خشوگی، خاشقجی یا قاشقچی؟

October 21 کو ترمیم کیا میں یہ لفظ کہاں سے آیا؟

آج کل خبروں میں جمال خاشقجی کا نام بہت سننے پڑھنے میں آ رہا ہے جنھیں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

ان کے نام کو اردو میڈیا کبھی خشوگی اور کبھی خشوگجی لکھ رہا ہے (درست خاشقجی ہے)، لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں ہمارے مطلب کی دلچسپ چیزیں برآمد ہو سکتی ہیں۔

پرانی اردو کا ایک لفظ ہے قاشق، جس کا مطلب لغات میں چمچہ/ڈوئی لکھا ہے۔ لغتِ کبیر میں اس کی سند میں انشا اللہ خان انشا کا شعر بھی درج ہے:

مینائے مئے سرخ یہ ساقی سے کہے ہے
ایک قاشقِ خوں رکھتے ہیں جو چاہے سو پی لے

اردو میں تو قاشق عرصے سے دیکھنے میں نہیں آیا، لیکن یہی لفظ تھوڑے سے تغیر کے ساتھ پشتو میں آج بھی استعمال ہوتا ہے کاشوکہ، اس کا مطلب چمچ ہے۔ اسی طرح ہندکو میں بھی کاشک چمچ کو کہتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ یہ لفظ صرف بڑے بوڑھوں کی زبان پر رہ گیا ہے، نئی نسل صرف چمچ کہتی ہے۔

لغات میں یہ بھی درج ہے کہ یہ لفظ دراصل ترکی زبان سے آیا ہے اور وہاں یہ لکڑی کی چمچ کو کہا جاتا تھا۔
تو خشوگی یا خاشق-جی میں جو خاشق ہے، وہ دراصل قاشق ہے۔ جہاں تک بات جی کی ہے، تو وہ بھی ترکی کا لاحقۂ فاعلی چی ہے (جو عربی میں چ کی آواز نہ ہونے کی وجہ سے جی بن گیا)، یعنی پہلے آنے والے لفظ کے فاعل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اردو میں اس کی کئی مثالی ہیں جیسےطبلچی: طبلہ بجانے والا، ڈھنڈورچی، نقارچی، خزانچی، افیمچی، عرابچی، مشعلچی، وغیرہ۔

آپ جانتے ہیں کہ ترکی اور منگولیائی زبانیں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، چنانچہ منگولیائی میں چی کے مقابلے پر ’جن‘ کا لفظ ہے۔ آپ نے سنا ہو گا کہ چنگیز خان کا اصل نام تیموجن تھا۔ تیمو = لوہا، اور جن بنانے والا، یعنی لوہار۔ (ویسے لوہار کو ترکی میں ڈیمرچی کہا جاتا ہے۔ ڈیمر = لوہا اور چی سے آپ واقف ہیں)
اس کی روشنی میں قاشقچی کا مطلب ہوا چمچ بنانے والا۔

تو کہانی کچھ یوں ہے کہ جمال خاشقچی (قاشقچی) نسلاً ترک ہیں۔ جس زمانے میں سعودی عرب سمیت تمام مشرقِ وسطیٰ عثمانیوں کے زیرِ نگیں تھا، اسی زمانے میں ان کا خاندان جدہ جا بسا تھا۔ یہ خاندان مختلف ادوار میں نمایاں خدمات سرانجام دیتا رہا۔ انھی جمال خاشقجی کے خاندان کے ایک اور فرد عدنان خاشقجی مشہور ارب پتی تھے اور ایک زمانے میں انھیں دنیا کا امیر ترین مسلمان کہا جاتا تھا۔

اور آخر میں ایک اور دلچسپ بات: اگر آپ ترکی اخباروں میں دیکھیں تو آپ کو جمال قاشقچی کا پیشہ گزٹچی (گزٹ-چی) لکھا نظر آئے گا۔

گزٹ چی، کا مطلب؟ گزٹ = اخبار، اور گزٹچی، اخبار والا، یعنی صحافی۔

ہے نے دلچسپ بات؟

تبصرے

  • October 21 کو ترمیم کیا

    یہ معروض کل سے دوستوں کے گوش گزار کر رہا ہوں لیکن یہاں ہر کوئی بزعم خود ماہرِ عربیات ہے۔ عرب ممالک میں ترکی النسل لوگوں کے ایسے نام بہت عام ہیں۔ میرے ایک ہم کار کا نام "قہوہ جی" اور دوسرے کا "زنبرک جی" ہے۔ قہوہ جی صاحب کے جّدِ امجد سوریا میں پہلی کافی پیسنے کی مشین لائے تھے۔ زنبرک عربی میں لوہے کے "سپرنگ" کو کہتے ہیں۔ پاکستانی فلموں میں اسی کی دہائی میں ایک ترک اداکارہ کام کرتی تھیں۔ نازاں ساعتچی۔ ان کا خاندانی پیشہ گھڑیوں کی مرمت کا رہا ہوگا۔ برطانیہ کی مشہور لابی انگ کی کمپنی ہے "ساچی اینڈ ساچی"۔ مجھے ایک محقق دوست نے بتایا کہ یہ اصلا بغدادی یہودی ہیں اور "ساچی" ساعت چی کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے علاوہ "بیرق دار" [جھنڈا اٹھانے والا] بھی ہے۔ ایک رفیق کار کا نام "افادار" ہے، جس کی تحقیق نہیں ہو پائی کہ "افا" کیا ہوتا ہے۔

  • بہت عمدہ معلومات۔
    شکریہ ظفر صاحب
    @Zafar sahib
  • October 26 کو ترمیم کیا

    قاضی صاحب، گھڑی ساز کمپنی ساچی کا حوالہ نہایت دلچسپ ہے۔ اس سے یاد آیا کہ کہ آپ کو نازاں سانچی کا نام یاد ہو گا۔ یہ عفیفہ 80 کی دہائی میں پاکستانی سکرینوں پر جلوہ افروز ہوا کرتی تھیں۔

    یادیں (اور ایمان) تازہ کرنے کے لیے یہ دیکھیے:

    ان محترمہ کا نام پاکساتی فلموں میں سانچی لکھا جاتا تھا لیکن ترکی میں دیکھا تو

    Nazan Saatçi

    نظر آیا۔ چنانچہ گمان کہتا ہے کہ یہ وہی ساعت چی ہیں، کسی پاکستانی فلمی بزرجمہر نے ساتچی کو صوتی طور پر کرخت جان کر سانچی کر دیا۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔