دوائی یا دوا؟

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ لفظ دوائی کہنا یا لکھنا غلط ہے، اصل لفظ دوا ہے اور ایسے ہی بولا/لکھا جانا چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے، کیا دوائی غلط ہے؟

تبصرے

  • اردو میں وقت کے ساتھ ساتھ پرانے اسما اور مصادر سے نئے الفاظ بنانے کا رجحان کسی بھی زندہ زبان کی طرح حوصلہ افزا حد تک موجود ہے۔کسی نئے لفظ کو رد کرنے کے لیے کسی مضبوط دلیل کا ہونا ضروری ہے۔یا تو وہ لفظ بنیادی قواعد کے خلاف ہو یا خلاف جمالیات ہو۔ہم نے عجز سے عاجزی بنایا ہے تو دوا سے دوائی میں کوئی حرج نہیں۔جب کہ بعض اوقات جو مفہوم لفظ دوائی ادا کرتا ہے وہ لفظ دوا ادا نہیں کرتا ۔دوائی میں ایک طرح کی تصغیر بھی پائی جاتی ہے جو اسے دوا کے باقی مفاہیم سے ممتاز کرتی ہے

  • راضی صاحب، کسی نئے لفظ کو رد کرنے کے لیے ایک ہی دلیل کافی سمجھی جاتی ہے کہ وہ مستعمل نہیں، یا اہلِ زبان کی زبان پر نہیں۔ جو لفظ عوام کی زبان پر چڑھ جائے تو پھر ساری دلیلیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ دنیا کی تمام زبانیں اسی طریقے سے آگے بڑھتی ہیں۔ ورنہ اگر زبان کی صحت پر اصرار کیا جائے تو زبان فاسل بن کر رہ جآئے گی۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔