خربوزہ

یہ تو معلوم ہے کہ یہ لفظ فارسی کا ہے اور وسطی فارسی میں خر (گدھا) + بوزہ (کھیرا) سے وجود میں آیا ہے، اور فارسی ہی سے یونانی کارپوزی، روسی آربوز، پولستانی ہربوز وغیرہ میں ڈھلا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس پھل کا گدھے سے کیا تعلق؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ یہاں خر کا مطلب کچھ اور ہو؟

اس شک کو تقویت یہاں سے ملتی ہے کہ اس سے ملتا جلتا پھل تربوز ہے اور غالباً اس پھل کے اندر موجود پانی کی بڑی مقدار کی وجہ سے یہ نام پڑا ہے۔ تو اسی طرح ممکن ہے کہ خر کا بھی کچھ اور مطلب ہو جس کا تعلق گدھے سے نہ ہو؟

تبصرے

  • یہ پوسٹ لکھ بیٹھا تو چند دن بعد یونہی محمد حسین آزاد کی کتاب سخندانِ فارس اٹھا لی۔ اس کتاب کا موضوع فارسی زبان ہے اور اس میں آزاد فارسی زبان کے الفاظ کے اشتقاق پر عمدہ بحث کرتے ہیں اور وہ بھی اپنے دلفریب انداز میں۔

    یہ بےحد دلچسپ کتاب آزاد نے وسطی ایشیا کی ایک مہم سے واپسی کے بعد لکھی تھی تاہم حیرت انگیز طور پر وہ اس میں جگہ جگہ دعویٰ کرتے پائے جاتے ہیں کہ وہ ایران سے ہو کے آئے ہیں، حالانکہ ایران جانے کا موقع انہیں اس کتاب کی اشاعت کے کئی برس بعد میسر آیا۔

    خیر آپ کہیں گے کہ آزاد جانیں اور ان کا خدا، ان کے ذکر کا یہ کیا محل ہے؟

    تو صاحبو اس کتاب کی ورق گردانی کرتے کرتے اچانک ایک خربوزہ آنکھوں کے سامنے تیر گیا۔ اصلی والا نہیں، بلکہ لفظ خربوزہ۔

    آزاد اس لفظ کے بارے میں قیاس آرائی کرتے ہیں کہ یہ مرکب ہے خر اور بوزہ یا پزہ کا۔ خر کا مطلب وہ بڑا بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سنسکرت میں بھی کھر بڑا کے معنی میں آتا ہے گویا خر اور کھر دونوں وہ ہیں جسے آج کی لسانیات میں

    cognates

    کہا جائے گا۔

    مزید یہ کہ وہ بوزہ کا مطلب پھل بتاتے ہیں، یعنی خربوزہ ہوا، بڑا پھل۔

    آزاد کی اسی منطق کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تربوزہ کا مطلب ہوا تر پھل، جو خاصا قرینِ قیاس ہے۔

    میں کسی اور ذریعے سے آزاد کے دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا، لیکن اگر مزید کچھ ملا تو یہیں پیش کر دوں گا۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔