طوتا یا توتا؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ طوطا ط سے لکھنا غلط ہے، اسے ت سے توتا لکھنا چاہیے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو اشفاق احمد نے 82 کی دہائی میں پی ٹی وی کے لیے ڈراما سیریز لکھی تھی جس کا نام ت سے توتا کہانی تھا۔ اسی ڈرامے کی وجہ سے یہ لفظ زیادہ مشہور ہوا۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ اردو املا کے بزرجمہروں کا خیال ہے کہ چونکہ طوطا/توتا ہندی کا لفظ ہے اس لیے اس میں عربی ط نہیں ہونی چاہیے۔ رواجِ عام اگر ط سے ہے تو ہوتا رہے، زبان کو اصول و قواعد کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

اگر کوئی ان سے کہے کہ بھئی برطانیہ بھی تو ط سے لکھتے ہیں، حالانکہ انگریزی میں بھی ط نہیں ہے، بلکہ ہ بھی نہیں ہے اس لیے اسے بریٹانیا لکھیں، تو فرماتے ہیں کہ یہ نام ہم نے عربی سے لیا ہے اس لیے یہ اصلاً عربی لفظ ہے۔

ہم نے عربی میں چیک کیا تو معلوم ہوا کہ وہ برطانیہ نہیں بلکہ بریطانیا لکھتے ہیں، اس لیے ہمیں بھی بریطانیا لکھنا چاہیے، نہیں؟

آپ کا کیا خیال ہے بارے اس معاملہ کے؟

تبصرے

  • جناب ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے اپنے جنگ کے ایک شذرے میں لکھا کہ توتا درست ہے اور شذرے کے آخر میں ارشاد وارد ہوا
    " کہ لفظ طوطا طوئے سے لکھنا "غلط العام ہے
    ڈاکٹر صاحب یہ بتانا بھول گئے کہ غلط العام کا زبان میں کیا درجہ ہوتا ہے اور کن صورتوں میں "غلط العام فصیح" ہوتا ہے۔
    دوسری بات یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے شذرے کی ابتدا میں لکھا "سبز رنگ کا ایک پرندہ جسے لوگ پالتے بھی ہیں۔
    یعنی صرف سبز رنگ کے پرندے کو توتا لکھنا واجب ہے،باقی رنگ کے توتوں کو آپ طوطوں بھی لکھ سکتے ہیں۔مثلا آپ کے گھر میں میاں مٹھو والا طوطا ہے تو توتا لکھیے اور آسٹریلین توتے ہیں(جو سبز رنگ کے علاوہ بھی ہوتے ہیں۔نیلے ،پیلے) انھیں بے شک طوطے لکھیے۔
    ایک صاحب فرمانے لگے کہ "رشید حسن خاں صاحب نے اپنی معرکۃ الارا کتاب میں توتا لکھا ہے۔"بھائی آپ کے اصالت والے قانون کے مطابق تو معرکہ آرا ہونا چاہیے۔
    آگے چلیے تو جن الفاظ مبارکہ کو خاں صاحب نے اپنی اصل صحرائی زمینوں سے اکھیڑ کر ہندی میدانوں میں لگایا کر ان کے حروف و املا تک کو برباد کردیا ہے ،اصالت والے قانون کے مطابق تو "اردو املا " کا ایک بڑا حصہ غلط قرار پائے گا۔
    طوطا کو توتا لکھنے پر اصرار کرنے والے جس قفس میں طوطے کو بند کیا جاتا ہے اسے قفص کیوں نہیں لکھتے،یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی۔ عربی میں پنجرے کے لیے قفص لفظ ہے۔ص کے ساتھ اور ف پر جزم کے ساتھ لیکن اہل اردو ف پر زبر اور سین کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔
    طوظا کا اصل بے شک توتا ہی ہے لیکن اور زبانوں کی طرح اردو نے بھی امتداد زمانہ سے بہت سے لفظ خالص اردو کے بنا لیے ہیں ان ہی میں سے یہ ایک لفظ "طوطا ہے۔ اسے توتا بنانے پر اصرار زبانوں کے مزاج سے عدم واقفیت
    کی دلیل ہے۔
    ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ لفظ طوطا کےمشتق تتلاہٹ میں کیوں ت سے کیوں ہے۔اسے بھی ط سے ططلاہٹ لکھنا چاہیے۔تو اس پر یہ عرض ہے کہ اردو میں ایک ہی لفظ کے مخلتف مشتقات مختلف طرح لکھنا قابل قبول روایت ہے۔مثال کے طور پر ہم اردو میں لفظ استاد واحد کو فارسی والوں کی تقلید میں استاد ہی لکھتے ہیں اور اس لفظ کی جمع عربی کے قواعد کے مطابق اساتذہ۔اگر تمام مشتقات کے حروف کو ایک جیسا کردینے کے قاعدہ کو مان لیا جائے تو یا تو عربی کی تقلید میں استاذ کرنا پڑے گا یا فارسی والوں کی اقتدا میں اساتید و استاداں
    سو اس نقارخانے میں "توتے " کو طوطا ہی رہنے دیا جائے ورنہ بات قفس سے ہوتی ہوئی استادوں تک جا پہنچے گی۔

  • August 6 کو ترمیم کیا

    آپ نے بہت مدلل نکات پیش کیے ہیں جن سے انکار ممکن نہیں ہے۔ مزید یہ کہ عربی والے تو ط ت کے چکر میں نہیں پڑتے، اور دوسری زبانوں سے الفاظ لیتے وقت بلاتکلف ط استعمال کر لیتے ہیں، بریطانیا اس کی ایک مثال ہے۔ اس کے علاوہ ارسطو، افلاطون وغیرہ بھی سامنے کے الفاظ ہیں، قاعدے کے مطابق تو انہیں بھی علی الترتیب ارستو اور افلاتون لکھنا چاہیے تھا کہ یونانی میں تو ط سرے سے موجود نہیں ہے ۔ ۔ ۔ لیکن ایک منٹ، یونانی میں تو ارسطو/ارستو بھی نہیں ہے، وہ تو اس مفکر کو
    Ἀριστοτέλης
    لکھتے ہیں، جسے عربی میں ارستوتیلیس لکھنا چاہیے، یہ ارسطو کہاں سے آ گیا؟

    (نیز ملاحظہ ہو کہ انگریزی والے بھی یہ نام غلط لکھتے ہیں!۔)

    اسی طرح افلاطون بھی یونانیوں کے نزدیک
    Πλάτων
    ہے، جسے پلاتون لکھنا چاہیے، چلیے عربی میں پ نہیں ہے تو فلاتون لکھ دیتے، افلاطون کی کیا تک بنتی ہے؟
    (مکرر ملاحظہ ہو کہ انگریزی والوں نے یہاں بھی ڈنڈی مار کر آخری ن گرا دیا ہے)

    یونانی اور انگریزی کا ذکر آ ہی گیا ہے تو ضمناً یہ بھی سن لیجیے کہ انگریزی نے یونانی سے ایک لفظ لیا
    Ἀκαδήμεια (Akadēmeia)
    اور اسے
    Academy
    کر دیا۔

    نالائقوں کو یہ تک پتہ نہ چل سکا کہ یونانی میں حرف سی موجود ہی نہیں ہے بلکہ صرف کے پایا جاتا ہے!!!!۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔