مرکب بناتے وقت تلفظ میں تصرف کی اجازت ہے؟

جو تین حرفی الفاظ اول و دوم کی حرکت اور سوم کے سکون کے ساتھ بولے جاتے ہیں مثلا نظر، ہنر،سفر، مرض وغیرہ ۔۔۔ بعض لوگ مرکب بناتے وقت ایسے الفاظ کے وسطی حرف کو ساکن کر لیتے ہیں جیسے نظر کرم ، مرض عصیاں وغیر ۔۔۔۔۔ میرا سوال یہ ہے کہ الفاظ کے تلفظ میں یہ تصرف کس حد تک جائز ہے اور اس کا جواز کیونکر پیدا ہو

تبصرے

  • شاکر صاحب، میرے خیال سے اردو زبان کا صوتی مزاج کچھ ایسا ہے کہ لفظ کا دوسرا حرف اگر متحرک بھی ہو تو اسے ساکن بنا لیتا ہے۔ شاید اردو کے اپنے اصل الفاظ میں دوسرا حرف عام
    طور پر متحرک نہیں ہوتا۔

    کچھ ایسا ہی معاملہ فاصلہ، خاتمہ، سابقہ، جیسے الفاظ میں بھی ہے جہاں تیسرا حرف ساکن کر لیا جاتا ہے حالانکہ وہ عربی میں متحرک ہے۔

  • اس قسم کی تصرف کی ایک مثال ترکیب ’صورتِ حال‘ میں اکثر نظر آتی ہے جس میں لوگ صورت کے ر کو ساکن کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی لوگ صورت میں ر کو مفتوح بولتے ہیں۔

  • صورت حال میں "ر" کو ساکن کرنا محض سہل انگاری ہے. میرے ایک جاننے والے پنجابی بزرگ کے سامنے کسی نے یہ لفظ بار بار "ر" کو ساکن کر کے دہرایا تو وہ بولے، "پتر، سور تے کدی حال نئیں آوندا. بھلے جنی مرضی اوہدے اگے قوالیاں کر لو".

  • اسی طرح اب اچھے خاصے اہل زبان بھی غلطی میں لام کو مفتوح کی بجائے ساکن پڑھتے ہیں جبکہ غلط میں وہ لام کو مفتوح پڑھ لیتے ہیں۔ یہاں ان کا ذکر مذکور نہیں جو غلط اور غلطی دونوں ہی میں لام کو ساکن کردینے کی بڑی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

  • اسی طرح نُکتہ کی جمع نُکات پڑھتے ہیں جبکہ درست ن کسر کے ساتھ ہے نِکات

  • ایسی اغلاط ہمارے یہاں زبان زد عام ہوتی جارہی ہیں ۔۔ کیونکہ اہل زبان بھی سالہا سال سے انہیں دہرا رہے ہیں ۔غلطی میں لام کو ساکن کر دینا اور غلط میں مفتوح پڑھنا اس قدر عام ہو چکا ہے کہ ادب سے وابستگی رکھنے والے اور پڑھا لکھا طبقہ بھی اسے جائزتصور کرنے لگا ہے ۔بہرحال اسی طرح تلفظ میں بھی الفاظ و حروف کی غلط حرکت اور ساکن کرنے کو ہم کسی طور جائز قرار نہیں دے سکتے ۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔