اردو زیادہ پرانی زبان ہے یا پنجابی؟

April 1 کو ترمیم کیا میں یہ لفظ کہاں سے آیا؟

پنجابی اور اردو دونوں ہند آریائی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور دونوں میں بےپناہ صوتی اور نحوی انسلاکات موجود ہیں۔ یہاں انہی میں سے ایک دلچسپ امر کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

اردو الفاظ میں موجود ’س‘ کی آواز بعض اوقات پنجابی میں جا کر ’ہ‘ میں بدل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اردو کا ’چالیس‘ پنجابی میں ’چالیہہ‘ ہے، یعنی س گھستے گھستے ہ بن گیا۔ اسی طرح اردو ’سانس‘ کو پنجابی والے ’ساہ‘ کہتے ہیں، یعنی س ایک بار پھر ہ میں بدل گیا۔ ایک اور مثال ’بیس‘ کی ہے، جو پنجابی ’ویہہ‘ بن گیا ہے (یہاں و بھی بدل کر ب بن گیا، لیکن یہ کہانی پھر سہی)۔

اسی قبیل کا لفظ ’سسر‘ بھی ہے، جہاں دوسرا س ہ میں بدل کر پنجابی سوہرا ہو گیا۔

اب سوال اٹھتا ہے کہ کون سی شکل زیادہ قدیم ہے، ہ یا س؟ یہ بھی تو ممکن ہے کہ اصل لفظ چالیہہ رہا ہو، اور ہ س میں بدل کر چالیس بن گیا ہو۔
اس سوال کے جواب کی تلاش میں قدیم ماضی کے سمندر میں غوطہ لگانا پڑے گا۔ یہاں جا کر معلوم ہوتا ہے کہ لیکن یہ دلچسپ صوتی تبدیلی صرف اردو پنجابی تک محدود نہیں۔ لفظ سندھ جب ایران گیا تو اس کا س ہ میں ڈھل گیا اور ایرانی اس علاقے کو ہند، یہاں کے باسیوں کو ہندو اور زبانوں کو ہندی کہنے لگے۔ ظاہر ہے کہ سندھ زیادہ قدیم شکل ہے اور ہند نسبتاً نئی۔ سنسکرت میں سندھ دریا کو کہتے ہیں۔ یہی لفظ پشتو میں آج بھی ’سین‘ کی صورت میں مستعمل ہے جو عام دریا کے لیے استعمال ہوتا ہے، جب کہ دریائے سندھ کو ’اباسین‘ کہا جاتا ہے۔ (اگر یہاں آپ کو پیرس کا دریائے Seine
– سین— یاد آ جائے تو میرا قصور نہیں)

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جو علاقہ آج پنجاب (پانچ دریاؤں کی سرزمین) کہلاتا ہے وہ پراچین دور میں سپت سندھو کے نام سے جانا جاتا تھا، یعنی سات دریاؤں کی سرزمین (پنجاب کے پانچ دریا، جمع (غالباً) سندھ جمع سرسوتی)۔ آپ جان گئے ہوں گے کہ یہی سپت فارسی کی سرکار میں پہنچ کر ہفت بن گیا۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر سنسکرت سپتاہ فارسی کا ہفتہ کہلاتا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ سنسکرت فارسی کے مقابلے پر زیادہ قدیم زبان ہے، اس لیے یہ مفروضہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ س کی شکل ہ کے مقابلے پر زیادہ قدیم ہے۔

یاد رہے کہ اس لڑی کے عنوان سے قطعِ نظر ہم کوئی ایسا دعویٰ نہیں کر رہے کہ اردو پنجابی سے زیادہ پرانی زبان ہے، صرف چند لفظوں کی شکلیں بظاہر اردو میں زیادہ پرانی معلوم ہوتی ہیں۔

تبصرے

  • بہت دل چسپ۔ میری رائے میں قدیم سنسکرت میں "و" کی آواز تھی ہی نہیں۔ بس "ب" ہی تھی۔ اس کا اثر پشتو کے مختلف لہجوں میں اب بھی موجود ہے۔ مثلا صوبہ پختونخوا کے اکثر علاقوں میں سوتے ہوئے شخص کو کہیں گے "ویدہ دی" جبکہ بلوچستان والے کہیں گے "پیدہ دی"۔ خوف کو پختونخوا میں "ویرہ" اور بلوچستان میں "بیرہ" [ہر دو جگہ یائے مجہول] کہتے ہیں۔ اردو "بانٹ" اور پنجابی "ونڈ" کو بھی دیکھ لیجیے۔ بر سبیل تذکرہ، دریا کے لفظ کا درست املا و تلفظ"سیند" ہے چنانچہ جمع "سیندونہ"۔

  • April 16 کو ترمیم کیا

    میرے خیال سے سنسکرت میں و کی آواز موجود تھی، جو دختر زبانوں میں جا کر بہت سے الفاظ میں ب میں بدل گئی۔ سنسکرت میں و کی موجودگی کی دلیل کے لیے اس زبان کی قدیم ترین کتاب(جو کسی بھی ہندیورپی زبان کی قدیم ترین کتاب ہے) رگ ’و‘ید کا نام ہی کافی ہے۔
    اب آتے ہیں ان الفاظ کی طرف جہاں سنسکرت کا و دختر زبانوں کے ب میں ڈھل گیا۔
    سنسکرت ۔۔۔۔۔۔۔ اردو
    ورشا۔۔۔۔۔۔۔ بارش
    وواہ۔۔۔۔۔۔۔ بیاہ
    ونشاتِ۔۔۔۔۔۔۔ بیس
    ونم (پنجابی: بن)۔۔۔۔۔۔۔ بن
    وِش (زہر)۔۔۔۔۔۔۔ بِس

    یہی نہیں بلکہ پنجابی کے کئی ایسے و والے الفاظ ہیں جو اردو میں ب سے بولے جاتے ہیں۔ مثلاً
    وال۔۔۔۔۔۔۔ بال
    وانہہ۔۔۔۔۔۔۔ بانہہ
    وینا۔۔۔۔۔۔۔ بین
    وجنا ۔۔۔۔۔۔۔ بجنا
    وکھیڑا۔۔۔۔۔۔۔ بکھیڑا

  • کیا سنسکرت میں "ب" تھی؟

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔