محتاجی اور درستی کی جگہ ناراضگی،حیرانگی،محتاجگی اور درستگی لکھنااور بولنا فصاحت اورقاعدے کے خلاف ہے۔فارسی قاعدہ یہ ہے کہ اگر اسمِ صفت کا آخری حرف ہ نہ ہو تو حاصل مصدر بنانے کے لیےاس کے آخر میں "ی" لگاتے ہیں چناچہ ناراض،حیران،محتاج درست وغیرہ جتنے اسما ئے صفت ہ پر ختم نہیں ہوتےان کے حاصل مصدر ناراضی،حیرانی،محتاجی درستی بنتے ہیں۔صرف دو لفظ ادا اور کرخت اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں ان کے حاصل مصدر ادائی اورکرختی کے بجائے ادائیگی اور کرختگی بنائے گئے ہیں۔ورنہ اصولََا جب کسی اسمِ صفت کا آخری حرف ہ ہو تو ہ کی جگہ "گی" لگا کر اس کا حاصل مصدر بنایا جاتا ہے۔مثلاََ عمدہ سے عمدگی زندہ سے زندگی نمایندہ سے نمایندگی درندہ سے درندگی سنجیدہ سے سنجیندگی مردانہ سے مردانگی کمینہ سے کمینگی موجودہ سے موجودگی وغیرہ۔اگرہم ناراض جو کہ عربی لفظ راضی سے فارسی لاحقے نا سے لگا کے بنایا گیا ہے جو کہ قواعد کی رُو سے غلط ہے۔اگر اسے اردو لغت سے نکال دیتے ہیں تو پھر نا لاحقے سے بہت سے الفاظ عربی الفاظ کے ساتھ بنائے گے ہیں ان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔مثلاََنابالغ،نالائق،نامحرم ،نامعقول، ناواقف، ناخلف وغیرہ۔اس سلسلے میں میں ہمارے ہاں غلط العام صحیح کا مشہور اصول اپنایا جاتا ہے۔لیکن غلط العام سے مراد وہ تلفظ ہے جو عام اور خاص، جاہل اور عالم سب میں عام ہو جائے مثلاََ قلفی جو اصل میں قفلی ہے جوکہ قفل معنی تالا سے ہے۔نَشتر جو نیشتر کا مخفف ہے جو صیحح طور پر نِشتر ہونا چاہیے۔لیکن یہ الفاظ اہلِ زبان میں اس قدر عام ہو چکے ہیں کہ ان کو صیحح مان لیا گیا ہے اور انھیں قلفی اور نَشتر ہی لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ناراضگی،خیرانگی،درستگی،محتاجگی،فوتگی یا فو تیگی،نشوونُما وغیرہ غلط العام نہیں بلکہ غلط العوام ہیں اور انہیں درست نہ سمجھا جائے۔ان الفاظ کا ابھی تک اتنا چلن نہیں ہوا کہ انہیں غلط العام مان لیا جائے۔ویسے بھی اہلِ اعلم کے مقابلہ میں عوام ہمیشہ اکثریت ہی میں ہی ہوا کرتے ہیں لیکن عوام کی ایسی غلطیاں غلط العام کے تحت آ کر صحت کا جامہ نہیں پہن سکتیں۔

  • موجودگی اور ادائیگی کی جو مثال دی گئی ہے وہ ابھی تک حل طلب ہے۔ اگر اس کی بھی کوئی وضاحت ہو جائے تو بہتر ہو گا۔ کیونکہ جہاں تک اصول کی بات ہے تو اصول تو یہ ہے کہ مروجہ، روزمرہ زبان سے قواعد کا استخراج کیا جاتا ہے نہ کہ قواعد سے زبان پیدا ہوتی ہے۔ زبان ہر روز ارتقا پذیر ہے اس بحر بیکراں کو کوزہ میں بند کرنا مشکل ہے

  • طاہر صاحب، جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا، زبان اسے کہتے ہیں جو بولی جاتی ہے، نہ کہ وہ جو گرامر کی کتابوں میں بند ہے۔ کتابیں جو کہتی پھریں، جب ننانوے اعشاریہ نو نو فیصد لوگ ادائیگی اور موجودگی بولتے اور
    لکھتے ہیں تو پھراس سیلاب پر کون بند باندھ سکتا ہے۔

    جس پیا چاہے وہی سہاگن۔۔

  • موجودگی لفظ موجودہ سے بنا ہے جس کے آخر میں ہ موجود ہے۔
  • جنابِ والا، موجود کا مطلب حاضر ہے، اس سے موجودگی یعنی حاضری بنا۔ موجودہ اور چیز ہے، اس سے کا مطلب حالیہ ہے۔ اس سے حاضری کے معنی والا موجودگی کیسے بن سکتا ہے؟

    دوسری بات یہ ہے کہ فارسی لغات میں موجودی تو ملتا ہے، لیکن موجودگی نہیں۔

  • زبان پہلے اور قواعد بعد میں وجود پاتے ہیں اس لیے قواعد کی خاطر زبان نہیں بدلی جاسکتی ہاں زبان کے لیے قواعد بدلے جاسکتے ہیں۔جیسے عربی کے ساتھ فارسی کا ملاپ قواعد کی رو سے غلط لیکن زبان کے استعمال میں جائز ہے

  • بالکل درست فرمایا اصغر صاحب۔ مجھے آپ کی بات سے مکمل اتفاق ہے۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔