اوکسفرڈ انعامی مقابلے میں دوسرے نمبر پر آنے والی کہانی

ایک واقعہ جس نے مجھے اردو سے محبت پر مجبور کر دیا

تحریر: قرۃ العین

ُاس طوفان نے پُرسکون پانی میں ایسا تلاطم پیدا کیا کہ بچتے بچاتے بھی بالآخر کشتی اُلٹ ہی گئی۔کچھ پتہ نہیں کہ ڈوبتے ہوئے کِس نے کیا الفاظ ادا کئے لیکن مجھےبعد میں بھی یاد رہا کہ میرےآخری الفاظ کیاتھے۔

"مجھے زندہ رہناہے۔"

یہ جُملہ فضاؤں نے سُنا،اُڑانے بھرتے پرندوں نے سُن کر خوشی سے کلکاریاں ماریں۔طوفان دم بخود رہ گیا۔مچھلیاں ساکن اک دوجے کو دیکھتی رہیں۔لہروں نے اپنے شور کے باوجود یہ الفاظ سن لئے اور یکایک اُنھیں جوش چڑھا تو مجھےاپنے جلو میں لئے ساحل پہ لے جا ڈالا۔اور جب میری آنکھ کھُلی تو میں نے خود کو ایک جھونپڑی میں پرالی پہ پڑے ہوئے پایا۔ میرے پاس تین افریقی مرد اور ایک عورت موجود تھیں۔ میں نے ہوش میں آتے ہی وہی قدیم فلمی مکالمہ بولا۔

"میں کہاں ہوں؟"

لیکن افسوس کہ کسی نے میرےسوال کا جواب نہ دیا بلکہ وہ سب ٹُکر ٹُکر میری اور دیکھا کئے۔مجھے ایک پیالے میں کسی قسم کا مشروب پینے کے لئے دیا گیا اور باوجود ہچکچاہٹ کے میں نے وہ مشروب پی لیا کہ میں حقیقتاََ بہت پیاس محسوس کر رہا تھا۔ مشروب پیتے ہی مجھے بہت خوش کن سا احساس ہوا۔لیکن اگلے ہی لمحے یہ سوچ کر افسردہ ہوگیا کہ مین نجانے کہاں پھنس گیا ہوں اور میرے ساتھیوں کا کیا بنا ہوگا۔

کچھ دیر بعد مجھے کھانے کے لئے چاول کی کوئی ڈش پیش کی گئ۔ میں نے وہ چاول بھی کھا لئے اور پھر مجھ پہ غنودگی طاری ہوگئی۔ اگلے دن جا کے میری آنکھ کھلی۔ میں ہچکچاتے ہوئے باہر نکلا۔ راستے میں مجھے جو بھی ملتا اپنی زبان میں کچھ کہتا اور میں جواب نہ دے پاتا۔ ایسے میں مجھے بہت بے بسی محسوس ہوئی۔وہ تھوڑا سا ہی چلا ہوں گا کہ پھر سے اُسی جھونپڑی میں واپس آگیا۔

دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدلتے گئے۔مجھے بھی اُن کی زبان کچھ کچھ آنے لگی لیکن میرا بےحد جی چاہتا تھا کہ کسی سے اردو میں بات کروں۔ کبھی کبھی میں خود سے باتیں کرنے لگتا تھا ۔لیکن اِس طرح بالکل مزہ نہ آتا تھا ۔ وہ لوگ بہت اچھے تھے۔ زبان نہ آنے کے باوجود اشاروں سے کچھ نہ کچھ کام چل جاتا تھا۔

ایک دن یونہی آوارہ گردی کر رہا تھا کہ گھومتے گھومتے دور جا نکلا ۔ایک درخت کے نیچے ایک بہت بوڑھا شخص بیٹھا ہوا نظر آیا۔ میری زبان پہ ایک شعر کافی دیر سے چڑھا ہوا تھا۔اپس وقت بھی لاشعوری طور پہ میں نے مصرع پڑھا۔

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں

دوسرا مصرع مجھے کہیں اور سے سنائی دیا:

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

میں نے غور کیا تو دوسرا مصرع اُس بوڑھے شخص نے ادا کیا تھا۔ میرا دل اردو کی محبت سے سرشار ہوگیا۔ اتنے میں کچھ شور ہوا تو میں نے اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی اور آتے ہوئے دیکھا۔ کچھ دیر بعد میں نم آنکھوں سے اپنے میزبانوں کو الوداع کہہ رہا تھا۔

تبصرے

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔