نہ، نا اور ناں

آج کل الیکٹرانک میڈیا پر نہ اور نا کو بری طرح خلط ملط کیا جا رہا ہے حالانکہ دونوں بالکل مختلف الفاظ ہیں۔

نا
نا تاکیدی کلمہ ہے، اسے زور دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسے ’میرے گھر آؤ نا۔‘ مطلب کہ آتے کیوں نہیں۔ چند اور مثالیں: ’دیکھو آخر کو پٹے نا؟‘ ’میں نے کہا تھا نا،‘ ’وہی ہوا نا جس کا ڈر تھا۔‘
(نا بطورِ سابقہ الگ لفظ ہے۔ یہ اردو میں کبھی اکیلا نہیں آتا بلکہ ہمیشہ مرکب الفاظ میں استعمال ہوتا ہے جیسے نامنظور، نامناسب، نادان، ناآشنا وغیرہ)۔

نہ
یہ حرفِ نفی ہے، اور نہیں یا مت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

ناں
یہ بھی حرفِ نفی نہ کی ایک قسم ہے، تاہم اسے تحریر میں غیر فصیح سمجھا جاتا ہے۔

نا اور نہ کی شناخت کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اگر نا کو ہٹا دیا جائے تو مطلب تبدیل نہیں ہوتا، لیکن نہ ہٹانے سے فقرے کا مطلب الٹ ہو جاتا ہے۔
مثالیں:’میں نے کہا تھا نا، اور ’وہی ہوا نا جس کا ڈر تھا‘ میں سے نا نکالنے سے فقرے کے مجموعی معنی میں فرق نہیں پڑتا۔
لیکن اگر مندرجہ ذیل میں سے نہ نکال دیں

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

تو مطلب الٹ جائے گا۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔