قندہار

اس شہر کے نام کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں

• یہ اسکندر یونانی نے قائم کیا تھا اور اس کا نام الیگزینڈریا رکھا تھا جو بگڑ کر قند1. ہار ب1. ن گیا
• اس علاقے میں پھل کثرت سے پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اسے قند (میٹھا) ہار کہا جانے لگا
• یہ گندھارا سے بگڑ کر بنا ہے۔

تو کیا کہتے ہیں ماہرین بارے اس مسئلہ کے؟

تبصرے

  • اچھا موضوع چھیڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلو کرتے ہیں مل جل کے غور

  • تو احمد سجاد صاحب پھر ہو جائے کچھ؟

  • قندہار میں پھل بکثرت نہیں پائے جاتے۔ یہ گرم صحرائی علاقہ ہے اور یہاں کی اہم پیداوار انار ہے جو خوش رنگ ہوتا ہے مگر ترش۔ غالبا اس میں پالی "وہار" کا لاحقہ ہے جیسے پوٹھ وہار، وسنت وہار وغیرہ جو غالبا بدھ مت کی عبادت گاہ ہوتی ہے۔ قند شاید ترکی الاصل ہے جیسے تاش قند، سمر قند، یار قند۔ اس کی اصل مجھے معلوم نہیں۔

  • ماہرین واقعی یہ کہتے ہیں کہ قند ترکی الاصل لفظ ہے اور وہاں شہر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، یہی لاحقہ تاشقند میں بھی موجود ہے۔ آزربائیجانی میں اس سے مراد گاؤں ہے۔

    تاہم معاملے کو مزید ’کھودیں‘ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کی جڑیں فارسی مصدر ’کندن‘ سے جا ملتی ہیں، یعنی کھودنا۔ وجہ شاید یہ رہی ہو کہ شہر پہاڑیوں یا ٹیلوں کو کھود کر بنائے جاتے تھے، مثال کے طور پر پیٹرا۔

    اس مفروضے کو مزید تقویت یوں ملتی ہے کہ کند پروٹو انڈو یورپین میں کن ملتا ہے جو کھودنے کے معنی ہی میں ہے۔

    عین ممکن ہے پنجابی/ ہندکو ’کند‘ بمعنی دیوار بھی اسی قبیل کا لفظ ہو کیوں کہ دیوار پتھر یا ٹیلے کو تراش کر بھی بنائی جا سکتی ہے۔

    مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ فارسی مصدر کندن ہی سے لفظ خانہ بنا ہے، یعنی گھر۔

    دوسری طرف اس سے ملتا جلتا لفظ کھنڈ ہے، جیسے اترکھنڈ۔

    تو یہ تھی قند کی کہانی۔ اگر آپ چاہیں تو اسے کوہ کندن و کاہ برآوردن بھی قرار دے سکتے ہیں۔

  • مزید یہ کہ پشتو میں "کندہ" گڑھے کو کہتے ہیں۔ چنانچہ پورا پشاور آج کل بی آر ٹی کی برکت سے "کندے کپرے" بنا ہوا ہے۔ مزید تر یہ کہ عربی لفظ "خندق" کا کوئی اشتقاق عربی میں نہیں ملتا۔ سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ یہ ترکیب حضرت سلمان فارسی نے سجھائی تھی۔ سلمان فارسی کا اصل مجوسی نام "روز بہ" بتایا جاتا ہے۔ شلمان نام کا خطہ آج بھی افغانستان میں موجود ہے۔ پہلے بھی بات ہوئی تھی کہ عرب لوگ قاف قرشت ادا نہیں کرتے۔ اس کی جگہ ایک جھٹکے دار "ہمزہ" یا "گاف" بولتے ہیں۔ کیا عجب کہ "کندہ" کو کاتب نے "خندق" سمجھا ہو۔ دیکھیے، اسپِ قیاس آرائی جو قندہار سے چلا تھا، مشرقی افغانستان پہنچ گیا۔

  • بہت دلچسپ۔ کندہ کو خندگ بڑی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کیوں کہ قدیم اور وسطی فارسی میں ہائے مختفی پر ختم ہونے والی کئی الفاظ میں ہ کی جگہ گ آتا تھا۔ مثال کے طور بندہ دراصل بندگ تھا، زندہ زندگ اور بچہ بچگ تھا۔ بعد میں تلفظ بدل گیا اور گ حذف ہو کر زبر بن گیا، لیکن اسم کی شکل میں گ برقرار رہا، جیسے زندہ سے زندگی، بندہ سے بندگی اور بچہ سے بچگان۔

    ظاہر ہے کہ ابتدائے اسلام کے دور میں وسطی فارسی کا چلن تھا اور عین ممکن ہے اس وقت کندہ کا تلفظ کندگ ہی کیا جاتا ہو، جو معرب ہو کر خندق بن گیا۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔