واحد جمع اور زبانوں کے دور مار رشتے

اردو میں الفاظ کی جمع بنانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ لفظ کے آخر میں اں کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسے لڑکی سے لڑکیاں، بجلی سے بجلیاں (یہ الفاظ ارادتاً نہیں اتفاقاً اکٹھے آئےہیں)، پہاڑیاں، گلہریاں، ندیاں، چارپائیاں، کرسیاں، وغیرہ۔ آپ نے دیکھا کہ جن الفاظ کی جمع اس طور سے بنتی ہے وہ ی پر ختم ہوتے ہیں۔

ایک اور ملتا جلتا طریقہ اں کی بجائے ’یں‘ کا اضافہ ہے، جو ان الفاظ میں استعمال ہوتا ہے جو ی پر ختم نہیں ہوتے، جیسے زمینیں، نہریں، میزیں، عمریں، پنسلیں، کاریں، موٹریں، چپلیں،چٹانیں، آنکھیں، ٹانگیں، وغیرہ۔

عجیب بات یہ ہے کہ یہ کارروائی صرف مونث الفا ظ کے ساتھ برتی جاتی ہے، اور مذکر الفاظ کسی خصوصی صنفی نحوی استثنا کے باعث اس اضافی آں این (بلکہ آناکانی )سے محفوظ و مامون رہتے ہیں: پہاڑ، درخت، پتھر، سمندر،سورج، چاند، شیر، پلنگ، کان، ناک، سر، ہاتھ، بازو۔ یہی نہیں بلکہ وہ مردانہ الفاظ جو ی پر ختم ہوتے ہیں، انھیں بھی یہی استثنا حاصل ہے کہ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاتی: دھوبی، نائی، تیلی، مستری، ہاتھی، وغیرہ۔

البتہ وہ مذکر الفاظ جو ا یا ہ ( بعض اوقات ع )پر ختم ہوتے ہیں، ان کی جمع کے لیے الف اور ہ کی جگہ ے لگا دیا جاتا ہے: کتے،گینڈے، گھوڑے، گدھے، کرتے، ڈنڈے، رسے، رشتے ناطے، موقعے، وغیرہ۔

اں اور یں سے جمع بنانے کا قاعدہ دکنی زبان میں زیادہ عام ہے، بلکہ دور کیوں جائیں، ہم نے خود اپنے کانوں سے ایک حیدرآبادی سےاس نوعیت کا فقرہ سنا: کاراں کی پچھلیاں سیٹاں پر جیناں کی پینٹاں، یعنی کاروں کی پچھلی سیٹوں پر جینز کی پینٹیں

بلکہ ایک زمانے میں تو ’کی‘ کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھ کر جمع کیاں بنا دی جاتی تھی۔
ایک پڑوسی ملک کی بعض زبانوں مثلا ً بھوج پوری اور برج بھاشا میں مذکر کی جمع بھی ن لگا کر بنائی جا سکتی ہے، مثلاً گھوڑا سے گھوڑن۔

فارسی کا تعلق بھی آریائی خاندان سے ہے، اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اس زبان میں بھی مخصوص حالات جمع کے لیے ان (قدیم فارسی میں اں) آتا ہے۔ چنانچہ دوستان،مردان، بزرگان، بچگان، بندگان، رفتگان۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ سبھی الفاظ انسانوں سے متعلق ہیں، ورنہ فارسی میں غیر انسانی اسما کے لیے عام طور پر ہا آتا ہے۔ اسی لیے اگر گذشتہ کی جمع گذشتہ ہا کا مطلب ہو گا ’گزری ہوئی چیزیں،‘ جب کہ گذشتگان سے مراد’ گزرے ہوئے لوگ‘ ہو گا۔

(یاد رہے کہ فارسی میں جو الفاظ ہائے مختفی پر ختم ہوتے ہیں، ان کی جمع میں ان سے پہلے گ کا اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن وہ کہانی پھر کبھی۔)

اب ایک لمبا چکر کاٹ کر یورپ کا رخ کریں اور یورپ کے بھی انتہائی مغربی کنارے یعنی انگلستان کا، تو پتہ چلے گا کہ یہاں بھی این کی مدد سے جمع بنائی جاتی ہے، یا یوں کہنا چاہیے کہ ایک زمانے میں عام طور پر بنائی جاتی تھی، آج اس کی گنتی کی مثالیں رہ گئی ہیں

Oxen
Children
Brethren

پرانی انگریزی میں یہ چلن خاصا عام تھا۔ بلکہ جرمن میں، جو انگریزی کی سوتیلی بہن ہے، یہ آج بھی عام ہے

das Auge → die Augen (eye → eyes)
der Name → die Namen (name → names)
die Lehre → die Lehren (doctrine → doctrines)

یہ ساری زبانیں انڈویورپی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے ان کی گرامر میں تطابق سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن اچنبھے کی بات یہ ہے کہ ایک بالکل الگ خاندان کی زبان میں یہ طریق موجود ہے، یعنی عربی میں۔

دراصل عربی کا معاملہ خاصا گنجلک ہے کہ یہاں دو قسم کی جمعیں ہیں اور مونث مذکر کے لیے الگ قاعدے ہیں۔ لیکن اس پیچیدگی سے صرفِ نظر کرتے ہوئے طائرانہ نظر سے دیکھیے تو پتہ چلے گا کہ اس زبان میں بھی جمع بنانے کے متنوع طریقوں میں سے ایک عام رواح یہ ہے کہ لفظ کے بعد ین لگاتے ہیں، چنانچہ مشرق سے مشرقین، مسلم سے مسلمین۔ اسی طرح جانبین، طرفین، ساقین، مشرکین، مومنین، وغیرہ۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ زبانیں خاندانوں کی سطح پر بھی ایک دوسرے سے بالکل کٹی ہوئی نہیں ہیں، بلکہ ان میں قدیم اور گہرے رشتے موجود ہیں۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔